پنجاب بجٹ2021-22 ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں متوقع اضافہ سامنے آگیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)پنجاب کے بجٹ2021-22 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے19 کے 7لاکھ 21 ہزارسے زائد سرکاری ملازمین کے اسپیشل الاؤنس میں 25فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ہم نیوز کے مطابق گریڈ ایک سے 19کے وہ ملازمین ہیں جن کیلئے پہلے الاؤنس میں اضافہ نہیں ہواتھا۔د

وسری جانب پنجاب کاآئندہ مالی سال2021-22 کا 2600 ارب سے زائد حجم کا سر پلس بجٹ پیر کے روزپیش کیا جائے گا، صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جوا ں بخت پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کے ایوان میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے،پنجاب کا بجٹ ٹیکس فری ہوگا جبکہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 60فیصد اضافے سے560 ارب روپے،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر10 فیصد اضافے کی تجویز دی دئیے جانے کا امکان ہے جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دینے کی تجویز ہے جس سے مختلف شعبوں کو50 ارب روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے،ریسٹورنٹس میں کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے والوں کو رعایت ملنے کا بھی امکان ہے، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پیش کئے جانے کے موقع پر احتجاج کا امکان ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکمران جماعت نے بھی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ رواں مالی سال 2020-21کے بجٹ کے مقابلے میں 16.04فیصد اضافے سے 359.4ارب روپے زائد ہوگا اور اس کا حجم 2600ارب روپے سے زائد ہوگا۔پنجاب کووفاق سے قابل تقسیم محاصل کی مد میں 1691ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبے کی اپنی مجموعی آمدنی کا اندازہ 360ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے 26.9ارب روپے زائد ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 560ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال کے لئے 402ارب روپے نظر ثانی شدہ ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں 158ارب روپے زائد ہوگا، آ ئندہ مالی سال کے لئے مجموعی ترقیاتی بجٹ میں جاری ترقیاتی سکیموں کے لئے 144ارب روپے،نئی ترقیاتی سکیموں کے لئے 167ارب روپے،ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 100ارب روپے،دیگر ترقیاتی پروگرامز کے لئے 44ارب روپے،فارن اسسٹنس سے ترقیاتی سکیموں کے لئے 83ارب روپے اورپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ترقیاتی سکیموں کے لئے 25ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہوگا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کئی شعبوں پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی اور پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن شعبوں میں سیلز ٹیکس ختم یا کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں انشورنس ایجنٹس اور انشورنس بروکرزاور انٹرٹینمنٹ کے سیکٹرز شامل ہیں،انٹر سٹی کیرج آف گڈز پر 15 فیصد جی ایس ٹی عائد ہے، اسی طرح بجٹ میں کال سینٹرز پر عائد 19.5فیصدسیلز ٹیکس کو 16فیصد،لانڈری اینڈ ڈرائی کلینرز پر ٹیکس کی شرح5فیصد کرنے،رینٹل بلڈرز اینڈ کرین اورسٹیچنگ سروسز پر بھی ٹیکس کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کی پرانی عمارت آج سے تاریخی ورثے کی حامل ہو جائے گی،اس عمارت کی بنیاد17نومبر 1935کو سر جو گندر سنگھ نے رکھی جو اس وقت وزیر زراعت تھے اوریہ عمارت 1938میں مکمل ہوئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.