آنے والی نسلوں کیلئے بہتر پاکستان چھوڑنا ہے ، وزیراعظم عمران خان

لاہور( این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راوی ریور جیسے منصوبے عزم سے بنتے ہیں ، یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے اہم منصوبہ ہے ،ہمیں پہلے دن سے معلوم تھاکہ یہ انتہائی مشکل منصوبہ ہے اگر یہ منصوبہ مشکل نہ ہوتا تو پرویز مشرف کے دور میں بن جاتا یا اس کے بعد پنجاب سپیڈ شہباز شریف نے بنا لینا تھا لیکن وہ نہیں بناسکے ،اس منصوبے سے
ہماری معیشت میں 40ارب ڈالر شامل ہوں گے اور اس سے 10لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ،اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بہتر پاکستان چھوڑنا ہے تو ہمیں پاکستان کو سر سبز بنانا ہوگا ، ہم شجر کاری میں ٹیکنالوجی کو لے کر آرہے ہیں جس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکھ جھوک جنگل شیخوپورہ میںسمارٹ فاریسٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے شیخوپورہ کے رکھ جھوک جنگل میں پودا لگا کر پاکستان کے پہلے سمارٹ جنگل کا افتتاح کیا۔ رکھ جھوک جنگل راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک اہم منصوبہ ہے جو 24000 کنال اراضی پر محیط ہے۔یہ پاکستان کا پہلا سمارٹ جنگل ہوگا جو سمارٹ سینسرز اور نگرانی کے نظام سے لیس ہو گا۔ اس موقع پر ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ہواوے کو اس منصوبے کاسمارٹ شراکت دار بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے ۔وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میںوزیر اعلیٰ پنجاب، ان کی ٹیم اور ساری ایڈ منسٹریشن کو اور خاص طو رپر عمران امین کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے ، ہم اس راستے پر نکلے ہوئے ہیں اوروہ کام کرنے جارہے ہیں جسے انشااللہ سیاستدان اورایڈ منسٹریٹر زبھی دیکھیں گے ،یہ ممکن ہے کہ آپ ایک نیا ماڈرن شہر بھی بنا سکتے ہیں ،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے جو شجر کاری کا آغاز کیا ہے آپ ان کو بتا سکتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کے لئے بہتر پاکستان چھوڑنا ہے تو اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ ساری قوم مل کر اپنے اللہ کے سامنے یہ عہد کر لیں کہ ہم نے اپنے ملک کو سر سبز ا کرنا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی زیادہ نعمتیں بخشی ہیں ہم ان نعمتوں کا شکر ان کا دھیان رکھ کرکر سکتے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ میں لاہور میں بڑھا ہوا ہے میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے جنگلات کو تباہ ہوتے دیکھا ہے ، وائلڈ لائف میں ہر قسم کا جانور تھا لیکن جیسے جیسے جنگلات گئے جانور بھی کم ہو گئے،پھر ہم نے لاہور کی ماحولیات کی تباہی دیکھی ،لاہور کا پانی میٹھا سب نلکے کا پانی پیتے تھے ،پھر دیکھتے دیکھتے یہ بھی پانی تباہ ہوا ،لاہور میں اس طرح کی فضائی آلودگی نہیںتھی ،لاہور باغوں کا شہر سمجھا جاتا تھا ، اب یہ حالات آ گئے ہیں
او ریہ سن کر خوف آتا ہے کہ لاہو رشہر میں فضائی آلودگی جس سطح پر پہنچ گئی ہے اس سے ہمارے بچوں اور بوڑھوں کی جانیں خطرے میں ہیں ۔ہمارا پانی نیچے جارہا ہے ،ہم راوی کے اندر سیوریج کا پانی ڈال رہے ہیںجو سمندر میں سندھ تک جاتا ہے ،کیونکہ ہم پانی کو ٹریٹ نہیں کر رہے ۔ راوی ریور منصوبہ صرف لاہور کے مستقبل کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لئے اہم منصوبہ ہے ،ہمیں پہلے دن سے معلوم تھا کہ یہ مشکل ہے کیونکہ اگر یہ مشکل نہ ہوتا تو مشرف کے دور میں
اس کی منصوبہ بندی کی گئی یہ اس وقت بن جاتا ،اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے دور میںپنجاب سپیڈ شہباز شریف نے بنا لینا تھا لیکن وہ نہیں بنا سکا ،اب یہ جو حکومت آئی ہے یہ اس لئے بنالے گی کہ کیونکہ اتنے بڑے منصوبے تب کامیاب ہوتے ہیں جب ایک انسان اعادہ کرتا لیتا ہے کہ ہم کشتی جلا کر جائیں گے ،کتنے مسئلے اورچیلنجز آئے ہیں ،لوگوں نے حکم امتناعی لے لئے جس کی وجہ سے تاخیر جوئی لیکن ہمارا عزم ہے ،ہم ساری رکاوٹیں دور کر بیٹھے ہیں لیکن او ربھی آئیں گی ۔ اصل میں کوئی
