ماسٹر پیس

میرے پاس چند دن قبل ایک صاحب تشریف لائے‘ عمر ساٹھ سال سے زائد ہو گی‘ باریش تھے لیکن انگریزی بہت ہی شستہ بول رہے تھے‘ وہ فرمانے لگے ’’میں گفتگو سے قبل آپ کو اپنا پورا تعارف کرانا چاہتا ہوں‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے‘ میں نے دینی اور دنیوی دونوں قسم کی تعلیم حاصل کی ہے‘ مدرسے میں پڑھتا رہا ہوں‘ حفظ بھی کیا اور فقہ بھی پڑھی‘

مفتی نہیں ہوں لیکن مفتیوں سے کم بھی نہیں ہوں‘ والدین برطانیہ میں رہتے تھے چناں چہ دینی تعلیم کے بعد لندن چلا گیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے فزکس میں ڈگری لی‘ دس سال مانچسٹر یونیورسٹی میں فزکس پڑھائی اور پھر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر لی‘ میں اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوں‘‘ ۔میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’میں نے اپنا یہ تعارف صرف یہ بتانے کے لیے کرایا میں صرف سائنس کا طالب علم نہیں ہوں بلکہ میں نے مذہبی تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے لہٰذا میرا زاویہ یک رخی نہیں‘‘ میں خاموش بیٹھا رہا‘ وہ بولے‘ میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں‘کیاآپ واقعی دوسرے جنم یا ری ان کارنیشن (Reincarnation) پر یقین رکھتے ہیں؟ میں نے فوراً انکار میں سر ہلا کر جواب دیا ’’جی نہیں‘ میں یقین نہیں رکھتا‘ میں نے ڈاکٹر برائن وائس کی کتابیں ضرور پڑھی ہیں‘ میری زندگی میں چند ایسے لوگ بھی آئے ہیں جو دوسرے یا تیسرے جنم کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن آج کا مائینڈ اس وقت تک یقین نہیں کرتا جب تک کوئی ٹھوس سائنسی دلیل موجود نہ ہو اور ری ان کارنیشن کی سردست کوئی سالڈ ریزن نہیں ہے لہٰذا مجھ سے یہ فلسفہ ہضم نہیں ہوتا‘‘ وہ مسکرائے‘ میری طرف غور سے دیکھا اور پھر فرمایا ’’میں اگر یہ دعویٰ کروں میں اس پر یقین بھی رکھتا ہوں اور یہ میرا دوسرا جنم بھی ہے تو آپ کی کیا رائے ہو گی‘‘ میں نے غور سے ان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر جواب دیا ’’میں پھر آپ کو مشورہ دوں گا آپ کوئی ماہر نفسیات تلاش کریں‘ آپ کا کوئی نہ کوئی پیچ ڈھیلا ہو رہا ہے‘‘ وہ ہنسے اور پھر بولے ’’یہ رائے میرے لیے بے معنی ہو چکی ہے‘ میں یہ فقرہ بچپن سے سن رہا ہوں‘ میں جب اپنے والدین‘ اساتذہ اور دوستوں کو بتاتا تھا میں اصفہان سے آیا ہوں‘

میری فیملی وہاں کتابوں کی جلد سازی کرتی تھی‘ میں نے بھی یہ آرٹ سیکھا تھا‘میرے والد نے مجھے بچپن میں سعدی شیرازی کی اصل گلستان اور بوستان پڑھائی تھی اور ہمیں پاکستان میں شیرازی کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ ادھوری ہیں تو لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے‘ میں انہیں فارسی بھی بول کر سناتا تھا مگر کوئی شخص میری بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا چناں چہ میں نے یہ کہنا اور بتانا بند کر دیا لیکن میں جب لندن گیا اور میں نے میتھ میٹکس اور فزکس پڑھنا شروع کی اور یہ میرے لیے

انتہائی آسان ثابت ہوئی تو مجھے یاد آیا میں اپنے ایک جنم میں سائنس کا ٹیچر بھی رہا تھا‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ میری ہنسی نکل گئی‘ وہ غور سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’میں آپ کی اس حرکت پر برا نہیں منا رہا‘ مجھے آپ سے یہ ہی توقع تھی لہٰذا آپ میری کہانی کو اگنور کر دیں‘ آپ بس مجھے دو سوالوں کے جواب دے دیں‘‘ میں دوبارہ خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے ’’دنیا میں ہندو اور بودھ دونوں مذاہب کے لوگ ری ان کارنیشن پر یقین رکھتے ہیں‘ ان کی کل آبادی دنیا کا

بیس فیصد بنتا ہے‘ ان میں پروفیسرز بھی ہوں گے‘ سائنس دان بھی‘ کھرب پتی بزنس مین بھی اور نوبل انعام یافتہ مشاہیر بھی‘ ‘ وہ رکے اور غور سے میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ وہ بولے ’’بودھوں کا دلائی لاما مرنے سے پہلے اپنے زائرین کو بتا کر جاتا ہے میں اگلی بار کہاں پیدا ہوں گا اور میری کیا کیا نشانیاں ہوں گی اور وہ پھر وہاں پیدا بھی ہوتا ہے‘ بودھوں میں بھی

بڑے بڑے دماغ موجود ہیں چناں چہ سوال یہ ہے کیا دنیا کی یہ 20 فیصد آبادی پاگل اور بے وقوف ہے؟‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’دنیا کے ڈیڑھ ارب ہندو گائے کے پیشاب کو بھی امرت سمجھتے ہیں‘ کیا ہمیں یہ بھی پینا شروع کر دینا چاہیے‘‘ وہ ہنس کر بولے ‘مجھے یقین تھا آپ یہ بات ضرور کریں گے لہٰذا میں اب دوسرے سوال کی طرف آتا ہوں’’ کیا آپ دروز (Druses) کے بارے میں جانتے ہیں‘‘ میں نے عرض کیا

’’جی ہاں یہ لوگ فلسطین‘ لبنان‘ شام اور اردن میں رہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں‘‘ وہ بولے ’’یہ مسلمان ہونے کے باوجود دوسرے جنم پر یقین رکھتے ہیں‘ کیا یہ بھی فاترالعقل اور پاگل ہیں؟ دوسرا میں آپ کے سامنے چند آیات رکھتا ہوں‘ آپ یہ پڑھیں اور بتائیں ان کا مطلب کیا ہے‘‘۔وہ رکے‘ جیب سے ایک کاغذ نکالا اور میرے سامنے رکھ دیا‘ یہ 27 ویں پارے کی سورۃ واقعہ کی آیات نمبر60‘ 61 اور 62 تھیں‘نیچے ترجمہ درج تھا ’’ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے اور ہم اس سے

عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے‘ اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو پھر کیوں سبق نہیں لیتے‘‘۔ کاغذ کی دوسری طرف آیات کا دوسرا ترجمہ بھی تھا‘ وہ کچھ یوں تھا ’’ہم ہی نے تم میں موت کو معین کر دیا ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بے خبر ہو‘‘ میں یہ پڑھ کر ایک بار گڑبڑا گیا تھا لیکن پھر لمبا سانس لے کر عرض کیا ’’سر میں عالم دین نہیں ہوں‘ میں ان آیات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا‘ آپ کسی عالم دین سے

رابطہ کریں‘‘ وہ ہنسے اور پھر بولے ’’آپ یہ بھی چھوڑ دیں اور مجھے ایک سوال کا جواب دیں‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے’’ کیا ہم مسلمان موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان نہیں رکھتے؟‘‘ میں نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا ’’بے شک یہ ہمارا ایمان ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز ہرگز دوبارہ جنم نہیں ہے‘ ہم فوت ہوں گے‘ روز حشر ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ اٹھا کر ہم سے حساب لے گا‘‘ وہ مسکرائے اور پوچھا ’’ہم سے کیا حساب لیا جائے گا‘‘ میں نے عرض کیا ’’مذہب کے بارے میں میرا علم بہت سطحی ہے‘ میں زیادہ نہیں جانتا لیکن شاید ہم نے زندگی میں جو اچھائی یا برائی

کی ہو گی ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ وہ جوش سے ٹانگ پر ہاتھ مار کر بولے ’’یہ ہوئی ناں بات یعنی ہم سے اس دنیا کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’دوسرے جنم کو ماننے والے بھی یہی کہتے ہیں بس تھوڑا سا تشریح کا فرق ہے‘ وہ سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ایک خوب صورت گھر بنایا ہے‘ اس گھر میں ہر قسم کی سہولتیں پیدا کی ہیں‘ پرندے‘ چرندے‘ پھل‘ پھول‘ ندیاں‘ دریا‘ سمندر‘ بدلتے ہوئے موسم‘ صبح وشام کا کھیل‘ روشنی‘

ہوا‘ پانی‘ آگ اور کھیتیاں اور جنگل اگائے ہیں اور اس گھر کا نام زمین یا دنیا رکھا ہے‘ یہ زمین قدرت کا ماسٹر پیس ہے‘ قدرت نے اس کے بعد انسان کو پیدا کیا اور اسے اپنا گھر دیکھنے کے لیے زمین پر اتار دیا‘ ہم یہاں اس دنیا میں اللہ کا ماسٹر پیس دیکھنے آتے ہیں‘ ہم تین قسم کے لوگوں میں تقسیم ہیں‘ ایک آتے ہیں‘ دیکھتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں‘ دوسری قسم کے لوگ آتے ہیں اور اللہ کے اس گھر (زمین) کو پہلے سے بہتر اور خوب صورت بنادیتے ہیں‘ یہ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے سہولتوں میں

بھی اضافہ کردیتے ہیں اوریہ محسن کہلاتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ اللہ کے گھر کو خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ پہلی اور دوسری قسم کے لوگوں کو تنگ بھی کرتے ہیں‘ میرا خیال ہے حشر کے دن اللہ تعالیٰ تینوں قسم کے لوگوں کو اٹھا کر پوچھے گا بتائو تمہیں میرا ماسٹر پیس کیسا لگا تھا‘ ہم جواب دیں گے اور اللہ اپنے گھر کو بہتر بنانے والوں کو انعام دے گا‘ گھر اور سیاحوں کو

نقصان پہنچانے والوں کو سزا دے گا اور صرف سیاحت کر کے واپس آنے والوں کا فیصلہ فرشتوں اور انبیاء پر چھوڑ دے گا‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا ’’لیکن اس کہانی میں بار بار کے جنم کہاں فٹ ہوتے ہیں‘‘ وہ فوراً بولے ’’قدرت پہلی قسم کے لوگوں کو اس وقت تک بھجواتی رہتی ہے جب تک یہ اس کے ماسٹر پیس کو مکمل طور پر نہیں دیکھ لیتے‘ یہ دوسری قسم کے لوگوں کو بھی

ماسٹر پیس کی ریپیئرنگ اور سیاحوں کی خدمت کے لیے بار بار بھجواتی رہتی ہے جب کہ قدرت تیسری قسم کے لوگوں کو اس وقت تک بھجواتی رہتی ہے جب تک یہ اپنی اصلاح نہیں کر لیتے اور یہ بھی عین ممکن ہے ہم میں کسی ایک گروپ کے لیے کسی جنم کو جنت بنا دیا جاتا ہو اور کسی کے لیے اسی دنیا کو دوزخ کی شکل دے دی جاتی ہو‘ کیا آپ نے لوگوں کے منہ سے یہ نہیں سنا میری زندگی دوزخ سے بدتر ہے یا قدرت نے مجھے دنیا میں جنت دے دی‘ یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے کبھی غور کیا‘‘ وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے ان سے پوچھا ’’اور روحیں کتنی قسم کی ہوتی ہیں‘‘ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتے رہے اور بولے ’’سات قسم کی اور یہ قسمیں‘ قسمیں نہیں ہیں یہ درجے ہیں‘ روح ایک درجے کے بعد پروموٹ ہو کر اگلے درجے میں چلی جاتی ہے‘‘ میں نے لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں‘ ان کی باتیں میرے چھوٹے سے ذہن سے اونچی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.