شناختی کارڈ نمبر کا اندراج نہ کرنے والے صارفین کا گیس کنکشن منقطع کرنے کا فیصلہ

پشاور (آن لائن، این این آئی) سوئی ناردرن گیس کمپنی شناختی کارڈ نمبر کا اندراج نہ کرنے والے صارفین کا گیس کنکشن منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے سوئی ناردرن گیس کے ذرائع کے مطابق کمپنی کے سسٹم پر شناختی کارڈ کے اندراج نہ کرنے کے باعث ہزاروں صارفین کی نشاندہی کردی گئی ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع

میں ایس این جی پی ایل کی جانب سے گیس کنکشن منقطع ہونے پر ری کنکشن شناختی کارڈ کے بغیر نہیں کیا جاتا جس کے باعث 20سے 30 سال قبل لگانے والے کنکشن کے حامل صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے ان کے شناختی کارڈڈھونڈنا مشکل ہے۔ جسکے باعث صارفین بھی پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی و پٹرولیم تابش گوہر نے کہا ہے کہ اینگرو ایل این جی ٹرمینل شیڈول مینٹیننس کیلئے 30 جون کوبند کیا جائے گا، اس کا متبادل جہاز اتوار تک کراچی پہنچ جائے گا، دو سے تین روز مشکلات آسکتی ہیں جن پر گیس لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے جلد از جلد قابو پا لیا جائے گا۔ ایک انٹر ویومیں انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو آج بھی پوری گیس مل رہی ہے جس میں کوئی کمی نہیں کی جارہی، اس کے علاوہ وفاق بھی کے الیکٹرک کو ہزار میگاواٹ بجلی مہیا کر رہا ہے، اس کے باوجود کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس کا کے الیکٹرک کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو چار روز سے کراچی میں گیس کی جو کمی آئی ہے اس کی وجہ کنر پساکھی گیس فیلڈ کی مرمت ہے جو گزشتہ 22 ماہ سے زیر التوا تھی، اب او جی ڈی سی نے کہا کہ اگر اب بھی اس کی مرمت نہ کی گئی تو مشینری میں خرابی پید اہوسکتی ہے، تو مجبورا اسے مرمت کی

اجازت دینی پڑی۔ تابش گوہر نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا پچاس کے قریب گیس فیلڈزہیں جنہیں سردیوں میں مرمت کی اجازت نہیں دی جاتے انہیں گرمیوں میں ہی مرمت کیا جانا ہوتا ہے، بہت ساری فیلڈ کی مرمت درکار ہے جنہیں آگے بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں گیس ٹرمینل میں کچھ پیچیدگیاں ہیں، جس میں پہلے ٹرمینل پر نیب کی

کارروائی ہو رہی ہے جس کی بہت سخت بندش ہے، دوسرے ٹرمینل پر بین الاقوامی سطح پر بات چیت چل رہی ہے جس کیلئے کوشاں ہیں کہ سردیوں سے قبل اس کو پورا کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آئل کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے جاتے ہیں تو انہیں پابند کیا جاتا ہے کہ آئل سٹوریج بنائیں،ان دونوں ٹرمینلز کو جب پانچ سال قبل

لائسنس دیے گئے تو انہیں ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید کی گئی تھی کہ گیس سٹوریج بڑھائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک لوڈ شیڈنگ کا معاملہ ہے تو ملک کے 70 فیصد فیڈرز پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، باقی 30 فیصد فیڈرز میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جہاں لوگ بل ادا نہیں کرتے یا بجلی کا غیر قانونی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.