جوہر ٹائون دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار اہم انکشافات

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن ) جوہر ٹائون لاہور میں ہونے والے دھماکے کی ابتدائی تحقیقات رپورٹ تیار کر لی گئی ، آئی جی پنجاب رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کریں گے ، رپورٹ میں اہم انکشافات کئے گئے ہیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کار میں موجود تھا ، دھماکے میں 15سے 20 کلو گرام دھماکہ خیز

مواد استعمال کیا گیا، دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد غیر ملکی ساختہ ہے جبکہ کیل اور بال بیرنگ کا استعمال کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دھماکے کی جگہ پر تین فٹ گہرا اور آٹھ فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا، دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا۔یاد رہے کہ آج جوہر ٹائون میں واقعہ بی او آر سوسائٹی کے گھر کے قریب پر اسرار دھماکے میں مبینہ طور پر دو افراد جاں بحق اور 22افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 6 افراد کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد فارغ کردیا گیا جبکہ 16 زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا زخمیوں میں ایک پولیس آفیسر بھی بتایا گیا ہے جبکہ زخمیوں میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں سے مزید 7 افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ بی او آر سوسائٹی کے قریب ہونے والے دھماکے کی آواز اس قدر شدید تھی کہ دور دور تک سنائی دی۔ دھماکے سے جائے وقوعہ سے سوسائٹی کے 10 گھر متاثر ہوئے جن کی

کھڑکیاں، دروازے اکھڑ گئے، شیشے ٹوٹ گئے اور قریب کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لیسکو، سوئی ناردرن گیس کمپنی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ بم ڈسپازل سکواڈ کا عملہ سمیت ضلعی حکام موقع پر پہنچ گئے جن کی نگرانی میں ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیموں نے ریسکیو سرگرمیوں کا

آغاز کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے فوری بعد متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیااور امداد سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شواہد تلاش کرنے شروع کردئیے۔ آخری اطلاعات تک دھماکے کی شدت اور نوعیت کے حوالے سے کوئی حتمی رائے سامنے نہ آسکی۔ تاہم حکام نے شبہ ظاہر کیا کے ہونے والا پر اسرار

دھماکہ سوئی گیس پائپ لائن پھٹنے سے بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم دھماکے کی جگہ پر باقاعدہ ایک گڑا پڑ گیا ہے۔ دھماکے کی آواز سنتے ہی اہل علاقہ کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جنہیں گھروں میں جانے سے روکنے کے لئے پولیس اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔ جوہر ٹائون بی او آر سوسائٹی پر اسرار دھماکے

کے فوری بعد جناح ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ہسپتال میں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے شہریوں کو ایمرجنسی وارڈ میں جانے سے روک دیا۔ زخمیوں کے لواحقین کی بڑی تعداد اپنے پیاروں کی تلاش میں جناح ہسپتال پہنچ گئی جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے معمول کے علاج معالجہ کے لئے آنے والے شہریوں کو بھی ایمرجنسی وارڈ میں داخل

ہونے سے روک دیا جبکہ ایمرجنسی وارڈ میں پہلے سے زیر علاج بعض مریضوں کو دیگر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فرانزک ٹیمیں دھماکے کے دو گھنٹے تک جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکی۔ جس کے باعث دھماکے کے شواہد ضائع ہونے کے خدشات بھی برقرار رہے۔ دھماکہ اس قدر بھی شدید تھا کہ لوگوں میں

خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔ دھماکے سے جائے وقوعہ کے قریب واقع تین گھر بری طرح متاثر ہوئے۔ دوسری جانب جناح ہسپتال لاہور کی انتظامیہ نے جوہر ٹائون میں واقعہ بی او آر سوسائٹی کے قریب ہونے والے بم دھماکوں کے زخمیوں کے نام جاری کردئیے ہیں جن میں عبدالشکور، خالق، طاہر، عبدالحق، عبدالمالک، ناصر، لیاقت علی، محمد جاوید، آصف علی

اور زاہد شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں دو نامعلوم افراد بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ دریں اثناء جوہر ٹائون میں واقعہ بی او آر سوسائٹی کے قریب ہونے والے پر اثرار دھماکے میں ہلاکتوں کے حوالے سے حکومت رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان اور پولیس حکام کے دعوئوں میں تضاد سامنے آیا ہے۔ دھماکے کے بعد حکومتی رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کا دعویٰ تھا کہ

دھماکے سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے جسے جناح ہسپتال میں مردہ حالت میں لایا گیا۔ جبکہ پولیس حکام کا دعویٰ تھا کہ دھماکے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہے اور جاں بحق ہونے والے دونوں افراد تشویشناک حالت میں ہسپتال لائے گئے۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جوہر ٹائون میں واقع بی او آر سوسائٹی

کے قریب ہونے والے پر اسرار دھماکے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جس مقام پر دھماکہ ہوا اس سے چند گز کے فاصلے پر پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت کا گھر بھی موجود ہے۔ دھماکے سے موجودہ شخصیت کے گھر کی کھڑیوں اور دروازوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.