بلوچستان کا بجٹ پیش ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ صوبے میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کے لیے 5.914 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا584.083ارب کا بجٹ پیش کردیاگیا جس میں ترقیاتی مد میں 237.221ارب اور غیر ترقیاتی

اخراجات کیلئے 346.861بلین روپے مختص کئے گئے ہیں،صوبے کو کل 499.363ارب روپے آمدن ہوگی جن میں وفاق سے 355.935ارب،اپنے محصولات سے 103.209ارب،فارن پروجیکٹ اسسٹنٹس گرانٹ سے 17.353ارب،کیپٹل محصولات سے 1.902ارب،اسٹیٹ ٹریڈنگ فوڈ سے 5.477،کیش کیری اوور سے 15.485ارب روپے کی آمدن ہوگی،بجٹ خسارہ84.720ارب روپے ہوگا۔بلوچستان کے مالی سال 2021-22کا بجٹ جمعہ کو صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے ایوان میں پیش کیا۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس تقریباًدو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں ہوا۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شعبہ صحت کیلئے غیر ترقیاتی فنڈز میں 44.694 بلین روپے رکھے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 11.884 بلین روپے، شعبہ پرائمری وسیکنڈری تعلیم کی ترقیاتی مد میں 8.463بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 53.256بلین روپے،ہائیر ایجوکیشن کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 11.736 بلین روپے ترقیاتی مد میں 9.469 بلین روپے،زراعت کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں 9.545بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.483 بلین روپے،خوراک کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں 384ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں بشمول State Tradingکے6.400 بلین روپے،دیہی ترقی کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں 4.357بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 18.261بلین روپے،مواصلات و تعمیرات کیلئے ترقیاتی مد میں 52.668 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 13.793 بلین روپے،امن وا مان کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 26.867بلین روپے مختص جبکہ ترقیاتی مد میں 1.545بلین روپے، آبنوشی و آبپاشی کے لئے ترقیاتی مد میں 34.524بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 10.563بلین روپے،تعلقات عامہ وانفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ترقیاتی مد میں 2.656بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.132 بلین روپے، معدنیات اور معدنی وسائل کے سروے کے لئے 219 ملین روپے جبکہ منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لئے 36.40 ملین روپے،ماہی گیری وساحلی ترقیکے لئے ترقیاتی مد میں 4.302بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.168بلین روپے،توانائی کے شعبے کے لئے 3.923 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 7.260 بلین روپے،ماحول و ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے کے لئے ترقیاتی مد میں 217.118ملین روپے

اور غیر ترقیاتی مد میں 538.470ملین روپے،امور حیوانات کے شعبے کے لئے 2.101 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 4.526 بلین روپے،افرادی قوت، صنعت و حرفت کے لئے ترقیاتی مد میں 1.450بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.384بلین روپے،سوشل سیکورٹی و سروسزکے لئے ترقیاتی مد میں 2.702بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.955بلین روپے،کھیل وامور نوجوانان کے

لیے ترقیاتی مد میں 5.673بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.495بلین روپے،ثقافت و سیاحت و آثار قدیمہکے لیے ترقیاتی مد میں 1.542بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.051بلین روپے،اپنا گھر اسکیم کیلئے 2بلین روپے،بینک آف بلوچستان کے قیام کیلئے 1بلین روپے،سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں 10فیصد جبکہ گریڈ ایک سے 19تک کے وہ ملازمین جن کے مجموعی الاونسز انک

ی بنیادی تنخواہ سے کم ہیں ان کے لئے 15فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس کا علان،معذورافراد کی امداد کیلئے کمک سپورٹ فنڈ کا قیام 2بلین روپے مختص کردیئے گئے اقلیتی برادری کیلئے 500ملین،ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے ایک بلین،انٹرپرائزر ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کیلئے 2بلین،مائیکرو فنانس انٹرسٹ فری لون کے تحت 2بلین روپے،وومن ان پاورمنٹ فنڈ کے قیام کیلئے 500ملین،بلوچستان عوامی انڈومنٹ کیلئے مزید 2بلین مختص کردیئے گئے فوڈ سیکورٹی اور اسٹیٹ ٹریڈنگ کے مالی مسائل پرقابو پانے کیلئے 1بلین روپے سے فوڈ سیکورٹی ریوالونگ فنڈ کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.