کورونا کی دو مختلف ویکسنیوں کی خوراکیں زیادہ بہتر نتائج دیتی ہیں، نئی تحقیق

کراچی(این این آئی)عالمی وبا قرار دیئے جانے والے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے تیار کردہ دو مختلف ویکسینز لگوانے سے بہتر قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے جو بیماری کے خلاف زیادہ مزاحمت کرتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہی ویکسین کی

دو خوراکوں کے بجائے اگر دو مختلف ویکسینز کی خوراکیں لگوائی جائیں تو کووڈ 19 سے لڑنے کی صلاحیت زیادہ بہتر ہو جاتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیاہے جن میں سے کچھ کو فائزر اور ایسٹرازینیکا ویکسینز کی دو خوراکیں دی گئی تھیں جب کہ دیگر کو دونوں خوراکیں ایسٹرازینیکا ویکسینز کی دی گئی تھیں۔تحقیق میں یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ لوگوں کو پہلے ایسٹرازینیکا اور پھر فائزر ویکسین کی خوراک دینا زیادہ بہتر ردعمل کے لیے تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے؟نتائج کے مطابق اگرچہ فائزر کی دو خوراکیں دو ویکسینز کے امتزاج سے زیادہ اینٹی باڈیز بناتی ہیں لیکن دو ویکسینز سے لوگوں میں زیادہ طاقتور ٹی سیل ردعمل بنتا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو اسنیپ نے اس حوالے سے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ چار ہفتوں کے وقفے سے دو مختلف ویکسینز کا استعمال ایسے مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتا ہے جو ایک ہی ویکسین ایسٹرازینیکا ویکسین سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ماہر پروفیسر جوناتھن وان ٹام نے اس ضمن میں بتایاکہ ڈیٹا اہم سمت کی جانب پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دو ویکسینز کا امتزاج چار ہفتوں میں لوگوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔پروفیسر جوناتھن وان ٹام نے کہاکہ ویکسینیشن پروگرام سے اب تک ہزاروں جانیں بچائی جاچکی ہیں لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ دو مختلف ویکسینز کا استعمال لوگوں کو تحفظ کے پروگرام کو زیادہ لچک فراہم کرسکتا ہے جب کہ اس سے ان مماک کو بھی مدد مل سکے گی جن کو ویکسینز کی سپلائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.