”وظائف پڑھنے کی شرائط اور آداب“

ہر عمل کرنے والے کو لازم ہے کہ ان آداب کا بھی لحاظ خیال رکھے ورنہ دعاؤں اور وظیفوں کی تاثیرات میں کمی ہو جانا لازمی ہے

آداب دعا اور وظائف کی تعداد یوں تو بہت زیادہ ہے مگر ہم ان میں سے چند نہایت ہی اہم اور ضروری آداب کا تذکرہ کرتے ہیں جو یہ ہیں۔بارگاہ حق میں عجزونیاز: یعنی ہر عمل کرنے یا تعویذات لکھنے کے وقت نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ خداوند قدوس کی بارگاہ میں عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرے۔

صدقہ و خیرات: یعنی ہر عمل اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرے۔درود شریف: یعنی ہرعمل ہر وظیفہ کے اول و آخر درود شریف کا ورد کرے ۔ بار بار دعا مانگے: یعنی وظیفوں کے بعد جب اپنے مقصد کے لئے دعا مانگے تو ایک ہی مرتبہ دعا مانگ کر بس نہ کر دے بلکہ بار بار گڑگڑا کر خدا سے دعا مانگے۔تنہائی: یعنی جہاں تک ہو سکے ہر دعا اور وظیفہ وغیرہ عملیات کو تنہائی میں پڑھے جہاں نہ کسی کی آمد و رفت ہو نہ کسی کی کوئی آواز آئے۔

کسی کو نقصان نہ پہنچائے: یعنی کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر گز ہرگز نہ کوئی عمل کرے نہ کوئی وظیفہ پڑھے۔خوراک میں کمی: یعنی جب کوئی عمل کرے یا وظیفہ پڑھے تو اس دوران میں بہت کم کھائے اورسادہ غذا کھائے بھر پیٹ نہ کھائے کیونکہ پیٹ بھرے لوگ دعاؤں کی تاثیر سے اکثر محروم رہتے ہیں۔پاکی اور صفائی: اعمال اور وظائف پڑھنے کے دوران بدن اور کپڑوں کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا خاص طور پر خیال و لحاظ رکھے بلکہ خوشبو بھی استعمال کرے

اور ظاہری پاکی و صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار اور باطنی صفائی کا بھی اہتمام رکھے۔پاک روشنائی: جو تعویذ لکھے وہ زعفران سے لکھے یا ایسی روشنائی سے لکھے جس میں سپرٹ نہ پڑی ہو بلکہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی روشنائی ہونی چاہے جو زمزم شریف میں گھولی ہوئی ہو یا دریاؤں کے جاری پانی میں۔اچھی ساعت اچھی نیت: ہر عمل اچھی ساعت میں کرے اور ہر تعویذ اچھی ساعت میں قبلہ رو ہو کر لکھےاور تعویذ لکھتے وقت ہر گز کوئی طمع اور لالچ دل میں نہ لائے بلکہ اخلاص کے ساتھ تعویذ لکھ کر حاجت مندوں کو دے ہاں اگر لوگ اپنی طرف سے تعویذوں کا نذرانہ خوشی کے ساتھ پیش کریں تو اس کو رد نہ کرے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا

تو اپنے دست قدرت سے اپنی ذات کے لئے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *