“میں شہزاداکبر کے محلے گیا اور کانوں کو ہاتھ لگاکر واپس آیا”،ہارون رشید کے انکشافات‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر وہ پہلا انسان ہو گا یا عثمان بزدار ان دونوں میں سےکوئی ایک پہلا آدمی ہو گا جس کیخلاف ریفرنس دائر ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ میں جب شہزاد اکبر کے محلے میں گیا

جب ان پر الزام لگایا گیا میں نے لوگوں سے پوچھا تو میں کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا واپس آگیا وہ کہتے ہیں کہ یہ اس قدر پراسرار آدمی ہے کہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ آتا ہی نہیں ہے ، یہ شخص ایک دن یہاں سے غائب ہو گئے جرمنی چلے گئے وہاں جا کر شادی کر لی اس کے بعد ایک قدم انہوں نے یہاں نہیں رکھا ۔ تھوڑی سے پراپرٹی تھی وہ بھی بیچ دی ۔ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ آخر کیا بات ہے انہوں نے واپس اپنے علاقے میں قدم نہیں رکھا وزیراعظم عمران خان اس بارے میں تحقیقات کروائیں ۔ وہاں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جرمنی کا پاسپورٹ تک ہے ۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ دسمبر میں انڈیا نے خود بات چیت کیلئے پہل کی ۔ را اور آئی ایس آئی چیف کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ، اب لگتا ہے کہ وہ بات چیت ناکام ہو گئی ہے ۔ اس لیے تیور بدلے ہوئے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ آزاد کشمیر بارڈر پر نقل و حمل شروع ہے ۔ 8ہزار بنکر بنائے ہیں ۔ بپن راوت نے کہا ہے کہ چین بڑا خطرہ ہے ، ہماری پوری کوشش ہے فوجیں ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوں ، کسی طرح مفاہمت ہو جائے ۔ بپن راوت نے کہا ہے کہ چین بڑی طاقت ہے ، جنگ تو ٹیکنالوجی کے میدان میں ہے ل اس میں تو چین امریکا سے بھی آگیا نکل گیا ہے ۔ سینئر صحافی نے مزید کہا ہے کہ انڈر میں کئی عشروں سے جنگی ماحول ہے جو ان کی لیڈر شپ نے خود پیدا کیا ہے ، مود ی ان پاپوپر ہو رہا ہے ۔ بنگال میں وہ بہت بری طرح ہار گیا ہے ۔ بھارت کو معلوم ہے کہ پاکستان کے پاس کیا ہے ۔ پاکستان کےپاس وہ اسلحہ بھی ہے جو انڈیا کے پاس نہیں ہے ۔ پاکستان کے میزائل اور ایٹم بم انڈیا سے بہتر ہیں ۔ بڑی جنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، جھڑپ ہو سکتی ہے ،اور اس سے اسرائیل خوش ہو گا ۔ہارون الرشید کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی جنرل انڈیا میں موجود ہیں اور وہ آج سے موجود نہیں ہیں ،اسرائیلی فوجی بھی موجود ہیں ۔ ہمارے پاس جو چھوٹے ایٹم بم ہیں انڈیا تو اس کا ابھی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ۔ ہماری انحصار چین پر ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *