سعودی عرب نے چینی ویکسین لگوانے والے پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت دے دی

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے چینی ویکسین لگوانے والے پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس بارے میں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ چینی ویکسین لگوانے والے پاکستانی مسافروں کو وہاں پہنچ کر بوسٹر شاٹ لینا ہوگا۔سعودی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آنے والے وہ مسافر جنہوں نے یہاں چینی ویکسین کی 2 خوارکیں لگوا لی ہیں

انہیں بھی وہاں پہنچ کر بوسٹر شاٹ لینا ہو گا اور فی الحال یہاں سے جانے والے پاکستانیوں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے ایک ہزار 112 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی وزارت صحت نے بتایاکہ ریاض سے جاری اعلامیہ میں کہاگیاکہ سعودی عرب میں کورونا مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 1 ہزار 195 ہوگئی ہے۔وزارت صحت نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 13 مریض انتقال کر گئے۔وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں کورونا سے اموات کی تعداد 7 ہزار 976 ہوگئی ہے۔ وزارت صحت نے کہا کہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے ایک ہزار 789 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔سعودی عرب میں کورونا سے صحتیاب افراد کی تعداد 4 لاکھ 82 ہزار 414 ہوگئی۔ دوسری جانب یورپین یونین میں 70 فیصد کے قریب بالغ آبادی کے لیے ویکسین فراہم کی جا چکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپین کمیشن کے ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں بتایاگیاکہ یونین میں 10 جولائی تک یورپین یونین اور یورپین اکنامک ایریا کے 30 ممالک میں 474 ملین خوراکیں فراہم کی گئیں۔اس میں سے 391 ملین خوراکیں لگ چکی ہیں، جس کے بعد تمام یورپین بلاک کی 44.1 فیصد بالغ آبادی کی ویکسنیشن مکمل ہوگئی ہے جبکہ باقی افراد کو ابھی سنگل ویکسین لگی ہے۔

ان اعداد و شمار کی بنیاد یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کا وہ اسپیشل ٹریکنگ میکنزم ہے جو اس نے ویکسین کی تقسیم کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے اس سال فروری میں شروع کیا تھا۔دوسری جانب یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے اس حوالے سے بتایا کہ کمیشن نے ای یو کے ممبر ممالک کو کافی ویکسین فراہم کی ہے تاکہ وہ اس ماہ کے اختتام تک اپنی 70 فیصد آبادی کو اس عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے مکمل ویکسنیشن کر سکیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی وبا کوویڈ19ابھی ختم نہیں ہوئی، ہم مزید خوراکیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *