بھارت بائیوٹیک کا اپنی ساختہ کوویکسین کے 934فی صد تک موثرہونے کا دعوی

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی دواساز فرم بھارت بائیو ٹیک نے دعوی کیا ہے کہ اس کی ساختہ کووِڈ19کی ویکسین کلینکی جانچ کے تیسرے مرحلے میں کروناوائرس کی تمام شدید علامات کے مقابلے میں 934 فی صدتک موثر ثابت ہوئی ہے۔ان نتائج سے ملک میں کو

ویکسین پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ اس دواساز فرم کے ڈیٹا کے مطابق کوویکیسن کرونا وائرس کی نئی شکل ڈیلٹا سے 652 فی صد تک تحفظ مہیا کرتی ہے۔ڈیلٹا قسم کی بھارت ہی میں سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔اس کے پھیلنے کے بعد اپریل اور مئی میں کووِڈ19 کے مریضوں کی یومیہ تعداد اور ہلاکتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا تھا۔گذشتہ ماہ برطانیہ کی دوا سازکمپنی آسٹرازینیکا نے بھی ایک مطالعے کے نتائج کی بنیاد پر یہ کہا تھا کہ اس کی ویکسین کروناوائرس کی نئی شکلوں ڈیلٹا اورکپا کے مقابلے میں مثرہے۔بھارت میں اس وقت کروناوائرس سے بچا ئوکے لیے آسٹرازینیکا کی ویکسین لگائی جارہی ہے لیکن یہ بھارت ساختہ ہی ہے اور اس کو بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ میں تیار کیا جارہا ہے۔اس دواساز فرم نے گذشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ اس نے جولائی سے ویکسین کی اپنی ماہانہ پیداوار بڑھانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور ایک ماہ میں ویکسین کی قریبا 10 کروڑ خوراکیں تیار کی جائیں گی۔بھارت بائیوٹیک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کوویکسین کی ایک ماہ میں دوکروڑ 30 لاکھ خوراکیں تیار کرے گی۔اس کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کی جانچ کا ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا جب اس کی شراکت دار فرم آکوجین نے کہا کہ وہ امریکا میں ویکسین کی مکمل منظوری کے لیے درخواست دائر کررہی ہے۔یہ فرم بھارت بائیوٹیک کے اشتراک سے امریکا کی مارکیٹ کے لیے کوویکسین تیار کررہی ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں اب تک کروناوائرس کے تین کروڑ ساڑھے چارلاکھ کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے۔ان میں سے چار لاکھ مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔ بھارت امریکا کے بعد دنیا میں کروناوائرس سے متاثرہ دوسرا بڑا ملک ہے۔امریکا میں کروناوائرس سے تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.