قومی اسمبلی میں ہلڑ بازی اور گالم گلوچ حکومت اور اپوزیشن کے 3،3اراکین پر پابندی عائد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے اراکین کو اجلاس میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنے والے حکومتی اراکین میں علی نواز اعوان

، عبد المجید خان اور فہیم خان شامل ہیں جن پر قومی اسمبلی حدود میں داخلہ پر پابندی عائد ہوگی، جب کہ اپوزیشن ارکان میں سے شیخ روحیل اصغر، آغا رفیع اللہ، حامد حمید پر قومی اسمبلی حدود میں داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایوان کا تقدس پامال کرنے والوں کیخلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے گی۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی پر بات چیت کے لئے وزیراعظم عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس اس حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم کو واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے قائد حزب اختلاف اور اپوزیش پر نہیں پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے ،وزراء شروع ہی سے اجلاس میں گالی دینے، حملہ کرنے اور شہباز شریف کی تقریر روکنے کے لئے آئے تھے ،جب عمران صاحب کے حکم کی تعمیل نہیں ہو رہی تھی اور شہباز

شریف صاحب کی تقریر جاری رہی تو تقریر روکنے کے کئے شہباز شریف صاحب پہ بجٹ کی کتاب پھینکی گئی۔ اپنے بیان میں مریم اور نگزیب نے کہاکہ گزشتہ روز پارلیمان میں جو ہوا بہت افسوسناک ہے ،حکومت نے قائدِ حزبِ اختلاف اور اپوزیشن حملہ نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ پہ حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب نے اپنے دستخطوں سے

آٹا، چینی ، براڈ شیٹ اور رنگ روڈ میں ڈاکہ ڈالہ اور پھر شور مچا کر کمیشن اور انکوائری کا حکم دیا ۔انہوں نے کہاکہ وزراء شروع ہی سے اجلاس میں گالی دینے، حملہ کرنے اور شہباز شریف کی تقریر روکنے کیلئے آئے تھے ،عمران خان صاحب نے کابینہ کے اجلاس میں عوام دشمن بجٹ میں مہنگائی اور ٹیکس ختم کرنے کا حکم نہیں بلکہ شہباز شریف اور

اپوزیشن پہ حملے کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہاکہ وزراء اور کرائے کے ترجمان پارلیمان میں اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور اپوزیشن پہ حملہ کرنے آئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب نے کرائے کے ترجمانوں کا اجلاس بلا کر شہباز شریف اور اپوزیشن کو گالی دینے کا حکم دیا ـ انہوںنے کہاکہ عمران صاحب نے شہباز شریف کی

تقرری عوام تک نہ پہنچنے کا حکم دیا ـ انہوں نے کہاکہ حکومتی ارکان نے بے بس ہو کر گالی دی کیونکہ شہباز شریف صاحب کی تقریر نہ رْک سکی ـ انہوں نے کہاکہ جب عمران صاحب کے حکم کی تعمیل نہیں ہو رہی تھی اور شہباز شریف صاحب کی تقریر جاری رہی تو تقریر روکنے کے کئے شہباز شریف صاحب پہ بجٹ کی کتاب پھینکی گئیـ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.