پنجاب میں موٹر سائیکل رجسٹریشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کاامکان 70 سی سی اور125سی سی کی رجسٹریشن فیس بتادی گئی‎

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی)پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریلیف کے ساتھ ساتھ نئے شعبے ٹیکس نیٹ میں لانے کی حکمت عملی تیارکی گئی ہے ، ٹریکٹر ڈیلرز اور انشورنس بزنس سے وابستہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے اورسیلز ٹیکس انوائس نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی تجویز دی جائے گی۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ موٹر سائیکل رجسٹریشن کے طریق کار میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت موٹر سائیکل کی قیمت کے ایک فیصد کے بجائے مختلف شرح کے نفاذ کی تجویز سامنے آئی ہے،70

سی سی موٹر سائیکل کی رجسٹریشن فیس 1000روپے،71 سے 100سی سی تک رجسٹریشن فیس 1500 روپے،101 سے 125 سی سی تک رجسٹریشن فیس 2000روپے اور150سی سی سے زائد پر موٹر سائیکل کی قیمت کا 2 فیصد رجسٹریشن فیس ہو گی۔الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت الیکٹرک وہیکل کے ٹوکن ٹیکس میں 75 فیصد رعایت دینے کی سفارش کی گئی ہے، ٹریکٹر ڈیلرز کو پروفیشنل ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ذاتی اورکرایہ داری جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس یکساں کرنے کی سفارش کی گئی ہے، انشورنس ایجنٹ اور انشورنس بروکر پر 5 فیصد سروسز ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔زرعی استعمال کے پانی کا آبیانہ دگنا کرنے کی تجویز ہے، صنعتی استعمال کے پانی کا ریٹ 100 سے بڑھا کر 125 روپے فی ہزار کیوبک فٹ،سیمنٹ پلانٹس کے لئے پانی کا ریٹ 100 سے بڑھا کر 150 روپے فی ہزار کیوبک فٹ جبکہ دریاؤں کے پلوں پر صوبائی ٹول ٹیکس بھی بڑھانے کی تجویز ہے۔ کار، جیپ، پک اپ وین کا ٹول ٹیکس 50 فیصد بڑھا کر 30 روپے کرنے کی سفارش ہے۔ چھوٹی بسیں،ٹریکٹر،ویگن اورکمرشل گاڑی کا ٹول ٹیکس 30 سے بڑھا کر 50 روپے کرنے کی تجویز ہے۔شہری آبادی میں آنے والے زرعی رقبے پر ایک فیصد اضافی سٹمپ ڈیوٹی کی سفارش کی گئی، بیوٹی پارلر،فیشن ڈیزائنر،ڈریس ڈیزائنر پر سروسز ٹیکس 16 سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، کال سنٹر پر عائد 19 فیصد ٹیکس 16 فیصد کرنے کی سفارش کی تجویز ہے۔بجٹ اور فنانس بل کے حوالے سے پنجاب کابینہ کے اجلاس میں منظوری دی جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.