عمران خان کو کس نے حق دیا کہ وہ دنیا کو کہیں ایٹمی پروگرام پر بات ہوسکتی ہے، رضا ربانی

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی نے وزیراعظم کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی بات یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، عمران خان کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ دنیا کو کہیں کہ ایٹمی پروگرام پر بات ہوسکتی ہے۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم یہ کہہ رہے رہا ہے

کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پھر ایٹمی ہتھیاروں کی بھی ضرورت نہیں، وزیراعظم عمران خان کی غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کی گئی یہ متنازعہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کا نیوکلیر پروگرام ختم نہیں کیا جا سکتا، امریکہ ہندوستان کو قوت دینے کے لئے مظبوط کر رہی ہے، ہم نیوکلئیر پروگرام کو رول بیک کرنے پر مزاحمت کریں گے، ایٹمی پروگرام 22 کروڑ عوام کی ملکیت ہے، جس کے لیے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں،منفی سوچ سے ملک نہیں چلتے، امریکہ اور روس کے درمیان بھی معاملات حل ہوئے انہوں نے اپنے اپنے نیوکلئیر پروگرام سے رول بیک نہیں ہوئے اس موقع پر سینیٹر رضا ربانی نے مزید کہ ایس بی پی قانون میں ترمیم کا آرڈیننس پبلک کیا جائے،آرڈیننس اجراء کے بعد اْسے چھپانا پی ٹی آئی حکومت کی عادت بن چکی ہے حکومت کی تمام وزارتیں اور محکمے آرڈیننس کی کاپی مہیا کرنے سے انکار کررہے ہیں۔اْن کا کہنا تھا کہ آرڈیننس اجرا کے بعد اسے چھپانا اس حکومت کی عادت بن گئی ہے۔ دوسری جانب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں بارڈر مارکیٹیں بنانے کیلئے 300 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی جبکہ کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے 9.39

ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دید گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور مشیروں سمیت دیگر اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق کیچ کے علاقے مند، گوادر کے علاقے گبد اور پنجگور کے

سرحدی علاقے میں بارڈر مارکیٹس قائم ہوں گی۔ ای سی سی نے فرنٹیئر کور کیلئے 9 کروڑ 87 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے 9.39 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔۔پاکستان رینجرز کیلئے اڑھائی کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی گئی ہے جبکہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے 3 کروڑ 90 لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.