یورپی یونین نے پی آئی اے سے مدد مانگ لی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )یورپی یونین نے کابل میں پھنسے اپنے لوگوں کے انخلا کے لیے پی آئی اے سے مدد مانگ ‏لی۔یورپی یونین کےپاکستان میں معین سفیر نے سی ای او پی آئی اے کو خط لکھا جس میں کابل ‏میں پھنسے 420 مسافروں کو پاکستان لانےکی درخواست کی گئی ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی امن و امان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ
میرا جرمنی، ہالینڈ، بیلجیئم اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا،مجھے خوشی ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ہمارے نکتہ نظر میں ہم آہنگی پائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کا حامی ہے، موجودہ حالات کے تناظر میں، ہم چاہتے ہیں کہ افغان شہریوں کی جان و مال اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ قیادت کی جانب سے منظر عام پر آنے والے حالیہ بیانات حوصلہ افزا ہیں۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کابل میں جاری مذاکرات کی کامیابی، افغانستان میں دیرپا امن کیلئے ناگزیر ہے، افغانستان میں قیام امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ 90 کی دہائی کی صورتحال سے بچنے کیلئے، افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، اس نازک موڑ پر افغانستان کی تعمیر نو اور افغانوں کی معاشی معاونت کیلئے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، افغانستان سے مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے ورکرز اور میڈیا نمائندگان کے انخلاء میں بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے،اس سلسلے میں یورپی یونین کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ میں جلد خطے کے اہم ممالک کے دورے پر روانہ ہو رہا ہوں تاکہ افغانستان کی موجودہ صورتحال،درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھا جا سکے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،پاکستان، یورپی یونین کے ساتھ کثیرجہتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پر عزم ہے۔‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *