راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل ہو جائونگا،غلام سرور کا بڑا اعلان

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا، راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات کے اختتام کے بعد وہ وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے۔

ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور نے کہا کہ زلفی بخاری کا اس اسکینڈل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جوان ہیں لہذا وہ قدرے جذباتی ہوگئے اور انہوں نے استعفیٰ پیش کردیا۔ وقاقی وزیر نے مزید کہا کہ سابق معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری سے بھی تفتیش نہیں کی جارہی ہے۔ سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں جنہوں نے روڈ کے منصوبے میں تبدیلی۔ غلام سرور نے کہا کہ کسی سیاسی شخصیت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار جب انکوائری ختم ہوجائے گی اور زلفی بخاری تمام الزامات سے بری ہوجائیں گے تو وہ دوبارہ معاون خصوصی ہوں گے۔غلام سرور خان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پہلے دن سے ہی مطمئن ہیں کہ ان کا اس اسکینڈل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ مجھے اس معاملے سے سیاسی لگاؤ ہے کیونکہ یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔غلام سرور نے کہا کہ یہ منصوبہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی بھی ایک اہم ضرورت ہے، انکوائری کرانے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جاسکے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کے روز وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران یہ نکتہ اٹھایا تھا۔غلام سرور نے دعوی کیا کہ یہ منصوبہ جلد ہی مربوط حکمت عملی کے ساتھ شروع اور وقت پر مکمل ہوگا۔جب اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس منصوبے کو پنجاب حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل نہیں کیا گیا ہے تو وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال رقم مختص کی گئی تھی جس میں سے کچھ کو بھی جاری کردیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اب بھی فعال ہے، پنجاب حکومت کو زمینیں حاصل کرنی تھیں اور اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنا تھا اور اس کے راستے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.