خاتون نے نکاح نامہ میں خانہ نمبر18 کا حق استعمال کرتے ہوئے شوہر کو طلاق دے دی

لاہور (آن لائن) نکاح خواں کی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی سے مطلقہ خاتون فائدہ اٹھا گئی جس نے اپنی شوہر کو طلاق دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون نے نکاح فارم میں شامل کالم 18 کی شک کو پر کرنے کی بجائے اسے خالی رکھا نکاح فارم کے کالم 18 میں ایک شک یہ بھی شامل ہے کہ طلاق کا اختیار بیوی دیا جاتا ہے یا نہیں۔ کالم 18خالی ہونے کی بنا پر

خاتون نے جعل سازی سے فارم میں اپنا اختیار خود ہی حاصل کر کے اپنے شوہر کو طلاق دے دی، جس کے بعد شوہر انصاف کے حصول کے لئے سیشن کورٹ پہنچ گیا جبکہ اس سلسلے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا ہے جبکہ کالم 18 کی مجوزہ شکوں کو غیر قانونی اور غیر شرعی قرار دے رکھا ہے۔ متاثرہ شخص کے مطابق اس کی سابقہ اہلیہ نے نکاح خواہ کی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نکاح میں لڑکے کی جانب سے ڈالے گئے طلائی زیورات اور 5 مرلے کا ایک مکان بھی بیوی کو حق ملکیت لکھ رکھا ہے۔ دوسری جانب پولیس با اثر ملزمان کے ساتھ مل گئی آئے روز سنگین نتائج کی دھمکیاں پولیس کی آشیرباد پر ملزمان زد کوب کرتے ہیں اور زمین کا قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں تھانہ حویلی گورنگا کے علاقہ چکنمبر 27گھگھ تحصیل کبیر والا کے رہائشی عمران علی خان نے تھانہ حویلی کورنگا کبیر والا ضلع خانیوال پولیس کو درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا کہ میں چک نمبر 27 گھگھ تحصیل کبیر والا ضلع خانیوال کا رہائشی ہوں مجھے وراثت میں رقبہ 26 کینال ملا جس پر سائل و دیگران نے تقیسم اراضی کی درخواست دی تو ریونیو افسر محکمہ مال و عملہ نے موقع پر آ کر اراضی کی تقسیم کی اس موقع پر متعلقہ تھانہ حویلی کورنگا کی پولیس بھی موجود تھی

تقسیم اراضی کی نشاندھی کر کے ریونیو افسر نے ہمیں قبضہ دلوا دیا اور ہم نے موقع پر اپنی زمین جو کہ محکمہ مال کی طرف سے نشاندھی کے بعد ہمیں دی گئی اس میں اپنی فصل کاشت کی اور سرکاری طور پر کی جانے والی نشاندھی کی فیس متعلقہ نیشنل بینک میں جمع کروا دی ایک ہفتے کے بعد جب سائل اپنی زمین میں کاشت فصل کو

نہری پانی لگانے کے لیے گیا تو خضر،سکندر،غلام رسول و دیگر نے آتشی اسلحہ سے لیس ہو کر للکارا اور اپنے ملکیتی اراضی سے نکل جانے کا کہا جس پر میں نے کہا کہ یہ میری زمین ہے تو انہوں نے مجھ پر آتشی اسلحہ تان لیا اور کہا کہ جان کی خیر چاہتے ہو تو یہاں سے چلے جاؤ ہم قبضہ گروپ کے لوگ ہیں اور ہمارا کام پیسے لیکر

قبضہ کرنا ہے اور ہمارا پولیس میں بڑا اثر رسوخ ہے تمھارا کچھ نہیں بنے گا شور شرابہ سن کر محمد یار ظفر اقبال و دیگر موقع پر آگئے جنہوں نے میری جان چھڑائی اور ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے،قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھاگ گئیعمران علی خان نے مزید بتایا کہ اس کی وراثتی زمین 26کینال کا قبضہ محکمہ مال کی طرف سے

دیا گیا اور ملزمان پولیس میں اثر ورسوخ کی وجہ سے آئے روز تنگ کرتے ہیں اور زمین کا قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں پولیس مکمل طور پر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے درج مقدمہ میں بھی ملزمان کو فائدہ دیتے ہوئے کمزور دفعات لگائے با اثر ملزمان سے مجھے جان کا خطرہ ہے اعلیٰ حکام خصوصاً آئی پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میری اس قبضہ مافیا سے جان چھڑاتے ہوئے میری داد رسی کریں اور مجھے تحفظ فراہم کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *