مریم نواز کے ایک بیان کی وجہ سے ن لیگ کاآزادکشمیر میں ہونیوالا جلسہ بدمزدگی کا شکار‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا مظفرآباد میں جلسہ بدنظمی کا شکار ہو گیا ، درجنوں افراد خارداروں میں پھنس گئے ۔ تفصیلات کے مطابقمریم نواز نے اپنی تقریر میں جوش خطابت کے دوران کہا کہ لوگوں کو آگے آنے سے مت روکو میرے اور کشمیریوں کے درمیان کوئی باڑ نہیں ہونی چاہیے۔ جس کے بعد شرکاء نے باڑ پھلانگ کر اسٹیج کی

جانب جانا شروع کر دیا جس کی وجہ سے کئی افراد خاردار تاروں میں پھنس گئے اور جلسہ شدید بدنظمی کا شکار ہوگیا۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے آزاد کشمیر میں الیکشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر الیکشن چوری ہوا تو آخر تک لڑیں گے،دباؤ کے باوجود کشمیریوں کا الیکشن چوری کرنے کی کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) چٹان بن کر کھڑی ہے،جو لوگ کشمیر کا ووٹ چوری کرنے کیلئے نظریں لگائے بیٹھے ہیں، کان کھول کر سن لو! مسلم لیگ (ن) وہ مسلم لیگ (ن) نہیں رہی، مسلم لیگ (ن) کو آپ کے حلق سے چوری شدہ سیٹیں نکالنے کا ہنر آگیا ہے۔چھتر کلاس میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میری رگوں میں کشمیری ماں باپ کا خون ہے اور اس لحاظ سے میں آج اپنے گھر آئی ہوں، میں 12 سے 13 دن کے لیے کشمیر آئی ہوں اور کشمیریوں کے دکھ درد بھی بانٹوں گی۔انہوں نے کہاکہ کشمیری چاہے سرحد کے اس پار ہو یا اس پار کشمیری ایک ہیں اور پاکستان آپ کے ساتھ ہے اور انشااللہ ان دکھوں، تکلیفوں اور پریشانیوں کو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے اور چاہے وہ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری ہوں یا آزاد کشمیر کے کشمیری ہوں، کشمیریوں کے دکھوں کو نواز شریف کی قیادت میں ختم ہونا ہے اور کشمیر کا بیٹا نواز شریف آپ کی سب جنگیں لڑے گا، آپ کی آزادی کی جنگ لڑے گا اور جیت کر آپ کی جھولی میں ڈالے گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، کشمیر کے حقوق اور اس کی آزادی کی جنگ لڑے گا، جانتی ہوں کشمیریوں کو نواز شریف بہت شدت سے یاد آرہا ہے، مجھے بھی وہ بہت شدت سے یاد آرہے ہیں۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آج بھی ان کی تقریر نواز شریف سے شروع ہوتی ہے اور نواز شریف پر ختم ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب ایک کرتا دھرتا کی جانب سے مجھے ختم کرنے کی دھمکی آئی تو نواز شریف ایک باپ کی حیثیت سے دکھ میں تھے لیکن کل انہوں نے کہا کہ بے شک میرے دل میں وہ بات ہے، ایک باپ کے طور پر تمہاری صحت اور سلامتی کے لیے ڈرتا ہوں لیکن تم کشمیر ضرور جاؤ۔انہوں نے کہا کہ راجا فاروق حیدر، آزاد کشمیر کی مسلم لیگ (ن) اور کارکنوں کو سلام پیش کرتی ہوں، تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ دباؤ کے باوجود،

