گرم پانی میں نمک شامل کر کے نہانا بہت سی بیماریوں کا علاج ہے

ٹھنڈا اور خُشک موسم ہماری جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور اس موسم میں جلد اکثر سُرخ پن، الرجی، خارش، خُشکی جیسے مسائل میں مُبتلا ہو جاتی ہے اور اگر آپ اپنے نہانے کے پانی میں تھوڑا نمک ڈال کر اس پانی سے غُسل کریں گے تو یہ آپ کی جلد کو ان تمام پریشانیوں سے بچانے کا باعث بنے گا اور آپ کی جلد کو چمکدار بنائے گا اور بالوں کو بھی فائدہ دے گا۔

سردی کے موسم میں عام طور پر لوگ اپنا لباس روزانہ تبدیل نہیں کرتے جس سے کپڑوں میں موجود جراثیم جلد کو متاثر کرتے ہیں اور داد اور سفید جلد جیسے مرض کیساتھ خارش اور سوزش بھی پیدا کر دیتے ہیں، نمک قُدرتی اینٹی بیکٹریل خُوبیوں کا حامل ہے جو جلد کو ان جراثیموں سے پاک کر دیتا ہے اور جلد کی حفاظت کرتا ہے۔

ایسے افراد جن کی جلد آئلی ہے اُن کے لیے گرم پانی میں نمک ڈالکر نہانا انتہائی فائدہ مند چیز ہے یہ جلد کے مُردہ خُؒلیوں کو صاف کردے گا اور جلد میں موجود اضافی چکنائی اپنے اندر جذب کر کے جلد کو تروتازہ اور جوان بنا دے گا۔

نمکین گرم پانی کا غُسل جوڑوں کے درد میں بھی کسی جادوئی دوا کی طرح کام کرتا ہے خاص طور گھٹیا کی درد میں ڈاکٹر حضرات نمکین پانی سے نہانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ خُون کے بہاو کو بہتر بناتا ہے، پٹھوں کے تناؤ میں کمی لاتا ہے، جوڑوں کو سکون دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نمکین پانی کا غُسل ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں بھی کمی لاتا ہے کیونکہ اس سے اعصاب پُرسکون ہوتے ہیں اور اگر رات کو سونے سے پہلے نمکین پانی سے نہا لیا جائے تو یہ نیند کو گہرا کرنے اور جسم کی تھکاؤٹ کو دُور کرنے کا باعث بنتا ہے۔

چوٹ اور بیماری کی صُورت میں جسم پر ظاہر ہونے والی سوزش میں نمک سے نہانا انتہائی مفید کام ہے کیونکہ نمک میں اینٹی انفلامیٹری خُوبیاں اس سوزش کے خلاف ایک قُدرتی دوا بنا دیتی ہیں۔ اگر آپ نمک کو سوزش کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں تو سمندری نمک کا استعمال آپ کے لیے زیادہ مُفید ہوگا کیونکہ سمندر کے نمک میں عام نمک سے زیادہ منرلز پائے جاتے ہیں جو آپ کی سوزش کو سکون دیں گے۔

نہانے کے لیے آپ Epsom Salt بھی استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس نمک میں میگینیشم سلفیٹ پائی جاتی ہے جو سوزش کو ختم کرنے اور پٹھوں کے تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور پنک ہمالین سالٹ جسے گُلابی نمک کہا جاتا ہے بھی استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس نمک میں بھی کہا جاتا ہے کے 84 سے زیادہ منرلز پائے جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *