ٹیکس میں اضافہ ، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

کراچی(این این آئی)عوام میں بڑے پیمانے پر استعمال کی جانے والی بنیادی غذائی اشیاء یعنی دودھ اور گندم سے تیار کی جانے والی مصنوعات اور چینی پر ٹیکسز کی شرح میں کئے جانے والے اضافے سے صارفین کو 120 ارب روپے سے زائد کی اضافی ادائیگی کرنا ہوگی۔

قومی اسمبلی میں منظوری کیلیے پیش کیے جانے والے فنانس بل میں عوام میں بڑے پیمانے پر استعمال کی جانے والی بنیادی غذائی اشیا یعنی دودھ اور گندم سے تیار کی جانے والی مصنوعات اور چینی پر ٹیکسز کی شرح میں کئے جانے والے اضافے سے صارفین کو 120 ارب روپے سے زائد کی اضافی ادائیگی کرنا ہوگی۔ڈیری سیکٹر پر سیلز ٹیکس میں اضافہ سے صارفین پر 6 ارب روپے سالانہ کا اضافی بوجھ پڑے گا ، چینی کی مارکیٹ پرائس پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے صارفین کو 44 ارب روپے مزید دینا ہوں گے جبکہ فلورملز پر ٹرن اوور ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اضافے سے ملک بھرمیں آٹا میدہ صارفین پر 70 ارب روپے کا اضافی بوجھ آئیگا۔ ڈیری مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے خواتین اور بچوں میں پہلے سے موجود غذائیت کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے آٹھ بچے بھرپور اور غذائیت بھری خوراک کی قلت کا شکار ہیں ۔ مجوزہ فنانس بل کے مطابق ایکس قیمت کی بجائے مارکیٹ پرائس پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے چینی کی قیمت 10 روپے کلو تک بڑھ سکتی ہے آٹا کی فی کلو قیمت 5 روپے جبکہ میدہ کی فی کلو قیمت 2 روپے بڑھ سکتی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.