شیریں مزاری سے آغاز کریں

پہلا واقعہ کالج میں پیش آیا تھا‘ میں گجرات میں زمین دارہ ڈگری کالج میں پڑھتا تھا‘ ہاسٹل میں رہتا تھا‘ ہاسٹل کے ساتھ گائوں تھا اور کمروں کی کھڑکیوں سے گائوں کے مکان‘ چھتیں اور صحن صاف نظر آتے تھے‘ بالائی منزل زیادہ خطرناک تھی‘ ہم وہاں سے گھروں میں وہاں وہاں جھانک سکتے تھے جہاں جھانکنے کو بھی شرم آ جاتی ہے‘ ہاسٹل میں سرگودھا‘ منڈی بہائوالدین اور پھالیہ کے طالب علم زیادہ تھے‘

یہ دیہات سے آئے تھے اور زیادہ ہی سیدھے سادے تھے‘ ان کے صرف تین کام ہوتے تھے‘ ہاسٹل کے میس سے دال کی تین پلیٹوں کے ساتھ پانچ چھ روٹیاں کھانا‘ گرمیوں کی راتوں میں بنیان میں رٹا لگانا اور کھڑکیوں سے گائوں کے صحنوں میں جھانکتے رہنا اور ہاں یاد آیا یہ لوگ حاضریاں پوری کرنے کے لیے کلاسز میں بھی جاتے تھے اور اتوار کے دن فلم بھی دیکھتے تھے‘ پھالیہ کا ایک ساڑھے چھ فٹ کا چدھڑ میرا دوست بن گیا‘ وہ عمر میں بڑا تھا لیکن اس کی دل چسپ آواز اور خاص جانگلی لہجے نے اسے ہمارا دوست بنا دیا‘ وہ طبعاً بہت سادہ بھی تھا‘ وہ ایک صبح بہت شرمندہ اور پریشان تھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا‘ میں ساری رات جاگتا رہا‘ میں نے پوچھا خیریت تھی‘ رات بھر جاگنے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ وہ شرما کر بولا‘ میری کھڑکی کے سامنے کی چھت پر رات کے وقت ایک لڑکی آ گئی تھی‘ وہ ساری رات اشاروں میں میرے ساتھ باتیں کرتی رہی اور میں اشاروں میں اسے جواب دیتا رہا‘ ہم دونوں صبح تک گفتگو میں مصروف رہے‘ میں نے ہنس کر پوچھا ‘ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ وہ شرما کر بولا‘ پریشانی نہیں شرمندگی کی بات ہے‘ میں ساری رات جس سے اشاروں میں باتیں کرتا رہا تھا صبح ہوئی تو پتا چل وہ لڑکی نہیں تھی‘ بیری پر سرخ دوپٹا گرا ہوا تھا‘ دوپٹا ہوا سے ہلتا تھا تو میں اسے لڑکی کے اشارے سمجھتا تھا اور اسے جواب دیتا تھا‘ میں نے یوں ساری رات کھڑکی پر بیٹھ کر گزار دی‘ میرے منہ سے قہقہہ نکل گیا‘ وہ وقت گزر گیا‘ میں چدھڑ کا نام اور شکل دونوں بھول گیا لیکن بیری پر دوپٹے کا واقعہ نہ بھول سکا‘ یہ واقعہ ’’لائف لیسن‘‘ تھا اور اس نے مجھے عین جوانی میں یہ بات سمجھا دی تھی ہم دنیا میں وہی دیکھتے ہیں جو ہمارا تخیل ہمیں دکھانا چاہتا ہے‘ ہمارے تخیل میں اگر ہوس ہو گی تو پھر ہمیں بیری پر دوپٹا بھی عورت محسوس ہوگا اور ہم ساری رات کھڑکی پر بیٹھ کر اس کے ساتھ باتیں کرتے رہیںگے۔
میری زندگی کا دوسرا واقعہ جماعت اسلامی کے مرکز میں پیش آیا‘

میں نے بیس سال قبل سیلف میڈ لوگوں پر ڈاکومنٹریز بنانا شروع کی تھیں‘ یہ منصوبہ بھی آگے چل کر میرے بے شمار منصوبوں کی طرح ناکام ہو گیا‘ ہم لوگ قاضی حسین مرحوم کا انٹرویو ریکارڈ کرنے منصورہ پہنچے‘ قاضی صاحب شان دار اور نفیس انسان تھے‘ ہم کیمرے لگا رہے تھے‘ اچانک ایک باریش بزرگ آئے اور غصے سے کہا ’’جاوید صاحب آپ سے یہ توقع نہیں تھی‘‘ میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘

ہمارے ساتھ ایک خاتون بھی تھی‘ وہ بزرگ اس کی طرف اشارہ کر کے بولے‘ آپ امیر جماعت اسلامی کا انٹرویو کرنے آئے ہیں اور ساتھ ننگے بازوئوں والی خاتون لے آئے ہیں‘ آپ کو شرم آنی چاہیے‘ میں نے حیران ہو کر خاتون کی طرف دیکھا‘ اس کی قمیص کے بازو کہنیوں تک تھے‘ میری ہنسی نکل گئی اور میں نے عرض کیا ’’حضور میں آپ کی باریک نگاہوں کے صدقے جائوں یہ خاتون دو دن سے

ہمارے ساتھ گھوم رہی ہے‘ ہمیں اس کے ننگے بازو نظر نہیں آئے لیکن آپ نے چند سیکنڈز میں دیکھ لیے‘‘ وہ مزید ناراض ہو گئے اور انہوں نے اس وقت تک قاضی حسین احمد کو اندر نہیں بلایا جب تک وہ خاتون باہر نہیں نکل گئی‘ میں نے اس سے دوسرا لائف لیسن لیا‘ آپ اگر کام میں مصروف ہوں تو آپ کو دو دن تک خاتون کے بازو تو کیا خاتون بھی نظر نہیں آتی اور آپ اگر فارغ ہوں تو

آپ کے لیے ننگی کہنیاں بھی خطرہ ایمان بن جاتی ہیں۔
میں الحمد للہ شریعت کے تمام احکامات کو لازم سمجھتا ہوں لیکن جہاں تک پردے‘فحاشی اور جنسی زیادتی کا معاملہ ہے میں ان تینوں کے تعلق کو سمجھنے سے قاصر ہوں‘ رسول اللہﷺ کے زمانے میں زنا کی تین سزائوں پر عمل ہوا تھا‘ میری علماء کرام سے درخواست ہے آپ یہ بتا دیں وہ لوگ کون تھے؟ یہ واقعہ کہاں پیش آیا‘ یہ سزائیں کس نے دیں اور یہ گناہ کس کے دور میں ہوا ؟ آپ کو اس کے بعد

معاملے کو سمجھنے میں دقت نہیں ہو گی‘ دوسرا ملک میں زینب‘ مروہ‘ سیما اورحریم جیسی بچیوں کی آبروریزی ہوتی ہے‘ کیا یہ وارداتیں فحش لباس کی وجہ سے ہوتی ہیں؟ لاہور میں عزیزالرحمن نام کے ایک نام نہاد مذہبی رہنما نے مدرسے کے باریش طالب علم سے اغلام بازی کی‘ طالب علم نے دعویٰ کیا اس کے ساتھ تین سال تک یہ فعل ہوتا رہا‘ ملزم عزیز نے اپنے ویڈیو بیان میں تسلیم کر لیا یہ فعل جبراً نہیں ہوا تھا اور یہ واقعہ اڑھائی تین سال پرانا ہے‘ ملزم شاید یہ کہنا چاہتا تھا اغلام بازی رضا مندی سے

ہو تو یہ جائز ہو جاتی ہے اور یہ واقعہ اگراڑھائی تین سال پرانا ہو تو اسے درگزر کر دینا چاہیے‘ سوال یہ ہے مدرسے کے باریش نوجوان نے کون سے فحش کپڑے پہن رکھے تھے جن کی وجہ سے ملزم عزیز روبوٹ سے انسان بن گیا اور اسے ترغیب (Temptation)مل گئی‘9ستمبر 2020ء کو موٹروے ریپ کیس ہوا تھا‘ دو درندہ صفت ڈاکوئوں نے بچوں کے سامنے ماں کو ریپ کر دیا‘ اس عورت نے کون سا فحش لباس پہن رکھا تھا اور ان ڈاکوئوں کو کار کے اندر سے کون سی ترغیب مل گئی تھی

اور مختاراں مائی کے کیس کو 2002ء میں بین الاقوامی بدنامی حاصل ہوئی ‘ اس کیس میں پنچایت کے حکم پر مختاراں مائی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ اس میں Temptation کہاں تھی؟ یہ واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں‘ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات درجنوں نہیں ہیں‘ سیکڑوں اور ہزاروں ہیں‘ میں پردے کے خلاف نہیں ہوں‘ یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کیا پردے کی وجہ سے ملک سے ریپ کے واقعات ختم ہو جائیں گے اور کیا

ان کی روک تھام کے لیے حیاء اور مذہب کافی ہے؟ جی نہیں اگر یہ واقعات حیاء اور مذہب سے رک سکتے تو عزیز الرحمن جیسا واقعہ بھی پیش نہ آتا‘ مختاراں مائی بھی گینگ ریپ کا نشانہ نہ بنتی اور زینب کی لاش بھی پانچ دن نہ ملتی لہٰذا ہمیں ماننا ہو گا ریپ اور جنسی بے راہ روی کی وجوہات کچھ اور ہیں‘ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم نے معاشرے کو عورت کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے‘

ہم اسے مٹی کا کھلونا سمجھتے ہیں چناں چہ اسے روندنا‘ مسلنا اور برباد کرنا ہماری نظر میں کوئی جرم نہیں‘ ہم یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ہمارے معاشرے میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایسے جانور ہیں جن سے عورت اور مرد تو کیا لاشیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور تیسرا ہم نے بدقسمتی سے آج تک ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے کچھ نہیں کیا‘ ہم ہراسگی اور جنسی زیادتی کے کیسوں کا فوری فیصلہ کیوں نہیں کرتے اور ہم ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں دیتے؟

ہم معاشرے کو خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ کیوں نہیں بناتے؟ ہم شادی کو آسان اور سستا کیوں نہیں بناتے؟ ہم ملک میں پورن مٹیریل پر پابندی کیوں نہیں لگاتے‘ ہم دفتروں اور کمپنیوں میں خواتین کا کوٹہ مخصوص کیوں نہیں کرتے اور ہم گھریلو تشدد کا سخت نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ہم جب تک خواتین کے بارے میں مردوں کا تصور اور رویہ نہیں بدلیں گے یہ ملک نہیں بدلے گا‘

ہمارے ملک میں آج بھی تقریبات میں مرد پہلے کھانا لیتے ہیں اور خواتین بعد میں‘ کیوں؟ ہم نے اپنے سیشنز اور ٹورز کے دوران اصول بنایا تھا خواتین مردوں سے پہلے کھانا لیں گی‘ آپ یقین کریں خواتین اور مردوں دونوں نے ایک دوسرے کا احترام شروع کر دیا‘ہم قومی سطح پر یہ اصول کیوں نہیں بناتے؟۔وزیراعظم اگر اس کے باوجودیہ سمجھتے ہیں پردے کے علاوہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تو پھر وزیراعظم یہ نیک کام اپنی پارٹی سے شروع کیوں نہیں کرتے؟ کابینہ میں پانچ خواتین وزراء ہیں‘

آپ انہیں باقاعدہ شرعی پردہ کرائیں‘ محترمہ زرتاج گل اگر سعودی عرب اور یو اے ای کے شاہی وفود سے ملاقات کے دوران عبایا پہن سکتی ہیں اور سکارف لے سکتی ہیں تو یہ عام زندگی میں ایسا کیوں نہیں کرتیں؟ اگر خاتون اول شرعی پردے میں رہ سکتی ہیں تو شیریں مزاری‘ فہمیدہ مرزا‘ زبیدہ جلال اور ثانیہ نشتر کیوں نہیں کر سکتیں؟ وزیراعظم اگر واقعی پردے کے معاملے میں سیریس ہیں

اور یہ سمجھتے ہیں ملک میں اسی سے انقلاب آئے گا تو یہ شیریں مزاری سے اس کا آغاز کر کے ملک کے لیے روشن مثال قائم کریں‘ ملک خود بخود پردے میں چلا جائے گا‘ آپ کو اپنے دائیں بائیں موجود لوگ تو نظر آتے نہیں ہیں لیکن آپ پوری دنیا کو پردے پر لیکچر دے رہے ہیں‘ یہ کہاں کا انصاف ہے‘ یہ کہاں کی تبلیغ ہے؟ اسلام میں پردے کے احکامات آئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا آغاز اپنے خاندان سے کیا تھا‘ آپ بھی اپنی ریاست مدینہ میں پردے کا آغاز اپنے خاندان سے کر دیں‘ آپ کو اس کے بعد لیکچر دینے اور وضاحتیں کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی لیکن شاید معیشت کی طرح یہاں بھی لیکچر سے کام چلایا جا رہا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.