کشمیریوں کا الیکشن چوری کرنے کی کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) آج چٹان بن کر کھڑی ہے۔انہوں ے کہاکہ جو دو لوگ لوٹے ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اْمیدوار نہیں مل رہے ہیں تو بتانا چاہتی ہوں کہ جب مسلم لیگ (ن) کی درخواستیں طلب کی تو ایک، ایک حلقے سے 10،10 اور 20،20 تک درخواستیں موصول ہوئیں۔وفاقی وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس اتنے ہی اْمیدوار ہیں تو پھر مسلم لیگ (ن) کے دو اْمیدواروں کو توڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔انہوں نے کہا کہ جب ووٹ چور، روٹی چور، آٹا چور، چینی چور، بجلی چور، دوا چور اور کشمیر چور عمران خان کل آپ کی زمین پر آئے گا تو آپ نے کیا سوال کرنے ہیں وہ بھی بتاؤں گی۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف جیسے عوامی اور منتخب وزیراعظم،

جن کی دہلیز پر بھارتی وزرائے اعظم آتے ہیں اور ایک ایسا سلیکٹڈ جو ووٹ چوری کرکے آتا ہے، اس کی دور میں بھارت کو اتنی ہمت ہوتی ہے کہ اس کی حیثیت بھی بدل دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت بدل دی گئی تو وہ کہتا ہے میں کیا کروں، میں کیا کرسکتا ہوں، تو کیا 22 کروڑ عوام آپ سے یہ کچھ سننے کے لیے بیٹھے ہیں کہ تم کشمیر گنوا کر آجاؤ اور لوگوں سے کہو کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کیا کروں،

یہ کہہ سکتا ہوں کہ مودی میرا فون نہیں اٹھاتا، میں یہ رونا رو سکتا ہوں کہ امریکا کا صدر مجھے نہیں بلاتا اور میں قوم کو صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر کے بدلے قوم دو منٹ کی خاموشی اختیار کرے۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ سننے کے لیے تمہارے محسنوں نے آر ٹی ایس بند کرکے 22 کروڑ عوام کے سر پر بٹھایا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ کشمیر کا بھارت کی جھولی میں جانے کا سوگ ہر ہفتے منایا کریں گے لیکن وہ بات کہاں گئی، دو منٹ خاموشی کا کہا تھا، وہ خاموشی آج بھی آپ نے اختیار کرلی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کا ووٹ چوری کرنے کے لیے نظریں لگائے بیٹھے ہیں، کان کھول کر سن لو! مسلم لیگ (ن) وہ مسلم لیگ (ن) نہیں رہی، مسلم لیگ (ن) کو آپ کے حلق سے چوری شدہ سیٹیں نکالنے کا ہنر آگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کے جوان، یوتھ ونگ، کارکن، اراکین قومی اسمبلی، ایم ایل ایز اور ایم پی ایز سب جان گئے ہیں کہ ووٹ چوری کو کس طرح سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کا الیکشن یاد ہے نا، جس نے 2018 میں آر ٹی ایس بیٹھا کر عوام کا الیکشن چوری کرلیا، آج تین سال بعد بھی اس کو الیکشن چوری کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے، نواز شریف کی آواز ٹی وی پر بند کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں انہوں نے ہمارے 7 لوگ توڑے اور وہ لوٹے ہوگئے تو پہلی دفعہ دیکھا کہ سب الیکٹیبلز تھے لیکن وہ سب ہار گئے، ٹھیک ہے مسلم لیگ (ن) نہیں جیتی لیکن تمہارے لوٹے بھی ہار گئے، حافظ حفیظ الرحمٰن

طبعاً صلح جو شخص ہے لیکن یہاں راجا فاروق حیدر ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ اگر تم نے راجا فاروق حیدر کا جیتا ہوا الیکشن، کشمیریوں کا جیتا ہوا الیکشن، مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کا جیتا ہوا الیکشن، چوری کیا تو یاد رکھیں، راجا فاروق حیدر، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور مریم نواز شریف آخری حد تک لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ راجا فاروق حیدر سے جیتنا کوئی آسان کام نہیں ہے، انہوں نے پہلے کہہ دیا تھا کہ اگر میرا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی تو پوری طرح مزاحمت کروں گا اور اگر چوری ہوا تو شاہراہ دستور پر کیمپ لگا کر بیٹھ جاؤں گا۔راجا فاروق حیدر کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اگر آپ شاہراہ دستور پر بیٹھ گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ وہاں احتجاج میں بیٹھوں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *