شاہد آفریدی قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر برس پڑے

راولپنڈی (این این آئی)قومی کرکٹ کے سابق کپتان شاہد آفریدی انگلینڈ کے خلاف دوسرے شکست پر پاکستانی ٹیم پر برس پڑے اور کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم جس لائحہ عمل کے ساتھ کھیل رہی ہے اسے کسی بھی معیاری حریف کو آسانی سے شکست دینے میں بہت جدو جہد کرنی پڑے گی۔انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرے ون ڈے میچ کے دوران سابق کپتان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہاکہ ٹیم منیجمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ ایک بامقصد لائحہ عمل تیار کرکے اسے لاگو کروانے کی سخت ضرورت ہے ورنہ پاکستان کو کسی معیاری

ٹیم کو شکست دینے میں بہت جدو جہد کرنی پڑے گی۔شاہد آفریدی نے کہا کہ جدید ایک روزہ میچ میں حریف ٹیم پر بیٹنگ اور بولنگ میں حملہ آور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کی بلے بازی کا حوالہ دیا کہ دو کھلاڑی پویلین لوٹنے کے باوجود انھوں نے سمجھداری سے بلے بازی کی۔قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انگلینڈ کے خلاف دوسرا ون ڈے میں شکست پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ٹیم کا سلیکشن درست کرو، ٹیم میں کوئی ایک میچور بیٹسمین نہیں۔شعیب اختر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کے پلیئر ون ڈے میں اور ون ڈے کے پلیئر ٹی ٹوئنٹی میں کھلا رہے ہیں، صہیب مقصود کو ٹی ٹوئنٹی کی پرفارمنس پر منتخب کیا اور ون ڈے میچز کھلا رہے ہیں جبکہ سرفراز سے بہتر مڈل آرڈر بیٹسمین کوئی نہیں۔اْنہوں نے کہا کہ انگلینڈ نے کاؤنٹی کرکٹ کے پلیئرز کو چند گھنٹے پہلے ٹیم میں شامل کیا، میں نے پہلے کہہ دیا تھا سیریز تین صفر سے انگلینڈ جیتے گی۔سابق کرکٹر نے کہا کہ بابر اعظم کو آؤٹ سوئنگ گیند پر مشکل ہوتی ہے، پاکستان ٹیم میں کوئی ایک کھلاڑی بتائیں جسے انگلینڈ میں ٹکٹ خرید کر کوئی دیکھنے آئے۔ شعیب اختر نے کہا کہ قومی ٹیم میں کوئی ایسا پلیئر نہیں جس کو انگلینڈ میں ٹکٹ خرید کر دیکھنے آئیں، جاوید میانداد کو لوگ دیکھنے آتے تھے،وہ میچ فنش کرتے تھے، ماضی میں جاوید میانداد کی بیٹنگ دیکھنے شائقین آیا کرتے تھے۔سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ وقار یونس کو لانے والوں سے پوچھا جائے انہیں کیوں لایا جاتا ہے۔شعیب اختر نے کہا کہ سی ای او پی سی بی وسیم خان کو پہلے 2 سال میں نے سپورٹ کیا ہے، سنا ہے وسیم خان کو تین سال کی توسیع دی جارہی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *