پاکستان میں آئرش لڑکی کی موت والدین کا عمران خان سے تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چند روز قبل پاکستان میں انتقال کرنیوالی آئرش خاتون کے والدین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت غیر طبعی تھی، تحقیقات کیلئے وزیراعظم عمران خان نوٹس لیں۔تفصیلات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کی اراکین انٹونی اور ناز شاہ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس کے مطابق کالسے ڈیولن

کے والدین کو اس کی موت کی مختلف کہانیاں سنائی گئیں، پہلے کہا گیا کہ ان کی بیٹی کورونا کے باعث فوت ہوئی۔خط میں کہا گیا کہ بعد میں کاسلے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ موصول ہوا جس میں ایک بچپن کی ایک بیماری کو موت کی وجہ قرار دیا گیا، آئرش خاندان کے مطابق ان کی بیٹی کو ایسی بیماری کبھی نہیں ہوئی، کالسے کے والدین کو شبہ ہے کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔خط میں 2016 میں پیش آنے والے ایک کیس کا حوالہ دیا گیا جس میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری صائمہ شاہد کو پاکستان میں قتل کردیا گیا تھا۔آئرش خاتون کے والدین کا کہنا تھا کہ 9 جون کو ہماری بیٹی کو ہسپتال میں داخل کیا گیا، تین دن بعد عاطف نے ہمیں بتایا کہ کالسے تشویش ناک حالت میں ہے اور ساتھ ہی کاسلے کی آکسیجن ماسک لگی تصویر بھی بھیجی، 15 جون کو ہمیں بتایا گیا کہ کالسے کومہ میں جاچکی ہے اور اس کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی 30 جون کو ہماری بیٹی کا انتقال ہوگیا۔آئرش خاندان نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو ان کی رضامندی کے

بغیر دفن کردیا گیا اور ہمیں بعد میں اطلاع دی گئی، والدین نے وزیراعظم عمران خان سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے خط میں والدین کی جانب سے لکھا گیا کہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی کے پوسٹ مارٹم کیلئے اس کی قبر کشائی کی جائے اور بچوں کو

برطانیہ ان کے نانا نانی کے پاس بھیجا جائے۔یاد رہے کہ کالسے ڈیولن نامی آئرش خاتون اپنے پارٹنر سید عاطف عباس اور دو بچوں 8 سالہ زارا ڈیولن 6 سالہ زین عباس کے ہمراہ 3 جون کو پاکستان پہنچی تھیں، کالسے کے والدین کے مطابق ان کی بیٹی اور عاطف شدید بیمار والدہ سے ملنے پاکستان آئے۔آئرش خاندان کے مطابق جب ہماری بیٹی ہسپتال میں زیر علاج

تھی تو ہم نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا جنہوں نے کالسے تک رسائی سے انکار کردیا، کالسے کے والدین کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر جب برطانوی ہائی کمیشن اور برطانیہ کے دفتر خارجہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو دونوں دفاتر نے واقعے پر بیان دینے سے انکار کردیا۔جب خاتون کے پارٹنر سید عاطف سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کچھ کہنے سے انکار کردیا کہ جو کچھ ہوا پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن اس سے آگاہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *