ہدف بھکاریوں کی فوج بنانے کا نہیں بلکہ ترقی کرنے والوں کی فوج بنانے کا ہونا چاہیے، شہبازشریف

اسلام آباد(آن لائن )قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، ملک اگر ایٹمی طاقت بن سکتا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے، موجودہ حکومت کے تین سالوں میں ہرپاکستانی کے ذمہ فی کس قرض پونے 2 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے،کیا کوئی قوم اس طرح زند ہ رہ سکتی ہے کہ ایک ہاتھ میں ایٹمی طاقت ہو اور

دوسرے ہاتھ میں کشکول ہو،نو ازشریف کی تین حکومتوں کا مالیاتی خسارہ ان تین سالوں کے خسارے سے کم ہے، آپ مہمان خانے بنائیں،لنگر خانے بنائیں لیکن حکومت کا کام ہے،لنگر خانوں میں جانے والوں کو اپنے پائوں پر کھڑے کریں،ہدف بھکاریوں کی فوج بنانے کا نہیں بلکہ ترقی کرنے والوں کی فوج بنانے کا ہونا چاہیے،صرف تقاریر سے قومیں نہیں بنتیں دن رات محنت کرنی پڑتی ہے،تبھی میں کہتا ہوں کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے،اگر یہ بجٹ اور مہنگائی لائے گا تو تمام اپوزیشن اس بجٹ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے، دل کی اتھا گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں آئیں ہم اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کی قوم کیلئے کام کریں ،انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی، آٹا ، دودھ ،گھی پر ٹیکس ختم کر دیا جائے، بچوں کے دودھ کے ڈبے پر ٹیکس ختم کر کے اسکو مزید سستا کر دیا جائے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ اور مزدور کی اجرت 25000 روپے کر دی جائے ، ، ای او بی آئی پنشن میں بھی اضافہ کیا جائے، ایل این جی پر ٹیکس ختم کر کے عوام کو ن لیگ کے دور حکومت کے ریٹ پر لایا جائے، بجلی کے بل اور کسانوں کیلئے کھاد یوریا پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا جائے، سی پیک کے ایم ایل ون پروجیکٹ کو بحال کیا جائے کیونکہ اب تک تاخیر کی وجہ سے

اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے،ن لیگ کی دوبارہ حکومت آئے گی تو عوام سے جو وعدے کئے ہیں وہ پورے کریں گے اپنے تمام منصوبے واپس شروع کر دیئے جائیں گے ہسپتالوں میں مفت دوائیاں اور علاج کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ ان خیالا ت کا اظہار شہبازشریف نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران

اپنی تقریر میں کیا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہا کہ سب سے پہلے گزارش کروں گا کہ ایوان کو 22 کروڑ عوام نے بھیجا ہے انکی نمائندگی کرنے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے۔ پچھلے چند دنوں میں جو کچھ

ہوا وہ انتہائی افسوس ناک تھا یہ ایوان چلانے کیلئے ہر روز کروڑوں روپے کا خرچہ ہوتا ہے یہاں ایک ایک لمحہ اور خرچ کی گئی پائی عوام کی امانت ہے۔ اگر ہم یہاں شور گل اور لڑائیاں کرتے ہیں تو ہم عوام کیساتھ بے ایمانی کر رہے ہیں۔ہم ایوان میں آئے ہیں ایک کسان کی بات کرنے کیلئے ایک یتیم اور بیوا ئوں کا دکھ بانٹنے کیلئے اور

لوگوں کی نمائندگی کرنے کیلئے۔شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کا فیصلہ تھا کہ ہماری بات سنی جائے گی تو ہم بھی حکومت کی بات سنیں گے عوام اور پوری دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ایوان میں ہونے والی قانون سازی قانون کے مطابق نہیں ہوئی اور بلڈوز کر دی گئی۔اس ملک کی عوام کیلئے بہتر ہے کہ کمیٹی بنا دیں قائد حزب اختلاف کی

درخواست پر اسپیکر اسد قیصر نے تفتیشی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیدیا جو بل میں اعتراضات کو بھی دور کرے گی۔بعدازاں شہباز شریف نے کہا کہ شور گل میں میری باتیں جو کہ عوام اور پاکستان کے مسائل کے حوالے سے تھی نہیں سنی گئی۔انہوں نے کیا کہ اگر غریب عوام کی اور لوگوں کی جیب خالی ہے تو بجٹ جعلی ہے۔پچھلے تین

سالوں میں چوتھا بجٹ پیش ہوا ہے۔اس ایوان میں بیٹھ کر ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ ان تین سالوں میں پاکستان کے کروڑوں لوگوں پر کیا گزری ہے۔ ان تین سالوں میں پاکستان میں بھوک ننگ اور مایوسی نے جنم لیا۔انکا کہنا تھا کہ لوگوں کی پہلے ہی جیبیں خالی ہیں حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے بجٹ کے بعد جو بچا ہے وہ بھی ختم

ہوجائے گا۔ وزیر خزانہ نے 66 صفحات کی تقریر کی ،ہر صفحے پر لکھا تھا کہ لوگوں کو مار دیا گیا ہے ہر صفحے پر مہنگائی لکھی تھی اور ٹیکس لکھے تھے۔جولائی 2018 میں ہم نے حکومت چھوڑی تو جی ڈی پی 8.5 فیصد تھی اگلے ہی سال 1.2 فیصد پر آگئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کا بہانہ لگاتے ہیں لیکن کووڈ

سے پہلے ہی جی ڈی پی 0.5 پر آگئی تھی۔ 1952کے بعد پہلی بار جی ڈی پی اس حد تک نیچے آئی۔تاریخ میں دوسری بار جی ڈی پی اتنی نیچے آئی۔ان تین سالوں میں 2 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں آج غریب لوگوں کی کمائی کا ذیادہ حصہ کھانے پکانے پر لگ جاتا ہے تو وہ اپنی بیمار بیٹی کا علاج کیسیکروائے گا۔

اس کمانے والے شخص کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان پیسوں سے اپنے بچوں کا کھانا لے کر جائوں یا اپنی بیٹی کا علاج کروائوں یا بچوں کی اسکول کی فیس جمع کروائوں یا پھر کپڑے لوں۔ہم غریب لوگوں کے جزبات کا اندازہ نہیں لگا سکتے شہباز شریف نے کہا کی اس بجٹ کے حوالے سے کروڑوں لوگ کہ رہے ہیں کہ ان 66 صفحوں کے تقریر

میں کہاں ہیں 3 کروڑ نوکریاں وہ گھر کہاں ہیں جنکا وعدہ کیا گیا تھا آج بھی لاکھوں لوگ ہیں جو آسمان کے نیچے سوتے ہیں زندگی لوگوں کے اوپر تنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی بجٹ کی وجہ سے 50 لاکھ لوگ مزید غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔حکومت کی جانب سے ماڈل ولجز کو بھی ان 50 لاگھ گھروں میں شمار کیا جارہا

ہے جنکا وعدہ کیا گیا تھا حکومت 3 سالوں سے پھیتے کاٹ رہے ہیں ان منصوبوں کے اوپر جو نواز شریف نے شروع کئے تھے۔اس حکومت کی وجہ سے 15 فیصد لوگ بے روزگار ہیں جو تاریخ کی بدترین شرع ہے۔ریاست مدینہ میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ کوئی بھوکا سوئے گا کوئے سوچ سکتا تھا کہ ایسا کوگا کہ اتنے لوگ بے روزگار

ہوں گے۔اس سے تو پرانہ پاکستان بہتر تھا۔جتنے صوبوں کے درمیان دوریاں اور تلخیاں پیدا ہوئی ہیں اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اس بدترین صورتحال میں صوبوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔میں پہلے پاکستانی ہونے پھر کچھ اور ہوں میں کہتا ہوں کہ اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور کوئی اور صوبہ ترقی نہیں کرتا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ان تین سالوں میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔تین سالوں میں جس طرح معاملات کو ہینڈل کیا گیا وہ انتقام کی طرح تھا آج بھی سید خورشید شاہ اور انکا بیٹا بھی پابندی سلاسل ہے اپوزیشن سے بدترین انتقام لیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ کووڈ آیا تو میں نے اور تمام اپوزیشن نے کہا کہ ہم مل کر اس وباء کے

خلاف حکومت کے ساتھ ہیں اور تمام اختلافات ختم کر دیں گے۔اسی سلسلہ میں اسپیکر آپ نے ایک کانفرنس بلوائی جس میں بلاول بھٹو اور میں بھی شامل تھا جب عمران خان آئے تو انہوں نے ًتقریر کی بعدازاں جب میں تقریر کرنے آیا تو دیکھا کہ وزیراعظم موجود نہیں ہیں، میں نے پوچھا تو آپ نے کہاکہ انہیں کام تھا وہ چلے گئے۔ ہالاں کہ اس

وقت پاکستان میں کووڈ سے بڑا کوئی موضوع نہیں تھا۔اسکے بعد ہم نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔حکومت نے 1200ارب روپے کے کرونا پیکج کا اعلان کیا جو انکہ نا اہلی کی نظر ہو گیا چین نے ہمیں ویکسین دی کسی اور ملک نے بھی دی تو ہم اسکے مشکور ہیں۔مارچ 2019 میں پہلا کووڈ کا حملہ ہوا اب تیسری لہر کا حملہ ہوا ہے اس

وقت کے دوران حکومت نے کیا کیا؟ ماسوائے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کے اور حکومت کے خلاف بولنے والے لوگوں کی زبانیں بند کروانے کے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے بس کام کرنے کی نیت کی کمی ہے پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے پاکستان اگر ایٹمی طاقت بن سکتا ہے تو کچھ بھی

کر سکتا ہے۔آج ہر پاکستانی ان تین سالوں میں فی کس قرض پونے 2 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔کیا کوئی قوم اس طرح زندا رہ سکتی ہے کہ ایک ہاتھ میں ایٹمی طاقت ہو اور دوسرے ہاتھ مین کشکول ہو۔انکا کہنا تھا کہ ایک ہاتھ پھیلانے والا خود فیصلے نہیں لے سکتا۔ہم پر یہ الزام دن رات لگتا تھا کہ انہوں نے ایکسپورٹ کو نہیں بڑھایا انہوں

نے خود کیا کیا مسلم لیگ نواز کی حکومت کے جانے کے بعد روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں بدترین حد تک گر چکی ہے جب روپے کی قیمت گر گئی تو آپکی امپورٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ملک کو مہنگائی کے طوفان میں برباد کر دیا لیکن ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکے۔شہباز شریف نے کہا کہ ان تین سالوں میں 10000 ارب

روپے سے زائد مالیاتی خسارہ کیا۔نوز شریف کے تین حکومتوں کا مالیاتی خسارہ ان تین سالوں کے خسارے سے کم ہے۔ تین سالوں میں ماسوائے تختیاں لگانے اور فیتے کاٹے کے سوا کچھ نہیں کیا وہ بھی ان منصوبوں کے اوپر جو نواز شریف کی دور حکومت میں مکمل ہو چکے اور چل بھی رہے ہیں۔ہر طرح سے انکا دامن عمل سے خالی ہے

آپ اس قوم کا ہاتھ تو پکڑیں یہ آپ سے 10 قدم آگے چلے گی۔انکا کہنا تھا کہ آپ مہمان خانے بنائیں اچھی بات ہے لنگر خانے بنائیں لیکن حکومت کا کام ہے کہ لنگر خانوں میں جو جاتے ہیں انکو اپنے پائوں پر کھڑے کریں۔ہدف بھکاریوں کی فوج بنانے کا نہیں بلکہ ترقی کرنے والوں کی فوج بنانے کا ہونا چاہیے۔آج تین سال بعد یہ جو چوتھا

بجٹ پیش کیا گیا تو پاکستان میں ہر فرد چیخ رہا ہے کہ میری جیب خالی ہی تو یہ بجٹ جعلی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان فوڈ ڈیفسٹ ملک بن گیا ہے لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں تین سالوں میں ریکارڑ پیداوار ہوئی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ایک کلو آٹا اور چینی خریدنے کیلئے ہماری بیٹیا ؒں اور مائیں بڑی بڑی لائنوں میں لگی تھی

رمضان میں دیکھتی آنکھوں نے آج تک ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔اگر بمپر پیداوار ہوئی ہو تو آٹا اتنا مہنگا کیسے ہوا ۔اگر بمپر پیداوار ہوئی تو چینی 52 روپے سے بڑھ کر109 سے اوپر کیسے چلی گئی۔ان تین سالوں میں 11 لاکھ ٹن چینی وزیراعظم کی اجازت سے ایکسپورٹ کی گئی اور ساتھ سب سٹی بھی دی گئی جب ایکسپورٹ ہوتے ہوئے

روپے کی قیمت گر گئی تو وہ پیسا کس کی جیب میں گیا؟ انہوں ہے کہا کہ اسکے بعد چینی اور گندم انپورٹ کرنی شروع کردی کوئی جواز یا کوئی منطق تھی اس کام کی؟ انکے یہ کام تباہی کی ماں ہے۔اربوں روپے جو ضائع ہوگئے اگر یہ پیسا ہوتا تو ویکسین منگوائی جاتی۔اس حوالے سے بمپر پیداوار کی جو بات کی ہے وزیر خزانہ نے

ہمارے دور میں ایک کروڑ 70 لاکھ ٹن کپاس کی پیداوار ہوئی انکی حکومت میں 62 لاکھ ٹن پیداوار ہوئی۔شہباز شریف نے کہا کہ صرف تقاریر سے قومیں نہیں بنتی دن رات محنت کرنی پڑتی ہے۔تبھی میں کہتا ہوں کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے۔اگریہ بجٹ مہنگائی کم نہیں کرے گا عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئی تو یہ

بجٹ جعلی ہے۔اگر یہ بجٹ اور مہنگائی لائے گا تو تمام اپوزیشن اس بجٹ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔میں دل کی اتھا گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں کہ آئیں ہم اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کی قوم کیلئے کام کریں۔تین سالوں مین ٹیکسز کا بوجھ ڈالا گیا ہے پھر بھی حدف پورا نہیں ہوا۔تین سالوں میں 800 ارب روپے کا

ٹیکس اکٹھا ہوا اور اس سال کہہ رہے ہیں کہ 1200 ارب کریں گے تو یہ تو عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دیں گے۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں آئی ایم ایف کا دور مکمل بھی ہوا اور جی ڈی پی بھی 5.8 پر پہنچائی اور اب ریورس گیر لگ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت ہمارے راستے پر چلتی تو آج جی ڈی پی 7 پر پہنچ گئی

توتی مگر نقل کیلئے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے۔شنید یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے کہا کہ 383 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگنے جارہے ہیں اگر یہ ٹیکس لگ گئے تو غریب یتیم اور بیوہ کس طرح زندہ رہیں گے؟ان نئے ٹیکسٹ میں ایل این جی مین 17 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔پہلے ہی عوام بے حال ہو چکے ہیں اب نئے ٹیکس لگا کر کیا حاصل

کرنا چاہتے ہیں؟ غریب آدمی دہی سے روٹی گھاتا ہے اب اس پر بھی ٹیکس لگائے جارہے ہیں لوگ چینی کا استعمال کرتے ہیں اس پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں۔انکم سے محروم لوگوں پر بھی انکم ٹیکس لگانے جارہے ہیں۔ کیا آئی ایم ایف نے اس بجٹ پر ٹھپہ لگا دیا ہے یا کیا کوئی حکومت پر زبردستی کر رہا ہے بجٹ پاس کروانے کی تو اس ایوان

کو بتایا جائے۔انکا کہنا تھا کہ چاہے مہنگاگی کی بات ہو یا فلسطینی کی بات ہو بے گھروں کی بات ہو کرونا کی بات ہو یا کشمیر کی بات ہو وزیراعظم کی کرسی خالی رہتی ہے وہ ایوان میں موجود نہیں ہوتے انکا کام ہے کہ ہمیں اعتماد میں لیں یہ ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے کہ آپ ڈنڈے سے کام چلا لیں۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے کسی کے پاس بھی

جانا پڑے تو جائوں گا انکے گھٹنوں کو ہاتھ لگائوں گا کہ آئو پاکستان کیلئے کام کریں۔2014 میں چین کے اس وقت کے صدر آرہے تھے ہمیں خدشہ تھا کہ انکا دورہ پی ٹی آئی کے دھرنے کی وجہ سے موخر ہوجائے اور وہی ہوا کہ انکا دورہ موخر ہوگیا۔ بڑی منت کی گئی عمران خان کی کہ تین دن کیلئے دھرنا روک دیں تو انہیں نے کہا کہ ہم

دھرنا نہیں روک سکتے یہ کرسکتے ہیں کہ وہ گزریں گے تو ہم نعرے نہیں لگائیں گے انکا یہ کہنا بہت افسوسناک تھا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنی تقریر کو سمیٹتے ہوئے بجٹ پر اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ چینی، آٹا ، دودھ ،گھی پر ٹیکس ختم کر دیا جائے بچوں کے دودھ کے ڈبے پر ٹیکس ختم کر کے اسکو مزید سستا کر

دیا جائے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ اور مزدور کی اجرت 25000 روپے کر دی جائے جبکہ ای او بی آئی لوگوں کی بھی پنشن میں اضافہ کر دیا جائے اسکے ساتھ ساتھ ایل این جی پر ٹیکس ختم کر کے عوام کو ن لیگ کے دور حکومت کے ریٹ پر لایا جائے انہوں نے کہا کہ بجلی کے بل اور کسانوں کیلئے کھاد یوریا

پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا جائے، سی پیک کے ایم ایل ون پروجیکٹ کو بحال کر دیا جائے کیونکہ اب تک تاخیر کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی دوبارہ حکومت آئے گی تو عوام سے جو وعدے کئے ہیں وہ پورے کریں گے اپنے تمام منصوبے واپس شروع کر دیئے جائیں گے ہسپتالوں میں مفت دوائیاں اور علاج کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.