ڈالر مزید مہنگا ہوگیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ملک بھر میں پہلے کاروباری روز کے اختتام پرامریکی کرنسی میں مزید تیزی آگئی ، مزید مہنگا ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹویٹر پر جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے اختتام پر امریکی ڈالر مزید 62پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد امریکی کرنسی کی نئی قیمت 156.89 روپے سے

بڑھ کر 157 روپے 51 پیسے ہو گئی ہے۔آج کاروباری روز کے پہلے دن کے آغاز میں ڈالر کی قیمت میں تیزی ریکارڈ کی گئی تھی ،کاروبار کے آغاز میں ڈالر 41 پیسے اضافے سے 157 روپے 30 پیسے پر ٹریڈ کر رہا تھا تاہم دن کے اختتام پر ڈالر کی قیمت مزید بڑھ گئی ۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ رقم کی تفصیلات سامنے آگئیں، حکومت نے پچھلے9 ماہ میں قرض اور سود کی ادائیگی پر10 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، اس رقم میں 8 ارب 93 کروڑ ڈالر قرض جبکہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر سود ادا کیا، گزشتہ سال قرض و سود کی ادائیگی پر14 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں حکومت نے قرض و سود کی ادائیگی کیلئے 10 ارب 63 کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس خطیر رقم میں 8 ارب 93 کروڑ ڈالر قرض اور ایک ارب70 کروڑ ڈالرسود کیلئے ادا کیے گئے۔ گزشتہ مالی سال میں قرض و سود کی ادائیگی کیلئے 14 ارب 57 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ معاشی ماہرین نے حکومتی قرضوں اور سود کی رقم ادائیگی پر کہا کہ حکومت قرض اور سود کی ادائیگی کے ساتھ نئے قرض بھی لے رہی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے اپنی کوششیں تیز کرے۔دوسری جانب شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں کے حجم میں جاری مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 7.42 فیصد کی شرح سے بڑھوتری ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال جون کے اختتام پرشیڈول بینکوں کے مختصرمدتی قرضوں کا حجم 8202328 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا تھا، مئی 2021 کے اختتام پر شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں کا حجم بڑھ کر8811004 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا، گیارہ ماہ کے عرصے میں شیڈول بینکوں کے مختصرمدتی قرضوں کے حجم میں 7.42 فیصد کی شرح سے بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔ اپریل کے مقابلے میں مئی میں شیڈول بینکوں کے مختصرمدت کے قرضوں میں 1.68 فیصد کی شرح سے بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.