سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ20فیصد،ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں فنانس بل 2021-22میں سینٹ کی طرف سے سفارشات پیش کر دی گئیں جن میں کہاگیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ20فیصد،ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال مقرر کی جائے،بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائی جائے، پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ نہ کیا

جائے،صحت کے شعبے پر ود ہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد سے 3فیصد کیا جائے،آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت نیا این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے،صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے بجٹ دوگنا کیا جائے،سونے پر 17 فیصد کے سیلز ٹیکس کے نفاذ واپس لیا جائے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں سینٹ سفارشات میں کہاگیاکہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ 20 فیصد کیا جائے اور سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال مقرر کی جائے،بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی لائی جائے، پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لئے ایف بی آر میں اصلاحات کی جائیں، لوگوں کو گرفتار کرنے کا ایف بی آر کا اختیار ختم کیاجائے۔ سینیٹ نے سفارش کی کہ صحت کے شعبے پر ود ہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد سے 3 فیصد کیا جائے،اشیا خوردنی پر جی ایس ٹی کا استثنیٰ بحال کیا جانا چاہیے،آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت نیا این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے، فلور ملز کی صنعت سے متعلق تین ٹیکس لاگو نہ کئے جائیں، سرکاری ملازمین کے علاج معالجے، مختلف الاؤنسز اور پراویڈنٹ اور پنشن فنڈز پر ٹیکس واپس لیا جانا چاہیے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ وفاقی حکومت بلوچستان کی حکومت کی طرف سے واپڈا کو واجب الادا 25 ارب روپے ادا کرے، وفاقی حکومت

سابق فاٹا اور پاٹا کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وافر فنڈز مختص کرے۔سفارشات میں کہاگیاکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے بجٹ دوگنا کیا جائے۔ اشیائے خوردنی ریٹیل ٹیکس سے مستثنیٰ ہونی چاہئیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لئے کم از کم اجرت 25 ہزار روپے ہونی چاہیے، بیجوں سمیت زرعی آلات کی لاگت

میں اضافے کی وجہ سے چھوٹے کاشتکاروں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں،ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے گرین بینکنگ فنانس سسٹم متعارف کرا کر سرمایہ کاری کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں،کورونا وبا کے دوران خدمات سر انجام دینے والے نیم طبی عملے اور نرسوں کے لئے

خصوصی پے پیکج اور تربیت کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں،آئی ٹی انڈسٹری کے لئے ٹیکس کا استثنیٰ واپس لینے کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ800 سی سی کی گاڑیوں پر 30 ہزار روپے لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس کا نفاذ اور وصولی واپس لی جائے،کوکوا پاؤڈر پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 فیصد تک کم کی

جائے،اسلام آباد میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات پر سیلز ٹیکس 16 فیصد سے کم کر کے 5فیصد کیا جائے،پٹرولیم، خام تیل کی مصنوعات، کا استثنیٰ بحال کیا جائے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ پرانی گاڑیوں کے لئے نئے سپیئر پارٹس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے،18 سے 25 سال کے نوجوانوں کو

کاروبار کے لئے ٹیکسوں اور قرضوں میں مزید سہولیات دی جائیں۔ سفارشات میں کہاگیاکہ جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کر کے 8.5 فیصد کیا جائے، اشیائے خوردنی پر جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کر کے 8.5 فیصد کیا جانا چاہیے،غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیا کی فروخت پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ترمیم واپس لی جائے۔ سفارشات میں

کہاگیاکہ پولٹری فیڈ کے تمام سامان پر 10 سے 17 فیصد کا اضافہ واپس لیا جانا چاہیے۔سفارشات میں کہاگیاکہ سونے پر 17 فیصد کے سیلز ٹیکس کے نفاذ واپس لیا جائے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ کنولا کے بیج پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس لیا جانا چاہیے،غیر ملکی برآمد کنندگان کی غلطی کی وجہ سے درآمد کنندگان پر جرمانہ عائد نہیں ہونا

چاہیے، دودھ کے پاؤڈر یا دودھ کی مصنوعات کی قیمت پر لیوی یا ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے۔ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے لئے سیکشن 37 میں مجوزہ ترمیم واپس لی جائے۔سفارشات میں کہاگیاکہ کنسٹرکشن انڈسٹری کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ سینیٹ نے سفارش کی کہ ڈی ایل ٹی ایل کے لئے فنڈز بڑھا کر 75 ارب کئے جائیں۔ میٹلک

یارن کے حوالے سے بجٹ سے قبل کی صورتحال بحال کی جائے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ ویلڈنگ الیکٹروڈز انڈسٹری کو ففتھ شیڈول میں شامل کیا جائے، پولیسٹر فائبر پر ڈیوٹی 7 فیصد سے 4 فیصد کی جائے۔ سینیٹ نے سفارش کی کہ کوئٹہ مغربی بائی پاس کے لئے مختص رقم کم از کم 2 ارب 50 کروڑ تک بڑھائی جائے، ژوب سے

کچلاک روڈ کے لئے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے،دالبندین سے زیارت تک سڑک کی تعمیر کے لئے مختص رقم تین ارب کی جائے۔ سفارشات میں کہاگیاکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے مختص رقم دو ارب تک بڑھائی جائے،کوئٹہ میں کارڈک سینٹر کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کو شمسی

توانائی پر منتقل کرنے کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں،بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لئے فنڈز مختص ہونے چاہئیں۔ نوشہرہ سے تحصیل درگئی مالاکنڈ کے لئے مسافر ٹرین سروس بحال کی جائے۔ ضلع مالاکنڈ کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وافر فنڈز مختص کئے

جانے چاہئیں۔ سفارشات میں کہاگیاکہ مالاکنڈ ٹنل کے زیر التوا منصوبے پر کام مکمل کرنے کے لئے ایک ارب روپے رکھے جائیں،لواری ٹنل سے چترال شہر تک سڑک کی تکمیل کی جائے، بلوچستان میں ہنگول ڈیم منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے۔ سفارش کی گئی کہ کوئٹہ میں میٹرو بس منصوبہ شروع کیا جائے اور پی ایس

ڈی پی میں وافر فنڈز مختص کئے جائیں، کراچی، پشاور ایم ایل ون منصوبہ ترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ کوئٹہ کی ترقی کے لئے خصوصی پیکج دیا جائے۔ سفارش کی گئی کہ زیارت میں فارسٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں،کوئٹہ، سبی، لورا لائی اور ڑوب میں تجارتی بنیاد پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینے

کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ سفارش کی گئی کہ بلوچستان میں پانچ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے وافر فنڈز مختص کئے جائیں،ضلع خضدار میں یونیورسٹی قائم کی جائے۔ ضلع جعفر آباد میں کامسٹیٹس یونیورسٹی کے قیام کے لئے فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔ ضلع مہمند میں ایجوکیشنل سٹی قائم کیا جانا چاہیے،کرم تنگی ٹیم کو اور ٹانک زام ڈیم کو پی ایس ڈی پی 22۔ 2021میں شامل کیا جائے،صوبہ خیبرپختونخوا کے لئے ترقیاتی بجٹ تین سو

ارب روپے تک بڑھایا جائے،منصوبہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے لئے کم از کم 25 فیصد اضافی فنڈز فراہم کرے،ضلع کوہستان میں 132 میگاواٹ کا گرڈ سٹیشن قائم کیا جائیس۔ سفارش کی گئی کہ داسو سے رائے کوٹ تک سڑک جلد سے جلد مکمل کی جائے، نیو گوادر ایئرپورٹ جلد مکمل کیا جائے،گلگت میں نکاسی اور صفائی کے نظام کے لئے 3 ارب 85 کروڑ روپے مختص کئے جائیں،گلگت بلتستان میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کئے جانے چاہئیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.