جسٹس فائز عیسیٰ نے ازخودنوٹس کے دائرہ اختیار اور تعین کیلئے قائم بینچ پر اعتراض اٹھادیا، 15 صفحات پر مشتمل خط منظر عام پر آگیا

اسلام آباد(آن لائن)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخودنوٹس کے دائرہ اختیار اور تعین کے لیے قائم بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنے 15 صفحات پر مشتمل اوپن خط میں موقف اپنایا ہے کہ پانچ رکنی لارجر بینچ بنانے سے قبل دو رکنی بنچ کو آگاہ نہیں کیا گیا،آئین پاکستان میں سپریم کورٹ کے مختلف دائرہ اختیار سماعت درج ہیں،سپریم کورٹ کا ایسا کوئی دائرہ
اختیار نہیں کہ وہ اپنے ہی بینچ کے امور کی مانیٹرنگ شروع کردے،پانچ رکنی معزز بینچ کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار ہی نہیں،اگر پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت جاری رکھی تو یہ آئین سے تجاوز ہوگا،کوئی بھی شہری معلومات تک رسائی یا اظہار رائے کی آزادی کی بات کر سکتا ہے،میرے بینچ نے حکومتی حکام کو جو اعتراض کئے ان پر کسی حکومتی فریق نے اعتراض نہیں کیا،اگر کوئی اعتراض اٹھایا جاتا تو انکو سنا جاتا،رجسٹرار سپریم کورٹ جو سرکاری ملازم ہے وہ بلاشبہ خود کو ایک منصف اور آئینی ماہر سمجھتا ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ نے فوری طور پر نوٹس لیا اور چھ صفحات پر مشتمل نوٹ چیف جسٹس کو بھجوا دیا،ایک بینچ کا دوسرے بینچ کی مانیٹرنگ کرنا غیرآئینی ہے،ہر چیف جسٹس، قائم مقام چیف جسٹس یا جج حلف کے تحت اپنے امور آئین کے تحت سرانجام دینے کا پابند ہے،اگر ایک بینچ دوسرے بینچ کی مانیٹرنگ شروع کردے تو اس سے نظام عدل زمین بوس ہو جائے گا،ماضی میں سابق چیف جسٹس ثاقب
نثار نے سماعت کے دوران بینچ میں موجود اپنے ہی جج کو نکال کر نیا بینچ تشکیل دیا،جسٹس منصور علی شاہ نے بعد میں الگ حکم نامہ جاری کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس معاملے پر تاحال غور نہیں کیا گیا،ماضی کے ایسے عدالتی آرڈر پر توجہ نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ کچھ چیف جسٹس کی خواہش ہے کہ وہ بے لگام اور بلا روک ٹوک
اختیارات کو اپنے پاس رکھیں،چیف جسٹس یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کون سا کیس کس بینچ میں مقرر ہوگا،بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ میں نے کبھی مجوزہ کازلسٹ جاری نہیں کی،سرکاری ملازم کو رجسٹرار سپریم کورٹ تقرر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے،سرکاری ملازم کو رجسٹرار سپریم کورٹ مقرر کرنا جوڈیشل سروس میں موجود افسران
کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے،حیران کن طور پر عدلیہ نے ڈیپوٹیشن پر آئے ملازمین کو واپس بھیجا لیکن ڈیپوٹیشن ملازم رجسٹرار سپریم کورٹ کام کر رہا ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ اس قبل وزیراعظم آفس میں کام کرتے رہے ہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکومت سے ادھار کے طور پر لیا گیا،رجسٹرار سپریم کورٹ کو لانے کا مقصد
حکومتی دلچسپی کے مقدمات فوری فکس کرنا تھا،رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکومت سے ادھار مانگ کر لانے کا مقصد حکومت کے ناپسندیدہ کیسز کو دبا کر رکھنا تھا،ایسے مقدمات کی ایک تفصیلی فہرست موجود ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ کا میرے بینچ کے خلاف نوٹ لکھنا حکومتی مفاد اور اپنے سابقہ ساتھیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے،ازخودنوٹس کے اختیار
سے متعلق نو رکنی بینچ کا فیصلہ موجود ہے،نو رکنی بینچ فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ آرٹیکل 184(3) غیر معمولی دائرہ اختیار رکھتا ہے،موجودہ پانچ رکنی بینچ نو رکنی کا فیصلہ تبدیل نہیں کرسکتا،ایک مرتبہ نامعلوم نمبر سے وصول ہونے والے وٹس ایپ میسیج پر ازخودنوٹس لیا گیا،وٹس ایپ ازخودنوٹس کی وجہ سے قومی خزانے کو 100 ارب روپے
کا نقصان ہوا،جب اس فیصلے پر نظر ثانی ہوئی تو مرکزی بینچ میں شامل جج جسٹس اعجازالاحسن نے اضافی نوٹ لکھ کر نظر ثانی سے اتفاق کیا،ریکوڈک کیس میں پاکستان کو عالمی مقدمہ بازی کا سامنا کرنا پڑا اور 6.4 ارب ڈالر کا جرمانے عائد ہوا،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا عدلیہ میں تقسیم ہے،مجھے فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے
عوامی تاثر کی بنیاد پر طنز کا نشانہ بنایا گیا،وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس میں لارجر بینچ بنا کر جسٹس مقبول باقر کو بینچ سے الگ کر دیا گیا،اس کیس میں جلدبازی میں غیر آئینی حکمنامہ جاری کیا گیا اور چیف جسٹس بینچ سے اٹھ کر چلے گئے،مجھے اس فیصلے میں وزیراعظم کے خلاف مقدمہ سننے سے ہی روک دیا گیا،میرے معزز ساتھی ججز نے
مجھے اپنی بات کہنے کا موقع نہیں دیا،میرے ساتھی ججز سے اب بھی اچھے تعلقات برقرار ہیں،اس عوامی تاثر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو ٹارگٹ نہیں کیا جارہا،اس طرح کے برتاؤ کے باوجود میں نے اپنے ساتھی ججوں سے بہتر برتاؤ روا رکھا ہے،اگر میرے ساتھی ججز کو کوئی اعتراض تھا تو وہ اس معاملے کو بینچ نمبر دو
میں لے کر آتے،حیران کن طور پر یہ معاملہ اتنا خفیہ رکھا گیا کہ مجھے سپریم کورٹ کی بجائے پریس سے معلوم ہوا،24 اگست کے حکمنامہ میں کہا گیا کہ ہم اصل سٹیک ہولڈرز کو سننا چاہتے ہیں،پاکستان کا ہر شہری آزادی صحافت کے لیے سٹیک ہولڈر ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں استدعا کی ہے کہ ان کے خط کی کاپی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *