مریم نواز کا کشمیر کو صوبے بنانے کی کوشش کی مزاحمت کااعلان ‎

ہٹیاں بالا (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کوشش کی مزاحمت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے لیے دی گئیں قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قربانیوں کو بھولیں گے اور نہ ہی بھولنے دینگے،عمران خان جب کشمیر کا رخ کرنا تو اپنا نامہ اعمال بھی لے کر آنا۔آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مجھے کشمیر میں مہم چلانے کیلئے نہیں آنا پڑتا بلکہ کشمیر میرا گھرہے، جس طرح نواز شریف کی رگوں میں کشمیر کا خون ہے،

اسی طرح مریم نواز کے رگوں میں بھی کشمیر کا خون ہے، نواز شریف اور مریم نواز کا کشمیر کے ساتھ خون کا رشتہ ہے۔انہوں نے کہاکہ راجا فاروق حیدر نے قدم بڑھایا ہے اور اب آپ ساتھ دیں، انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کا کلچر تبدیل کرتے ہوئے وفاداری کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔عوام کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہر جگہ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ بچہ بچہ کٹ مرے گا کشمیر صوبہ نہیں بنے گا تو اس نعرے کو پورا کرنے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے اور کشمیریوں کی اس خواہش کو پورا کرنے کے نواز شریف اور راجا فاروق حیدر جیسے شیر چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان جیسے کشمیر فروش، بزدل انسان جو کشمیر کا مقدمہ ہار کر آیا، اس کا کام توڑنا ہے اور اب وہ کشمیر پر نظر لگا کر بیٹھا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ کشمیر پر نظر لگا کر بیٹھنے والو، ووٹ چوری کی عادت رکھنے والو، کشمیر کے ووٹوں پر اگر تم نے ڈاکا ڈالا تو یاد رکھنا اس دفعہ تمھارا مقابلہ شیر راجا فاروق حیدر کے ساتھ ہے، اگر تم نے کشمیریوں کا ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی تو راجا فاروق حیدر تمہیں نہیں چھوڑے گا۔مریم نواز نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن، ستم شعار سے تم کو چھڑائیں گے ایک دن، ان شااللہ نواز شریف کی قیادت میں ایک دن چھڑائیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہاں سے 8 میل کی دوری پر لائن آف کنٹرول ہے اور جس سے سڑک سے میں یہاں آئی ہوں یہ سڑک سیدھی سری نگر جاتی ہے، تو میرا سرحد پار بھی یہی پیغام ہے کہ میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں، نواز شریف مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑیہیں۔مریم نواز نے کہا کہ ہم ہر اس ماں کے ساتھ کھڑے ہیں، جس نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں اپنے بچے گنوائے ہیں، ہم ہر اس باپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جس نے اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر اس کو کندھا دیا ہے، میں ہر اس بہن کے ساتھ کھڑی ہوں، جس کی کشمیر کی آزادی میں اپنی عزت کا نذرانہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، نہ ہم اس کو بھولیں گے اور ان شااللہ اس کو بھولنے بھی نہیں دیں گے، میرے سامنے بڑی تعداد میں کھڑیں ہٹیاں بالا کی خواتین کو میرا سلام ہو۔انہوں نے کہاکہ اب عمران خان آزاد کشمیر کا رخ کرنے والا ہے، میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی طرف سے یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ عمران خان جب کشمیر کا رخ کرنا تو اپنا نامہ اعمال بھی لے کر آنا کیونکہ کشمیری تم سے سوال کریں گے کہ بھارت کو 73 سال میں پہلی مرتبہ کشمیر پر شب خون مارنے کی ہمت کیسے ہوئی۔وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ امریکا سے واپسی میں تم نے کہا تھا کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں تو کشمیر تم سے یہ سوال کریں گے کہ وہ ورلڈ کپ کون سی الماری میں چھپا کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری تم سے سوال کریں گے کہ تم نے جو دو منٹ کی خاموشی اختیار کی تھی وہ کب ٹوٹے گی، کشمیری پوچھیں گے کہ تم نے کشمیر کے حق میں کتنی قرار دادیں منظور کرائیں، تم نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں کیا سب کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ بھارت کو قائل کریں کہ وہ اپنے ظالمانہ اقدامات سے پیچھے ہٹیں، کون کون سے دوست ممالک کو اکٹھا کیا۔انہوں نے کہاکہ ہٹیاں بالا کے عوام سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا پاکستان یا آزاد کشمیر میں کوئی ایسا شخص ہے، جو نہیں جانتا کہ عمران خان کہاں سے آیا اور عمران خان کو لانے والا کون ہیں، نواز شریف کا شکریہ کہ قربانیاں دے کر قوم کو یہ بتایا کہ عمران خان کہاں سے آیا اور اس کو لانے والے کون ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ راجا فاروق حیدر نے بتایا کہ ایک دن عمران خان سے کہا کشمیر آکر دیکھیں کہ یہاں نواز شریف کی حکومت نے کیا زبردست ترقیاتی کام کیے ہیں، جو کبھی تاریخ میں نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے جواب میں کہا آپ نے یہ بات عمران خان کو کیوں کہی، عمران خان کیسے آتا وہ آٹا چوری، چینی چوری اور مہنگائی کرنے میں مصروف ہے، وہ لوڈ شیڈنگ کرنے میں مصروف ہے، وہ عوام کو تباہی کے دہانے میں ڈالنے پر مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت صرف ایک ہی انسان خوش حال ہے، اس کا نام عمران خان ہے کیونکہ اس کو آٹے اور چینی کی قطاروں میں لگنا پڑتا ہے اور نہ اس کو مہنگے گھی سے کوئی فرق پڑتا ہے، نہ اس کو ایک کلو چینی کے لیے انگوٹھے پر نشان لگانا پڑتا ہے، نہ اس کے گھر میں کوئی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور نہ اس کا کاروبار اور تجارت ہے، جس میں ان کو فرق پڑتا ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *