قدرت کا عظیم تحفہ خوبانی

ویسے تو خوبانی کی بیس سے زائد اقسام ہیں۔ تاہم پاکستان میں دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایک خوبانی کارنگ زرد ہوتا ہے

اور یہ چھوٹی ہوتی ہے۔ دوسر ی خوبانی ہلکے پیلے رنگ کی ہوتی ہے۔ اور یہ بڑی بھی ہوتی ہے۔ خوبانی کے دو قسمیں بہت سے غذائی اجزاء سے مالا مال ہیں۔ ایک تازہ خوبانی سولہ حراروں پر جبکہ خشک خوبانی دس ہراروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ خوبانی صحت بخش پھل ہے ۔ کیونکہ ایک خوبانی میں اٹھارہ کیلوریز ، وٹامن ا ے ، بی ، اینٹی آکسیڈ ینٹس، کیلشیم ، بیٹا کیروٹین، پوٹاشیم اور فاسفور س کافی زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ ذائقہ میں آلوچے اور آڑو کی طرح ہوتی ہے۔ آپ کو خوبانی کے لاجواب فوائدسے آگاہ کریں گے۔ خوبانی غذائیتوں اور ذائقہ سے بھر پور ہوتی ہے خوبانی کو تازہ اور خشک دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ خوبانی کا تیل بھی نکالا جاتا ہے۔ اسے ہلکے شکر کے ہمام میں محفوظ کرکے ڈبوں میں بھی بند کیاجاتا ہے۔ خوبانی کا گودا بہت شیریں ہوتاہے۔

اسکے اندر مغز بھی ہوتاہے۔ کچھ لو گ خوبانی کا گودا کھا کر اس کے مغز کو پھینک دیتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس کا مغز خوبانی سے زیادہ غذائیت سے پھربور اور مفید ہوتا ہے۔ خوبانی کے استعمال سے خ ون میں حرارت اور حدت پید ا ہوتی ہے۔ خونی اور بادی بواسیر میں خوبانی کااستعمال مفید ہے۔ اس سے مسوں کی جلن اور چبھن نہیں ہوتی۔ خوبانی قبض کشاء پھل ہے۔ اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے۔ خوبانی کا مربہ بنایا جاتا ہے جومقوی دل ہے جو مقوی معدہ اور مقوی جگر ہوتا ہے۔ مختصراً انسانی جسم کےلیے اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ جیسا کہ بینائی کو بہتر کرتی ہے۔ خشک خوبانی میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو اچھی بینائی کےلیے ایک ضروری جزو ہے۔ وٹامن اے ایسا طاقت ور اینٹی آکسیڈینٹس ہے جو جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کو خارج کرنےمیں مدد دیتا ہے جبکہ خلیات اور ٹشوز کی صحت بہتر کرتا ہے۔ فری ریڈیکلز انسانی قرینے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

وٹامن اے اس نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرتی ہے۔خشک خوبانی میں کیلے کےمقابلے میں تین گنا زیادہ پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔ جبکہ نمک نہ ہونے کے برار جو اسے بلڈ پریشر کو صحت مند سطح رکھنے میں مدد دینے والی سوغات بناتا ہے۔ مسلز بناتی ہے۔ پوٹاشیم میٹا بولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ٹشوز کی صحت کےلیے بھی فائدہ مند ہے۔یہ عمل مسلز بنانے کےلیے ضرور ی ہوتا ہے۔ اس سوغات سے جسم میں ایسڈ کی سطح کو ریگو لیٹ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ جو کہ پروٹین کے جذب ہونے کا عمل بہترکرتا ہے۔ ہڈیاں مضبوط بناتی ہے۔ اس میں کیلشیم بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ کیلشیم ہماری ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے سب سے ضروری جزو ہے۔ لہٰذ ا کیلشیم کی حصول کے لیے جسمانی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے خشک خوبانی کااستعمال ضرور کریں۔ لیکن مناسب مقدار میں اور زیادہ مت کھائیں۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے جو ہمارے جسم میں کیلشیم کی تقسیم کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ تمام عوامل ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کینسر سے بچاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *