چیئرمین نیب میں شرم و حیا ہے تو ایل این جی کا جعلی کیس ختم کریں، شاہد خاقان عباسی پھٹ پڑے

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب میں شرم و حیا ہے تو ایل این جی کا جعلی کیس ختم کریں، چیئرمین نیب ابھی ملازمت میں توسیع کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور عمران خان ان کی ملازمت میں توسیع کریں گے،ستائیس ملین ٹن گندم کی فصل کے باوجود بھی عوام مہنگا

آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، بجٹ میں معاشی اعدادوشمار کو مسخ کیا گیا،شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی بینچوں نے جو ہلڑبازی کی اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی،پارلیمان کے کے تحفظ اور مہنگائی کی بات کریں گے۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امید ہے چیئرمین نیب کوعلم ہوگا کہ عدالتوں میں کیاہورہاہے،کیاچیئرمین نیب کو حکومتی کرپشن نظر نہیں آرہی ،چیئرمین نیب ہمارے خلاف بے بنیاد کیسز ختم کردیں۔ انہوں نے۔ کہاکہ بجٹ دستاویز میں جھوٹ بولا گیا،وفاقی وزیر بول رہا ہے کہ معلوم نہیں کہ بجٹ دستاویز میں کیا ہے،کابینہ کو کچھ اور پاس کچھ اور کرایا جاتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے ایک بھی قدم لیا گیا؟،میں سننا چاہتا ہوں کہ وزیر خزانہ مہنگائی کو کم کرنے کے حوالے سے بولیں،پاکستان کے عوام مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں،بجٹ کے اہداف بارہ سے چودہ فیصد مہنگائی کی

بنیاد پر بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ کے مطابق ملک میں ستائیس ملین ٹن گندم کی فصل ہوئی،اتنی گندم کی پیداوار کے باوجود بھی ہمیں گندم درآمد کرنا پڑتی ہے،تین سال پہلے ہم نے تیس ملین ٹن گندم کی کاشت کی،ہم نے گندم کو برآمد کیا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران ہنگامہ برپا کیا گیا،بجٹ میں معاشی اعدادوشمار کو

مسخ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی عدالت میں ہماری پیشی ہے ،ہمیشہ کی طرح آج بھی یہی ڈیمانڈ ہے عدالتوں میں کیمرے لگائیں،اڑھائی سال سے کیس چل رہا ہے ایل این جی ٹرمینل ملک میں لگا اس سے 48 ارب روپے کا نقصان ہو گا،حکومت کا خود بیان ہے 23 ارب کا نقصان ہو چکا 25 ارب روپے کا ہو گا،2105 سے ٹرمینل جاری ہے۔ انہوں نے

کہاکہ سرکاری گواہ نے کہا کہ ٹرمینل سے ملک کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ امید ہے چیئرمین نیب کو رپورٹ جاتی ہو گی اگر ان میں شرم حیا ہے یہ جعلی کیس ختم کریں۔ انہوںنے کہاکہ چینی سکینڈل میں ایف آئی اے گواہ نے اپنے ادارے کے خلاف بیان دیدیا،ایل این جی کیس میں تو حکومتی گواہ کہہ رہا ہے کوئی نقصان حکومت کا نہیں ہوا،

اسی گواہ سے پوچھا گیا کرپشن کا الزام ہے اس نے جواب دیا کوئی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک نے جو رپورٹ دی ہے انہوں نے 32 صفحات پر ایل این جی سیکٹر کی سپیشل رپورٹ دی ہے،صرف تین سال میں بجلی کی مد میں اس ٹرمینل کیوجہ سے ملک 234 ارب روپے بچے ہیں،جس کا کیس ہم پر چل رہا ہے اس ٹرمینل نے 234 ارب روپے

محفوظ کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب ابھی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے،عمران خان چیئرمین نیب کو ملازمت میں توسیع دیگا۔ انہوںنے کہاکہ کھلم کھلا کہتا ہو ں مہنگائی بڑھے گی ،یہ وہ وزیراعظم ہے جو اسمبلی نہیں آئیگا،اسمبلی میں ہم بات کرینگے اسپیکر عمران خان کا نوکر ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.