عیدالاضحی پرکووڈ19 کی چوتھی لہر زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے طبی ماہرین نے خبردار کر دیا

کراچی(این این آئی)ماہرین طب نے کہا ہے کہ عیدالاضحی پرکووڈ19 کی چوتھی لہر زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے ، عیدقربان کے موقع پرجانورکی خریداری کے لیے لاکھوں افراد منڈیوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس بات کا قومی امکان ہے کہ یہ وائرس شدت اختیار کر سکتا ہے لہٰذا جانوروں کی منڈیوں میں غیرضروری جانے سے گریز کیاجائے، منڈی میں بچوں اور اہل خانہ کو ہرگزساتھ نہ لایا جائے، جانوروں کی خریداری کے لیے اگر جانا ضروری ہے تو ہاتھوں پر مکمل دستانے، منہ پر ماسک اور جوتے ضرور پہنے، انھوں نے بتایا کہ کوویڈ کی چوتھی لہر کی شدت تیسری

لہر سے زیادہ متوقع ہوگی، لہذا کوویڈ وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے فوری طور پر ویکسی نیشن کرائی جائے، ایک جانور کی خریداری کے موقع پر جانور کے جسم پرسیکٹروں افراد ہاتھ لگاتے ہیں اگرکسی کے ہاتھ میں موجودوائرس جانور کی کھال پر منتقل ہوسکتا ہے اوراس جانور سے یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے لہذا ایسی وبائی صورت میں جانورکی خریداری آن لائن ہی محفوظ ہوگی۔اس ضمن میں ڈائویونیورسٹی کے مالیکولر پیتھالوجیسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلائواورخطرے کے حوالے سے بتایا کہ اس ویرینٹ میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے یہ ویرینٹ انسانی جسم میں اپنی نشوونما بہت تیزی سے کرتا ہے اوراپنی موجودگی کا شدت سے احساس دلاتا ہے یہ ویرینٹ برطانیہ، جنوبی افریقہ اوربرازیل کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے ڈیلٹا ویرینٹ سے محفوظ رہنے کے لیے مسلسل ماسک کااستعمال اورمکمل ویکسی نیشن لازمی ہے کیونکہ اس میں دہری جنیاتی تبدیلی ہے۔انہوں نے بتایابتایا کہ اگر چوتھی لہر نے شدت اختیار کی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور اسپتالوں میں متاثرین کے شدید دبائوکا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ہجوم میں جانے سے گریز کریں۔عید قربان کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ جانوروں کی منڈیوں میں لاکھوں افراد کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے اس بات کا قومی امکان ہے کہ یہ وائرس شدت اختیار کر سکتا ہے لہٰذا جانوروں کی منڈیوں میں غیرضروری جانے سے گریز کیاجائے، منڈی میں بچوں اور اہل خانہ کو ہرگزساتھ نہ لایا جائے، کیونکہ عیدقربان کے موقع پرجانورکی خریداری کے لیے لاکھوں افراد منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ ایک جانور کی خریداری کے موقع پر جانور کے جسم پرسیکٹروں افراد ہاتھ لگاتے ہیں اگرکسی کے ہاتھ میں موجودوائرس جانور کی کھال پر منتقل ہوسکتا ہے اوراس جانور سے یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے لہذا ایسی وبائی صورت میں جانورکی خریداری آن لائن ہی محفوظ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جانوروں کی منڈیاں اور خریدو فروخت انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں کی جاتی ہے جبکہ ان منڈیوں میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیربھی ہوتے ہیں جن میں بیکٹیریا اور وائرس بھی شامل ہوتے ہیں جوکہ کسی بھی انسان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں، ہمارے معاشرے میں جانوروں کی خریداری فیشن بن گئی ہے عام طورپر دیکھاگیا ہے کہ ایک جانورکی خریداری کے لیے ایک درجن افراد ساتھ جاتے ہیں جبکہ بعض شہری اہل خانہ کوبھی منڈی لے جاتے ہیں کورونا کی عالمی وبا میں اہل خانہ اوربالخصوص بچوں کو ہرگزمنڈی نہ لے جایا جائے، منڈی سے واپسی پر اہل خانہ سے ملے بغیر غسل کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ رات گئے تک لاکھوں افراد منڈیوں میں موجود ہوتے ہیں جس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ وائرس ایک سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، انھوں نے بتایا کہ عید قرباں کے موقع پر ملک بھر سے بڑے پیمانے پر جانوروں کی آمدورفت ایک سے دوسرے صوبوں میں کی جاتی ہے، جس میں بیمار جانور بھی شامل ہوتے ہیں، چونکہ پاکستان میں کوویڈ کی تیسری لہر جاری ہے جس میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے لیکن عیدقرباں کے موقع پر کوویڈ کی چوتھی لہر زیادہ تیزی سے حملہ آور ہوسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ جانوروں کی خریداری کے لیے اگر جانا ضروری ہے تو ہاتھوں پر مکمل دستانے، منہ پر ماسک اور جوتے ضرور پہنے، انھوں نے بتایا کہ کوویڈ کی چوتھی لہر کی شدت تیسری لہر سے زیادہ متوقع ہوگی، لہذا کوویڈ وائرس سے محفوظ رہنے کیلیے فوری طور پر ویکسی نیشن کرائی جائے۔ صوبائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹرصحت کراچی ڈاکٹر اسماعیل میمن نے بتایا کہ کراچی کی تمام جانور منڈیوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.