منصوبہ شروع کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ رکاوٹیں شروع میں ہوتی ہیں، منصوبے ہمیشہ شروع میں ناکام ہوتے ہیںلیکن جب مومینٹم بن جاتا ہے تو پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم نے جائزہ لیا ہے کہ اس منصوبے سے 40ارب ڈالر ہماری معیشت میں شامل ہوں گے جو کہ تقریبا پاکستان کے سالانہ بجٹ جتنا حجم ہے ، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ہماری انڈسٹری پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے ، تعمیراتی انڈسٹری چلی تو اس کے ساتھ جڑی ہوئی مزید 30انڈسٹریز چلنا شروع ہوں گی،
معیشت پھلے پھولے گی ،آمدن بڑھے گی ، ہم نے جو قرضے دینے ہیں،یہ منصوبہ بہت سے مسائل حل کرے گا، اس سے 10لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزراعلیٰ صاحب آپ کو مشکلو ں کو سامنا کرنا پڑے گا ،آپ کی ٹیم اورایڈ منسٹریشن کو مشکلات کے لئے تیار ہونا چاہیے ، جو بھی رکاوٹ ہو اس کو ہٹانے کے لئے تیار رہنا چاہیے اورعزم ہونا چاہیے کہ ہم کسی صورت بھی اس منصوبے کو روکنے نہیں دیں گے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پہلے ہم نے سمارٹ لاک ڈائون لگایا تو دنیا حیران ہوئی یہ کیا ہوتا ہے اور مذاق بھی اڑایاگیا لیکن اب دنیا میں ہماری مثال دی جاتی ہے
او رکچھ ممالک نے اس میں ہماری پیروی بھی کی ہے ۔ اب سمارٹ فاریسٹ بن رہا ہے، مجھے اس کی بریفنگ لے کر بڑی خوشی ہوئی ہے ، ہم نے اس جنگل میں ہواوے کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے ،اب ہم ہر پودے کی گروتھ دیکھ سکیں گے،ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا آگے بڑھ رہی ہے ، اس کا مثبت اثر ہے ،اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ پودہ کس رفتار سے بڑھ رہا ہے ، نئی ٹیکنالوجی سے معلوم ہو سکے گا پودا کاٹا جارہا ہے ، اگر پودے کی گروتھ میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ اس کا معلوم ہو سکے گا۔
سمارٹ فاریسٹ کے منصوبے کو پورے پاکستان میں مثال بنائیں گے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افسوس سے کہنا کرنا پڑتاہے کہ ہمارے یہاں درختوں کی بڑی تباہی کی گئی ، پاکستان کے قیام سے 2013ء تک سارے پاکستان کی تاریخ میں صرف 64کروڑ درخت اگائے گئے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختوانخواہ میںصرف 2013سے2018ء تک ایک ارب درخت اگائے ہیں،ہم اس منصوبے کو بھی ہدف میں شامل کر رہے ہیں،ہم نے 10ارب درخت لگانے ہیں ، اگر یہ ہدف پورا ہو گیا تو پاکستان بدل جائے گا ،موسم بھی بدل جائے گا ،جب آپ درخت اگاتے ہیں تو اس کے موسم پر مثبت اثرات پڑتے ہیں
اور جب درخت کاٹتے ہیں اس کا بھی موسم پر اثر پڑتا ہے اور وہ منفی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تین بہت بڑے مسئلے ہیں ،سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے بلکہ دنیا میں پانی کا مسئلہ آنے والا ہے ،اس کے لئے درخت اگانے ضروری ہیں ،گلوبل وارمنگ پاکستان کو زیادہ متاثر کر رہی ہے ،پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ میںسب سے زیادہ متاثر ہوں گے ،ہمارے دریائوں میں پانی کم ہوتا جائے گا ،گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں ،شہرو ں میں ماحولیاتی آلودگی ہے ،سیوریج کا پانی
بغیر ٹریٹمنٹ کے دریائوں میں ڈال رہے ہیں اس کے پینے کے پانی پر اثرات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ فاریسٹ میں پہلی دفعہ پلان کر کے ایک کروڑ درخت اگائے جائیں گے جس سے یہ پورا جنگل بن جائے گا ،اس سے لاہور کے شہریوں کوسیاحت کے لئے بھی جگہ میسر آئے گی ، راوی ریور منصوبے کے تحت تین بیراجز بنیں گے جہاں پر پانی کو روکا جائے گا جس سے لاہور کا زمینی پانی اوپر آنا شروع ہو جائے گا ،سیوریج کے پانی کو ٹریٹمنٹس پلانٹس کے ذریعے صاف کر کے دریائوں میںڈالیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *