اپر کوہستان بس حادثہ چین نے پاکستان سے بڑا مطالبہ کردیا

اپرکوہستان(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)داسو ڈیم میں کام کرنے والے کمپنی کی بس حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں چینی انجینئرز سمیت 13 افراد جاں بحق اور 13زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق اپرکوہستان میں داسو ڈیم کے ملازمین کو لانے لے جانے والی بس حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 39 افراد زخمی ہوگئے۔

ڈی پی او اپرکوہستان نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آئیں تاہم حادثے میں 13 افراد کی موت کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں سے 9 چائنیز اور 2 مقامی مزدور بھی شامل ہیں، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 7 افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، جائے وقوعہ کو دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے سیل کردیا گیا ہے، تاحال حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی نے کہا کہ کوسٹر گاڑی میں 41 افراد سوار تھے، حادثے میں 9 چینی باشندوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں دو ایف سی جوان اور 2 مقامی مزدور بھی شامل ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر وجوہات کا بتایا جا سکے گا، المناک واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تحقیقات سے قبل واقعہ کو حملہ یا دہشت گردی سے منسوب نہیں کہا جا سکتا۔داسو میں رونما ہونے والے واقعے وزیراعلی

محمود خان کی ہدایت پر صوبائی حکومت کا اعلی سطحی وفد کوہستان پہنچا، وفد میں کامران بنگش، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی خیبر پختونخوا شامل ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے مطابق معاملے کی جانچ کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ادھر واپڈا کی جانب سے جاری بیان میں اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا گیا ہے۔

واپڈا کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ چینی کمپنی کے ملازمین بس میں سفر کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کی جگہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ واپڈا کی چیئرپرسن ریسکیو کے کام کی نگرانی کے لیے داسو کے لئے روانہ ہوئی ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق چینی سفارت خانے کی جانب سے اپر کوہستان میں پیش آنے والے بس حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے،چینی سفارت خانے نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان حادثے کی فوری تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *