پاکستان نے چینی ویکسین کین سائنو کے فیز تھری کلینیکل ٹرائل سے ایک کروڑ ڈالر کما لئے

کراچی (این این آئی)پاکستان نے چینی ویکسین کین سائنو کے فیز تھری کلینیکل ٹرائل سے ایک کروڑ ڈالر کمائے۔قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی ویکسین کے فیز تھری کلینیکل ٹرائل پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں، تجربات ہونے سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ عامر اکرام کا کہنا تھا کہ کورونا کی چاروں اقسام اسلام آباد میں موجود ہیں مگر کراچی اب تک بھارتی قسم کے ڈائلٹا وائرس سے محفوظ ہے، پاکستان میں کورونا وائرس کی جینوم سیکوئنسنگ کا کام
تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معلوم ہے کہ کورونا وائرس کا کون سا ویریئنٹ ملک کے کس حصے میں زیادہ پایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں کچھ مریضوں کو صحتیابی کے بعد بھی مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ایسے افراد کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جن کو متعدد اقسام کی علامات بشمول تھکاوٹ، نیند کے مسائل، ڈپریشن اور دیگر کا سامنا ہوتا ہے۔مگر اب پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ لانگ کووڈ کے مریضوں کو دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی جیسی علامت کا بھی طویل المعیاد بنیادوں پر سامنا ہوسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں ہونے والی اس تحقیق میں 875 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی جانب سے نظام تنفس کی بیماری کی علامات کو رپورٹ کیا گیا تھا۔ان میں سے 234 میں بعد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی اور محققین نے ویئر ایبل ڈیوائسز کی مدد سے ان کی بیماری کا مشاہدہ کیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کچھ مریضوں کی دھڑکن کی رفتار اور نیند کے رجحان کو معمول پر آنے میں 4 ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ ویئرایبل ڈیوائسز سے ان کے روزانہ قدموں سے توانائی کی سطح کی جانچ پڑتال سے دریافت ہوا کہ بیماری کی علامات کے آغاز کے بعد کم از کم 30 دن لگے جب ان کی جسمانی توانائی کی سطح معمول پر آسکی۔مجموعی طور پر کووڈ 19 کے شکار افراد میں دھڑکن کی رفتار کو معمول پر آنے میں اوسطا 79 دن اور توانائی کی سطح بحال ہونے میں 32 دن لگے۔دھڑکن کی بے ترتیبی کا مسئلہ ان افراد میں زیادہ عام تھا جن کو کووڈ کے دوران کھانسی، جسمانی درد اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوا۔محققین نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے کی وجہ جاننا یہ تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے کہ کس کو کووڈ سے منسلک ورم یا مدافعتی نظام تھم جانے کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سنسر ڈیٹا اس وائرس سے لوگوں کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو جاننے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد دل کی کسی قسم کی علامات کو نوٹس نہیں کرتے تاہم دھڑکن کی رفتار کا غیراطمینان دہ احساس کچھ افراد کو ہوتا ہے۔کچھ افراد کو لگتا ہے کہ محض ٹوائلٹ تک جانے سے ہی ان کا دل تیزی سے بھاگنے لگا ہے۔محققین نے کہا کہ ہم ابھی نہیں جانتے کہ کووڈ کے بعد دھڑکن کی رفتار بڑھنے کے طویل المعیاد نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ بیشتر افراد چند ہفتوں میں کووڈ کوشکست دے دیتے ہیں اور کسی قسم کے اثرات کا سامنا نہین ہوتا، مگر جب دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے تو بیشتر افراد کو عدم اطمینان کا احساس ہوتا ہے، مگر اس سے ہٹ کر فی الحال کسی قسم کے سنگین نتائج سامنے نہیں آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی مریض کو ان علامات کا سامنا 3 ماہ سے زیادہ ہوتا ہے یا جسمانی سرگرمیاں محدود ہوتی ہیں تو پھر خدشہ ہوسکتا ہے کہ ان کو کسی بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *