نیب کا احسن اقبا ل اور خواجہ آصف کی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر نے کا فیصلہ

اسلام آبا د(این این آئی) نیب نے لیگی رہنما احسن اقبا ل اور خواجہ آصف کی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر نے کا فیصلہ کرلیا۔قومی احتساب بیورو نے احسن اقبال کی معزز اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کے فیصلہ کے خلاف قانون کے مطابق معز سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب نے احسن اقبال کے خلاف

معزز احتساب عدالت اسلام آباد میں ریفرنس دائر کیا تھا جو کہ زیر سماعت ہے۔ نیب نے معزز احتساب عدالت اسلام آباد میں کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کیلئے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ نیب آرڈیننس کی شق 16(a) کے تحت معزز احتساب عدالت میں دائر کی جائے گی۔نیب نے خواجہ آصف کی معزز لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے فیصلہ کے خلاف قانو ن کے مطابق معزز سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیتا ہے۔نیب نے گزشتہ سال سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے کیسز ایف بی آر کو قانون کے مطابق ریفر کردیئے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے دو وفود جن میں ایک وفد کی سربراہی دارو خان اچکزئی سابق صدر ایف پی سی سی آئی کراچی اور بعد ازاں دوسرے وفد جس کی سر براہی شیخ سلطان سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی کراچی کررہے تھے نے چئیرمین نیب سے نیب ہیڈکوارٹر ز میں ملاقات کی۔مزید برآں چئیرمین نیب نے وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت کراچی، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کیا

جہاں بزنس کمیونٹی نے چئیرمین نیب کا ان کے مسائل کے حل کے لئے نیب کی کاوشوں کو سراہا جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ چئیرمین نیب کاعہدہ سنبھالنے کے فوری بعد جسٹس جاوید اقبال نے جہاں ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نہ صرف لوگوں کی شکایات سننے کے خود فیصلہ کیا بلکہ بزنس کمیونٹی کی شکایات کے حل

کے لئے نیب ہیڈ کوارٹز میں ڈائریکٹر ز کی سربراہی میں سپیشل سیل قائم کیا ہے جو کہ بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کے لیئے باقاعدگی سے کام کر رہا ہے، اس کے علاوہ نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی جس کا اجلاس جلد بلایا جائے گا۔ پاکستان کی ترقی، معیشت کی بہتری،دیانتداری

سے کام کرنے والے بزنس کمیونٹی کے افراد کو بے بنیاد پراپیگنڈے پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام تر توانیاں ملکی معیشت کی ترقی اور خوشحالی پر مرکوز کرنی چاہیں۔نیب بزنس فرینڈلی اور انسان دوست ادارہ ہے جو ہر شخص کی عزت نفس کا قانون کے مطابق احترام پر یقین رکھتا ہے۔نیب نے گزشتہ تین سالوں میں 533ارب روپے

بلواسطہ اور بلاواسطہ بر آمد کئے وہاں اس نے لئے غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے لوٹی گئی اربوں روپے کی رقوم بر آمد کرکے قانون کے مطابق متعلقہ متاثرین کو واپس کیں جس پر انہوں نے چیئرمین نیب کی ذاتی دلچسپی اور ان کی عمر بھر کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی پر نیب کا شکریہ ادار کیا جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام کے اربوں روپے لوٹنے والوں، بیرون ملک فرار ہونے والوں اور منی لانڈرنگ کرنے والے ملزمان کے مقدمات کو قانون کیمطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیب کے اس وقت 1273ریفرنسز مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت

ہیں جن کی کل مالیت 13سور ارب روپے ہے ان کی جلد سماعت کے لئے متعلقہ معزز احتساب عدالتوں میں نیب آرڈیننس کی شق (a)16کے تحت درخواستیں دائر کی جائیں گی جہاں قانو ن اپنا راستہ خود بنائے گا۔وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نائب صدر،ذکریا عشمان،سابق صدر،مرزا عبد الرحمان سابق نائب صدر اور خواجہ

شہزاد اکرم شامل تھے نے چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے ذاتی کاوشوں کو سراہا اور نیب پرمکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک انسان دوست اور بزنس فرینڈلی ادارہ ہے جو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہے۔بزنس کمیونٹی ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کے

لئے نیب کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلانے کے علاوہ تمام بزنس کمیونٹی سے کہتی ہے کہ نیب کے اقدامات سے پریشان ہونے کی قطعاََ کو ئی ضرورت نہیں کیونکہ نیب چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیاد ت میں ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھنے کے علاوہ قانون کیمطابق انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر یقین رکھتا ہے جو کہ بزنس کمیونٹی کے لئے انتہائی حوصلہ افزا بات ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *