حکومت نے آٹے اور اسکی اشیاء پر ٹیکس ختم کر دیا

اسلام آباد(آن لائن)  وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے  کہا ہے کہ ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا آگیا ہے، جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے   انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ،  ٹیکس پیئر کیلئے ایف بی آر آڈٹ تیسری پارٹی کرے گی،ٹیکس چور  وں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے  گی، 5 منٹ سے اوپر کالز پر 75 پیسے ٹیکس لگایا جائے گا  جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لے لیا ہے ۔

کم آمدنی والے طبقے کو ٹارگیٹڈ سبسڈی دیں گے۔ایف بی آر کو شہریوں کو ہراساں نہیں کرنے دیں گے۔  جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے  کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ قرضہ 26 ہزار ارب تھا  آئی ایم ایف نے سخت شرائط رکھی سال 2018-19 میں عمران خان نے مشکل فیصلے کئے کرونا کے باوجود کنسٹرکشن انڈسٹری اور صنعت کو بڑھاوا دیا جس سے کرونا کے باوجود گروتھ ریٹ بڑھا پوری دنیا 2.5 فیصد معیشت پر کھڑی تھی لیکن پاکستان  کی گروتھ 4 فیصد پر گئی  آئی ایم ایف کہ رہی تھی کہ 2.5 فیصد پر جی ڈی پی جائے گی کرونا کی وجہ سے لیکن خدا کے فضل سے گروتھ ریٹ بڑھ گئی اور اس گروتھ روٹ کو غریب آدمی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بلا سود قرضے گھروں کیلئے دینے کا فیصلہ  کسان کو 2.5 لاکھ روپے قرضہ بلا سود دیا جائے گا اور کاروبار کیلئے بھی قرضہ دیا جائے گا وہ بھی بلا سود ہوگا حکومت تمام عوام کو صحت کارڈز اور ہر خاندان کے ایک فرد کو ٹریننگ دیں گے ہنر سکھائیں گے تاکہ وہ اپنا ذریعہ معاش تلاش کریں۔ گروتھ ریٹ کی پہلی منزل یہاں سے شروع ہو گی انہوں نے کہا کہ ٹیکس پیئر کیلئے ایف بی آر آڈٹ تیسری پارٹی کرے گی تیسری پارٹی تین رکنی کمیٹی جب فیصلہ کرے گی کہ وہ شخص ٹیکس چور ہے تو پھر اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی یہ نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ 809 سی سی سے کم گاڑی پر ٹیکس  کم کیا تھا اسے بڑھا کر 1000 سی سی گاڑی کو ٹیکس فری کر دیا ہے۔مصنوعات پر ٹیکس کو واپس لے لیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں 25 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 15 فیصد کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لے کر اسے ٹیکس فری کر دیا ہے بس 5 منٹ سے اوپر کالز پر 75 پیسے ٹیکس لگایا جائے گا

۔دودھ اور دہی پر لاگو ٹیکس ختم کر دیا ہے درآمد شدہ انڈوں پر ٹیکس ختم کر دیا ہے آٹے اور اسکی اشیاء  پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا پی ایس ڈی پی کی مد میں 40 فیصد  انکریز لگائی ہے انرجی ، پانی ٹرانسپورٹ، صحت اور اعلی تعلیم بلوچستان کی ترقی سندھ اور صم شدہ اضلاع کے پی کے کیلئے کافی رقم رکھی گئی انہوں نے کہا کہ 63 فیصد آبادی دہاتی ہے سب سے زیادہ توجہ زراعت پر دی جائے گی

میڈیکل آلات پر ٹیکس واپس لے لیا ہے کھاد زرعی آلات وغیرہ پر ٹیکس کم کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ کسان کی مصنوعات پر ایگری مالز بنائیں گے ۔ ایگری مالز میں کسان اپنی مصنوعات بیچ سکیں گے ہول سیلز بھی اپنی اشیا بیچ سکیں گے ان کسان مارکیٹوں میں کولڈ سٹوریج بنائیں گے پینتالیس ارب روپے کا پیکیج دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آٹے اور اسکی اشیا پر کوئی ٹیکس نہین پولٹری پر ٹیکس کم کردیا ہے

پی ایس ڈی پی میں چالیس فیصد اضافہ کیا کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر پیسہ خرچ ہوگا ان اقدامات سے معاشی ترقی ہوگی پرائمری خسارہ آٹھ اعشاریہ تین سے ایک پر لایا انکا کہنا سب سے پہلے زراعت پر پیسے خرچ کریں گے ہم گندم چینی دالین برآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشی ترقی کرنی ہے زراعت پر توجہ دیں گے مڈل مین کو ختم کرنے کیلئے ایگری مالز بنائیں گے سمال

اور میڈیم انٹرپرایزز کو سو ارب کے قرض دیں گے میری گاڑی کے نام سے نئی اسکیم متعارف کرائیں گے ۔انکا کہنا تھا کہ انکا کہنا تھا کہ زرعی شعبے کیلئے پچیس ارب اضافی رکھے صنعتی شعبے کو پینتالیس ارب کی مراحات دے رہے ہیں انکا کہنا تھا کہ ایس ایمز پر توجہ دیں گے ایس ایم ایز کو قرض دیں  گے آئی ٹی کی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دی آئندہ دو سال میں آئی ٹی صنعت آٹھ ارب ڈالر برآمدات کرے گی

انہوں نے کہا کہ چین کچھ صنعتیں ویت نام لے جا رہا تھا اس صنعت سے کروڑوں نوکریاں ملنی ہیں ہم نے چین کو منالیا وہ صنعت یہاں لائیں گے انکا کہنا تھا بدقسمتی سے ہم خوراک درآمدی ملک بن گئے ہیں ملک میں زراعت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی زراعت میں مڈل مین کا کردار ختم کرنا ہوگا ایگری مالز بنائے جائیں گے جہاں کسان اپنا مال لا سکے گا بجٹ میں انڈسٹری کو 45 ارب روپے کی

رعایت دے رہے ہیں انکا کہنا تھا کہ سمال میڈیم انٹرپرائزز کو فروغ دینے کی کوشش ہے ملک میں بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری لوگوں کو قرض نہیں دیتے اب چھوٹے کاروبار کے لیے قرض دیے جائیں گے آٹو سیکٹر کے لیے بھی پالیسی تیار کی گئی ہے اب ہم نے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے انکا کہنا تھا کہ سونے کی ویلیو ایڈیشن پر 17 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا آئی ٹی کے

شعبے پر بھی توجہ دے رہے ہیں اس وقت سی پیک کے تمام مسائل حل کر رہے ہیں انکا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں کو مزید شعبوں میں لے کر آئیں گے چین کے علاوہ باقی ممالک سے بھی سرمایہ کاروں کو بلائیں گے نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں احساس پروگرام کے لیے 260 ارب روپے رکھے گئے ہیں انکا کہنا تھا  کہ جون 2022 تک 10 کروڑ افراد کو کرونا ویکسین لگانے کا ہدف ہے وزیراعظم ملک میں ای ووٹنگ سسٹم متعارف کروانا چاہتے ہیں ہم نے

ای ووٹنگ سسٹم کے لیے 5 ارب روپے رکھے ہیں انکا کہنا تھا کی توانائی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹ 900 ارب روپے ہے عمران خان نے بجلی کی قیمت بڑھانے سے منع کیا ہے۔جو بجلی استعمال نہیں کرتے اس کے کیپسٹی پیمنٹ میں نو سو ارب روپے دینے پڑتے ہیں گردشی قرضہ اگلے سال میں کم ہو جائے گا کم آمدنی والے طبقے کو ٹارگیٹڈ سبسڈی دیں گے۔ قبل ازیں  وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایوان بالا میں بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف نے

حالیہ بجٹ میں 700 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ہم نے تسلیم نہیں کیا ہے سینیٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس کو ایف بی آر پریشان نہیں کرے گا ہم جو ٹیکس دینے سے انکاری ہیں ان کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے سینیٹ خزانہ کمیٹی کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کئے جانے کو ختم کر دیا ہے اور ہر شخص کو اپنا ٹیکس خود مقرر کرنے کا اختیار دیا ہے

اور اگر اس کے ٹیکس میں غلطی ہو تو اس کو تھرڈ پارٹی کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس کو کسی صورت خوفزدہ نہیں کیا جائے گا ہمارے پاس 15 ملین افراد کا ڈیٹا گیا ہے جو ٹیکس دینے کے قابل ہیں مگر وہ ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں اگر یہ افراد ٹیکس ادائیگی پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں تو ان کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے تاہم اس کے لئے تمام طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ دودھ اور آٹا سمیت کئی اشیاء پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح مشینری پر بھی ٹیکس کوختم کر دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ 700 ارب روپے کے نئے تیکس لگائے جائیں مگر ہم نے اس کو نہیں مانا ہے اور انہیں بتایا کہ ہم ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.