تم وہی شہد کی بوتل والے ہو،رانا تنویر حسین اور علی امین گنڈا پورکے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ میں کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دوران مسلم لیگ(ن)کے رکن قومی اسمبلی رانا تنویر اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈاپور کے درمیان تلخ کلامی سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں کہ اس حکومت کے درجنوں

ترجمان ہیں۔پہلے صرف وزیر اطلاعات حکومت کا ترجمان ہوتا تھا۔کئی حکومتی ترجمان وقتی لوگ ہیں انکا کہنا تھا کہ کئی حکومتی ترجمان آئندہ انتخابات میں دوسری جماعتوں میں ہوں گے، عمران خان کی کابینہ کو اتنے پیسے نہیں دینے چاہیے،پہلے عمران خان اپنی کابینہ تبدیل کریں۔حکومت میں ایسے لوگ ہیں جیسے ہاتھی شیشے کے گھر میں گھس آیا ہو،انکا کہنا تھا کہ نیب صرف انتقامی کاروائیاں کر رہا ہے۔نیب سے پیسوں کا حساب مانگا جائے تو بتاتے ہی کچ نہیں۔رانا تنویر حسین نے بحث کے دوران وفاقی وزیر امور کشمیر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ گالم گلوچ بریگیڈ ہے۔علی امین گنڈا پور نے آدھا کشمیر بیچ دیا جو آزاد ہے وہ بھی بیچنے جارہے ہیں۔انکی تقریر کے دوران علی امین گنڈا پور نے ایوان میں شور شرابا شروع کر دیا جس پر رانا تنویر نے کہا کہ آپ اپنی آواز تو پہلے ٹھیک کرلیں۔اس پر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ شاید آپ مجھے جانتے نہیں ہو۔اس پر رانا تنویر حسین نے کہ کہ بہت اچھی طرح جانتا ہوں تم وہی شہد کی بوتلوں والے ہو۔دونوں کے درمیان تلخ کلامی میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مداخلت کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور سے کہا کہ آپ چپ ہو جائیں اور نشست پر بیٹھ جائیں۔ جس پر علی امین خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے اور رانا تنویر کو گورتے رہے تاہم رانا تنویر حسین تقریر کے دوران

بار بار علی امین گنڈا کی طرف دیکھتے رہے۔اس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے رانا تنویر سے کہا کہ آپ علی امین کو نہیں سپیکر کی چیئرکو مخاطب کریں۔ رانا تنویر نے کہا کہ یہ وہ وزیر ہے جس کے پاس سے کالا شہد نکلتا ہے۔ بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دونوں اراکین کو خاموش ہونے کا حکم دیا اور رانا تنویر کا

مائیک بندہ کر دیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں منسٹری آف توانائی کے بجٹ میں کٹوتی کی تحاریک پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے کہا کہ سندھ میں گیس کی بندش جاری ہے حالانکہ سندھ سب سے ذیادہ گیس بناتا ہے۔کراچی کا پہیہ رکتا ہے تو پاکستان کی توقی کا پہیہ رک جاتا ہے سندھ

گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ میں ہی گیس موجود نہیں۔ کراچی میں بجلی کا بھی بہران ہے اسپر حکومت اقدامات نہیں کر رہی۔12 سے 14 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہے تو ملک کیسے ترقی کرے گا۔ مہنگائی عروج پر ہے لیکن پٹرول مزید بڑھانے جارہے ہیں انکا کہنا گھا کہ تین سالوں سے ٹرانسمیشن لائنز نہیں بنائی 5 روپے فی یونٹ کے ریٹ کو

30 روپے پر لے گئے۔ کانکن کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے ہر سال کئے کانکن مر جاتے ہیں۔چوہدری ریاض الحق نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت آنے پر 12 سے 14 کھنٹے لوڈ شیڈنگ تھی لیکن ہم نے اس مسئلے کو ہل کیا لیکن عمران خان کی حکومت آنے پر دوبارہ 6 سے 8 کھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی۔ پاکستان مسلم

لیگ نواز نے بجلی چوری نا ہونے کے برابر کر دی ہم نے ڈیمز کے منصوبے شروع کئے۔واپڈا ناقص بجلی پولز خرید رہے ہیں جسکی وجہ سے ہزاروں ملازمین کی اموات ہوچکی ہیں۔ ہمارے دور میں ہائیڈرو بجلی پیدا کر رہے تھی فرنس آئل سے بھی کر رہے تھے لیکن انہوں نے ان منصوبوں کو بھی برباد کر دیا آج کوئلے سے پیدا کر رہے

ہیں جو 28 روپے یونٹ پڑتی ہے۔ 28703 میگا واٹ بجلی پیدا کر کے گئے تھے ملک کو 26000 میگاواٹ ضرورت ہے لیکن پھر بھی لوڈشیڈنگ ہے اسکا جواب دیں۔ ممبر قومی اسمبلی ہاشم نے کہا کہ بلوچستان کے پاور پلانٹ میں پیدا ہونے والی بجلی بھی صحیح طرح استعمال ہو تو لوڈ شیڈنگ نا ہو لیکن آج بلوچستان میں 10 کھنٹے

تک لوڈشیڈنگ ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا انرجی کے منسٹر ایوان میں موجود نہیں ہیں تو لیکن ہم انکی منسٹری کے بارے بات کر رہے ہیں ہم بجٹ پر بات کر رہے ہیں لیکن منسٹر موجود نہیں ہیں۔حکومت کی شروعات پر 1.8 ٹرلین تھا آج 2.8 ٹریلن پر ہے اسکا اثر انرجی سیکٹر پر آتا ہے۔سرکلر ڈیٹ کو قابو نہیں کر سکتے تو انرجی سیکٹر میں

ریفارمز کیسے لائیں گے۔ الٹرنیٹ انرجی سیکٹر میں کوئی بہتری نہیں آئی۔پٹرولیم مصنوعات پر 30 روپے بڑھانے کو سوچ رہے ہیں مہنگائی پر مہنگائی کر رہے ہیں۔ ہمارے حلقے میں بھی بجلی افسران کے کرپشن عروج پر ہے غریبوں کو بڑے بڑے بلز دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بک بھروائیں ورنہ بجلی کاٹ دی جائے گی۔ممبر قومی

اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ چترال میں ٹرانسفارمر کی بہت ضرورت ہے اگر ٹرانسفارمر جل جائے تو علاقہ مکینوں سے چندا لیا جاتا ہے اور وہ اپنے خرچے پر ٹرانسفارمر ٹھیک کروانے کیلئے بجلی دفتر لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کیلئے اسٹور دیا جائے اور مشکل وقت کیلئے بھی ٹرانسفارمر دئے جائیں

انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں لوگوں کو 6 مہینے بل نہیں ملتا اور جب ملتا ہے تو مزید چالان ملا کر بل بھیج دیتے ہیں کئی گنا بڑھا کر۔ممبر قومی اسمبلی سید محمود شاہ نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی خا مسئلہ ہے اور بجلے کے بل اتنا ذیادہ آتا ہے کہ غریب آدمی افورڈ نہیں کر سکتا ہوارے علاقوں کے کئے دیہاتوں میں بجلی موجود

نہیں ہے۔ پٹرول کی قیمت کہا پہنچا دی اور گیس کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جن صوبوں میں سے گیس نکلتی ہے اسی صوبے کو گیس نہیں ملتے۔ ممبر قومی اسمبلی میر منور علی تالپور نے کہا کہ یہی مسئلے ہمارے علاقوں میں بھی ہیں ٹرانسفارمر جل جائیں تو وہ ٹھیک نہیں ہوتے بجلی موجود نہیں ہے جب بل آتے ہیں تو

سوچ سے بھی ذیادہ آتے ہیں۔ بلوچستان گیس بناتا ہے اسے گیس نہیں ملتے سندھ بھی گیس بناتا ہے وہاں بھی گیس موجود نہیں ہے غریب آدمی بہت پریشان ہے۔محسن داوڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں بجلی نہیں ہے وہاں پر بجلی منصوبوں میں بھی بہت بڑی کرپشن ہوئی ہے۔ کچھ علاقوں میں بجلی آج تک نہیں پہنچائی گئی۔ پٹرولیم لیوی ان

علاقوں پر لگائی جارہی ہے جو پٹرولیم مصنوعات پیدا کرتے ہیں۔ شازیہ مری نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے توانائی پر 182 کٹ موشنز ڈالے ہیں۔ ہم نے بجلی کے بڑھتے بلو پر اور لوڈشیڈنگ پر بھی بات کی ہے۔ پاکستان کی عوام کیلئے لوڈشیڈنگ ناسور بن چکی ہے حکومت نے لوڈشیڈنگ کٹ موشن پر بھی

اعتراض کیا گردشی قرضہ آج 2.5 کھرب ہوگیا ہے۔بجلی کا مسئلہ حل کرنا ہے تو عوام پر چور چور کا نعرہ لگانا چھوڑیں اور اقدامات کریں۔میرے علاقے سے گیس نکلتی ہے آئین کے تحت جس علاقے سے گیس نکلے تو اسکا پہلا حق ہوتا ہے لیکن ہمارے علاقوں میں گیس موجود نہیں ہے۔سندھ کی انڈسٹریز کی گیس منقطع کر دی گئی ہے۔

اسکا نقصان پاکستان کو ہوگا۔ممبر قومی اسمبلی علی گوہر خان نے کہا کہ بار بار وزراء کو تبدیل کرنے سے حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی ملک کے گردشی قرضے بڑھ گئے اسکی ذمہداری کون لے گا۔ خود کوئی بجلی کا پلانٹ نہیں لگا سکے ہمارے لگائے کارخانوں پر تنقید کرتے ہیں۔4 ڈالر پر ایل این جی تھی آج ایل این جی کا بحران ہے جس شخص کا کاروبار ہوتا ہے اسے وزارت دے دیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.