سعودی ماہر فلکیات نے حج اور عیدالاضحی کی تاریخوں کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (این این آئی)سعودی ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ عیدالاضحی 20 جولائی منگل کو ہوگی۔سعودی میڈیا کے مطابق سعودی ماہر فلکیات کے مطابق اس سال ذیقعدہ کا مہینہ 30 دن کا ہوگا، سعودی عرب میں یکم ذی الحج اتوار 11 جولائی کوہوگا اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفات پیر 19 جولائی کو ہوگا۔ماہر فلکیات کے مطابق سعودی عرب میں عیدالاضحی 20 جولائی منگل کو ہوگی۔

سابق استاد وماہرفلکیات قصیم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرعبداللہ المسندکے مطابق حتمی تاریخ کااعلان سعودی عرب کی اعلیٰ عدالتی کونسل کی کمیٹی کریگی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی حکومت نے مزید چھ پیشوں اور شعبوں کو مقامی سطح پر اپنانے کی منظوری دی ہے جس کے نتیجے میں مقامی شہریوں کے لیے نوکریوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیرانجینیر احمد بن سلیمان الراجحی نے متعدد پیشوں اور سرگرمیوں کو مقامی شکل دینے کے لیے 6 نئے وزارتی فیصلوں کے اجرا کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پیشوں کو مقامی سطح پر اپنانے سے چالیس سے زیادہ ملازمتیں فراہم کی جاسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ ان پیشوں اور سرگرمیوں میں تکنیکی اور انجینئرنگ کے پیشوں کے علاوہ قانونی مشیر، قانونی فرموں، کسٹم کلیئرنس، رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں، سنیما سیکٹر اور ڈرائیونگ اسکول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے منصوبے کا مقصد دو لاکھ 30 ہزارسے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنا ہے۔الراجحی نے وزارتی فیصلوں کے اجرا کے موقعے پر اس بات پر بھی زور دیا کہ ان فیصلوں کا اجرا وزارت کی حکمت عملی کا تسلسل ہے تاکہ قومی کیڈروں کو معیاری اور باوقار ملازمت کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور کام کے لیے ایک پرکشش اور حوصلہ افزا ماحول مہیا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیاں اور ادارے مقامی سطح پر شہریوں کو روزگار کی فراہمی اور مختلف پیشوں کو اپنانے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے حکومت کے ساتھ اس شعبے میں تعاون سے لیبر مارکیٹ کی ترقی، کاردکردگی میں بہتری اور پیداوارمیں اضافہ ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے

رواں سال کے آغاز سے ہی متعدد فیصلے جاری کیے ہیں، جن میں بند کمرشل کمپلیکس، ریستوران کیفے، کیٹرنگ مارکیٹ اور نجی سطح پرتعلیمی پیشوں کو مقامی سطح پراپنانے کیفیصلے شامل ہیں۔اس سے قبل جن شعبوں میں مقامی شہریوں کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں ان میں دندان سازی، فارمیسی، انجینیرنگ اور اکانٹنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *