”مجھے نہیں پتہ کہ میرے بنک اکاؤنٹس میں کون پیسے جمع کرواتا رہا“ حمزہ شہباز کا ایف آئی اے ٹیم کے سامنے اظہار لاعلمی

لاہو ر(این این آئی،آن لائن) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز رمضان اور العریبیہ شوگر ملزمنی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کے لیے ایف آئی اے میں پیش ہوگئے جہاں 5رکنی تحقیقاتی ٹیم نے ان سے تفتیش کی،لیگل ٹیم کے اراکین بھی حمزہ کے ہمراہ آئے،مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور کارکنان حمزہ شہباز سے اظہار

یکجہتی کے لئے ایف آئی اے آئے، پولیس کی طرف سے ایف آئی اے دفتر کی طرف آنے والے راستوں کو بیرئیرز اور خاردار تاریں لگا کر بند رکھا گیا جس سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز رمضان اور العربیہ شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے طلب کرنے پر پیش ہو گئے، لیگل ٹیم کے اراکین بھی ان کے ہمراہ ایف آئی اے کے دفتر آئے،حمزہ شہباز تقریباً ایک گھنٹے ایف آئی اے کے دفتر میں موجود رہے جہاں ایف آئی اے کی پانچ رکنی ٹیم نے تحقیقات کی اور ان سے رمضان اور العریبیہ شوگر ملز سے متعلق سوالات کیے گئے جس کے بعد حمزہ شہباز واپس روانہ ہوگئے۔ اس موقع پر حمزہ شہباز نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں اکاؤنٹس میں اربوں روپوں کی ٹرانزیکشنز کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میرے بینک اکاؤنٹس میں پیسے کون جمع کرواتا رہا۔ زیادہ تر سوالوں پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر ایف آئی اے دفتر کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، (ن)لیگ کے رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں اظہار یکجہتی کے لئے بھی ایف آئی اے کے دفتر کے باہر جمع ہو گئے جو اپنی قیادت کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔حمزہ شہباز کی ایف

آئی اے کے دفتر آمد اور روانگی کے موقع پر کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔ حمزہ شہباز کی ایف آئی اے پیشی کے موقع پر راستوں کی بندش کے باعث صفانوالہ چوک اورریگل چوک اورملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم رہاجس سے شہریوں کا شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری

جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے اپنی درخواست ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی منظوری کے بعد اپنے ضمانتی مچلکے ایڈیشنل سیشن جج سید علی عباس کی عدالت میں جمع کروا دئیے ہیں۔ مچلکوں کی تصدیق کے لئے شہباز شریف متعلقہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے ضمانتی

مچلکوں پر اپنے انگوٹھے لگائے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف کے ضمانتی مچلکے مناواں کے مقامی یونین کونسل کے وائس چیئرمین علیم مجید اعوان نے جمع کروائے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شوگر سکینڈل میں شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے بھی 10 لاکھ روپے مالیت کے اپنے ضمانتی مچلکے عدالت میں

جمع کروا دئیے ہیں۔ حمزہ شہباز کی ایف آئی اے دفاتر میں پیشی کے باعث وہ اپنے والد کے ہمراہ مچلکے جمع کروانے کے لئے عدالت نہ پہنچ سکے جبکہ ایف آئی اے دفاتر سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپنے ضمانتی مچلکے جمع کروائے جبکہ دونوں (ن) لیگی رہنماؤں نے عدالت

میں پیش ہو کر اپنے ضمانتی مچلکوں کی تصدیق کی واضح رہے کہ چینی سکینڈل میں ایڈیشنل سیشن جج سید علی عباس کی عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی 10 جولائی تک ضمانت منظور کی تھی اور دونوں (ن) لیگی رہنماؤں کو حکم دیا تھا کہ وہ آئندہ تین روز کے اندر اپنے اپنے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے پابند ہونگے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.