تقدیر اور نصیب میں فرق

تقدیر اور نصیب میں فرق امام علی اپنے چاہنے والوں کے نزدیک فرما رہے تھے کے تقدیر اور نصیب میں فرق ہے کچھ چیزیں تقدیر میں ہوتی ہیں تو کچھ نصیب میں تو کسی نے کہا یا علی ہمیں کیسے پتا چلےگا کہ تقدیر اور نصیب میں کیا فرق ہے بس یہ کہنا تھا

تو امام علی نے فرمایا اے شخص تقدیر پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا جیسے تم اپنی ماں تبدیل نہیں کر سکتے جو تماری ماں ہے زندگی بھر وہی رہے گی تم اپنا باپ تبدیل نہیں کر سکتی تم اپنے پیدا ہونے کے لمحات تبدیل نہیں کر سکتی جس جس فیصلے میں انسان کا اختیار نہ ہو وه تقدیر ہے اور نصیب یہ ہے کے قدم قدم پہ انسان کے سامنے صحیح اور غلط کا فرق واضح ہے جو جو فیصلے انسان اپنے لۓ کرتا ہے جس جس چیز پہ انسان اپنا اختیار رکھتا ہے

وه سارے فیصلے انسان کے آنے والے نصیب کو بہتر یا بدتر بناتے ہیں تو اس نے کہا یا علی مثلا تو امام علی نے فرمایا جیسے کے والدین اپنی اولاد کو پڑھانا چاہتے ہیں لکین اولاد اپنے علم پہ توجہ دینے کی بجاے اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتی رہے تو یہ اس کا فیصلہ ہے قدرت کا نہیں اس غلط فیصلے کے کے انجام کو نصیب کہتے ہیں

اے شخص یاد رکھنا اللّه انسان کا برا نہیں کرتا انسان کے غلط فیصلے اسکا برا کرتے ہیں تو اسنے کہا یا علی اگر کوئی سہی فیصلے کرتا رہے پھر بھی اسکی زندگی تکلیفوں سے بھر جائے تو پھر امام علی مسکرانے لگے اور فرمانے لگے

اے شخص یاد رکھنا اللّه جس بندے کو زیادہ دینا چاہتا ہے نوازنا چاہتا ہے تو پہلے اسے اس منزل کے قابل بناتا ہے تو قابل بنانے کے لیے اسکا سیکھنا درکار ہے یاد رکھنا اللّه جسکو سیکھانا چاہتا ہے تو اسے نہ کسی مکتب بھجتا ہے نہ کسی استاد کے پاس بلکے اسے تکلیفوں کا زیور پہنا تا ہے

کیونکہ زمین پہ انسان کو سیکھانے کے لیے سب سے بہتر استاد تکلیف ہے اللّه اسکی تقدیر میں تکلیف اس لیے لکھتے ہیں تا کے وه تکلیفیں دیکھ دیکھ کے اس منزل کے قابل ہو جائے جو منزل اللّه نے اس کے لیے رکھ دی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *