اچھے لوگوں کا تمہاری زندگی میں آنا ؟

معاف کرنا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے ، جو سزا دینے پر قادر ہو۔ایسے شخص کے ساتھ غداری کتنی بری ہے جس نے خود کوتمہارے سپرد کر دیا ہو۔عقل مند ہے وہ شخص جو انجام سوچ کر کام کریں۔کائنات کی سب سے مہنگی چیز احساس ہے جو دنیا کے ہر انسان کے پاس نہیں ہوتا۔ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو کیونکہ یہ خیرو برکت کے زوال کا باعث ہے۔اچھے لوگوں کا تمہاری زندگی میں آنا تمہاری قسمت ہوتی ہے ، اور انہیں سنبھال کر رکھنا تمہارا ہنرجسے تقدیر پر یقین ہوتا ہے وہ اپنے اوپر نازل ہونے والی مصیبتوں سے نہیں گھبراتا۔صبر کی دو صورتیں ہیں : 1۔جو ناپسند ہو اسے برداشت کرنا، 2۔اور جو پسند ہو اس کا انتظار کرنا۔جو حق سے منہ موڑتا ہے تباہ ہوجاتا ہے ۔

اگر انسان کو تکبر کے بارے میں اللہ پاک کی ناراضگی اور سزا کا علم ہوجائے تو بندہ صرف فقیروں اور غریبوں سے ملے اور مٹی پر بیٹھا کرے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیسے پتہ چلے کہ کون کتنا قیمتی ہے؟ فرمایا : جس انسان میں جتنا زیادہ احساس ہو وہ اتنا ہی زیادہ قیمتی ہے۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا،

اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *