سورت الکافرون کے کمالات

حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قل یا یھا الکافرون”یعنی سورت الکافرون چوتھائی حصہ کے برابر ہے۔ ایک او رحدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص حضرت محمد ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے کسی چیز کی تعلیم دیجیے۔جسے میں سوتے وقت پڑھا کرو۔

آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ۔ تو سورت الکافرون پڑھا کرو۔ اس کے بعد سو جایا کرو۔ کیونکہ یہ شرک سے بیزاری ہے۔ چوتھائی قرآن کی تابیش ہے اس بنا پر ہے قرآن کا تقریباً کو چوتھا حصہ شرک وبت پرستی کی نفی میں ہےاور اس کا نچوڑ اور خلاصہ اس سورت میں آیا ہے۔ اور سرکش شیاطین کا دور ہونا اس بنا ء پر ہے کہ اس سورت میں مشرکین کی پیش کش کو ٹھکرادیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ شرک ش یطان کا اہم ترین آلہ ہے۔ قیامت میں نجات پہلے درجہ میں توحید اور شرک کے مرہون منت ہے۔ اسی مطلب کے محور یہ سورت گردش کرتی ہے۔

اسی طرح ایک اور روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبیربن طعم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تو اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ جب تو سفر پر جائے توزاہد راہ اورتوشہ کے لحاظ سے اپنے ساتھیوں میں سب سے بہتر ہو۔ انہوں نے عرض کی ہا ں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ رسول اکرمﷺ فرمایا:ان پانچ سورتوں کو پڑھا کرو۔ سورت الکافرون ، سورات الناس، سورت الفلق اور سورت اخلاص پڑھا کرو۔ اور اپنے قرآت کی ابتداء ” بسم اللہ ” سے کیا کرو۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کہ فجر کی سنتوں میں پڑھنے کے لیے دو سورتیں بہترین ہے۔ سورت الکافرون اور سورت اخلاص۔ یہ روایت ابن ہشام سے نقل کی گئی ہے اور تفیسر ابن کسیر متعد د صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو صبح کی سنتوں اور مغر ب کی سنتوں میں بکثرت یہ دو سورتیں پڑھتا ہوا سنا ہے ۔

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ سے عرض کیا ہمیں کوئی دعابتا دیجیے۔ جو ہم سونے سے پہلے پڑھا کریں۔ آپ ﷺ نے “قل یا یھا الکافرون”پڑھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا: یہ شر ک سے برات ہے۔ اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا اے فلاں! کیا تم نے شادی کی ہے اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں نے شادی نہیں کی۔ اور میرے پاس شاد ی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیاتجھے سورت اخلاص یا د نہیں ہے

تو اس نے کہا کیوں نہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تہائی قرآن ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیاتجھے سورت النصر یا د نہیں۔ اس نے کہا کیوں نہیں ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ وہ چوتھائی قرآن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے “قل یا یھا الکافرون” یاد نہیں ، تو اس نے کہا کیوں نہیں ۔ تورسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ چوتھائی قرآن ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیاتجھے “اذ زلزلت الارض “یادنہیں ، تو اس نے کہاکیوں نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ چوتھائی قرآن ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: شادی کرلو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *