ہائیکورٹ نے 3بچوں کو والد سے لے کر ماں کے حوالے کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد بچوں کی چیخ و پکار

لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی بازیابی کی دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے3بچوں کو والد سے لے کر ماں کے حوالے کردیا،بچے چیخ و پکار کرتے ہوئے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کرتے رہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے نائمہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے بچے والد سے لے کر والدہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا تو بچے والدہ کے ساتھ جانے

انکار کرتے رہے اور اس دوران بچے دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔والد کی جانب سے وکیل نے کہا کہ بیوی چارماہ قبل بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی اتنی دیرتک بچوں کا خیال تک نہیں آیا۔درخواست گزار بیوی کا کہناتھاکہ شوہر آئے دن لڑائی جھگڑا کرتا تھا، والدین کی طرف رہ رہی ہوں،شوہر بچوں کی تربیت نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب لاہورہائیکورٹ نے سڑکوں کے ٹھیکیدار کو17 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کیخلاف دائر درخواست پرسماعت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سمیت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی میں شامل تمام افسروں کو آج جمعرات دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ محمدقاسم خان نے رائل کنسٹرکشن کمپنی کے عدیل اکبر کی درخواست پرسماعت کی۔عدالتی حکم پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اسد اللہ، ڈی سی فیصل آبادمحمدعلی،سی ٹی او فیصل آباد سہیل چودھری سمیت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی فیصل آباد میں شامل تمام افسران پیش ہوئے۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری صاحب نوکری توبڑی مشکل ہے۔ جس پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بولے جی سر،بالکل نوکری تو مشکل ہے۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ محمدقاسم خان نے کہاجب تک بڑے لوگوں کی خوش آمد نہ کی جائے تب تک اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی۔

سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے جواب دیا 200 ملین کے کلیم سے 114 ملین روپے درخواست گزار کو ادا کر دیئے ہیں،رقم کی ادائیگی کے حوالے سے رپورٹ بھی جمع کروا دی ہے۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ محمدقاسم خان نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاآپ نے کابینہ سے منظوری کے بغیرکمیٹیاں بنائی ہیں؟۔ جس پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے جواب دیاآپ رپورٹ پڑھیں گے تو

سارا معاملہ واضح ہو جائے گا۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی رپورٹ میں اپنا تشخص مزید خراب ہی کیا ہے۔سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے جواب دیا سر خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ یہ رپورٹ عین شفاف انداز میں بنائی گئی ہے۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیئے اگر ہم خدا کو اس انداز میں حاضر و ناظر

جانتے تو یہ بندہ 10 سال سے دھکے نہ کھاتا، بدقسمتی ہے کہ دین کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے کہا کہ دین کو ایک طرف رکھتے ہیں، میں رپورٹ پڑھ کر سناتا ہوں۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میں یہاں آپ کو سننے نہیں بیٹھا، مجھے بتائیں آپ نے کمیٹیاں کیسے تشکیل دیں؟۔ درخواست گزار کے وکیل نے

موقف اختیار کیاکہ درخواست گزار نے فیصل آباد اور سرگودھا کے متعدد علاقوں کی سڑکیں تعمیر کیں، سڑکوں کی بروقت تکمیل کے باوجود 17 کروڑ روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے ٹھیکیدار کو رقم کی ادائیگی کا حکم دیاتو وزیر اعلی اور فنانس ڈیپارٹمنٹ نے فنڈز ریلیز کرنے کی منظوری دی،فنڈز منظور ہونے کے بعد حکومتی ایم این اے

فیض اللہ کموکا نے ڈی سی فیصل آباد سے ملاقات کی،ڈی سی فیصل آباد نے حکومتی ایم این اے کے کہنے پر فنڈز روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی عدالت فنڈز جاری کرنے کا حکم دے۔فاضل عدالت نے ٹھیکہ دار کو رقم کی عدم ادائیگی پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سی فیصل آباد سمیت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی میں شامل تمام افسران کو آج جمعرات پھر پیش ہونے کاحکم دیدیا جبکہ خاتون افسروں کی حاضری سے استثنیٰ دیدیا گیا۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں افسروں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے تیار رہنے کاعندیہ دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.