بجٹ سے ایک روز قبل تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی ناراض، بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ، حکومت کیلئے بڑی مشکل کھڑی ہو گئی

کراچی (این این آئی)کراچی کے حلقہ این اے 246 لیاری سے منتخب تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شکورشاد پھر وفاقی حکومت سے ناراض ہوگئے۔شکورشاد نے بجٹ میں لیاری کو نظرانداز کرنے پر اجلاس میں شرکت نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ شکورشاد کا کہنا ہے کہ وفاق کی مسلسل نظراندازی پر دلبرداشتہ ہو کر گھر بیٹھ گیا

ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لیاری سے بلاول کوشکست دینے والے کو وفاقی وزیر ہونا چاہیے تھا جمعہ کے دن وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی لیکن وزیراعظم کی طرف سے لیاری کے منصوبوں کو اہمیت نہیں دی گئی۔اس سے قبل بھی شکورشاد ترقیاتی فنڈز اور لیاری کے مسائل حل نہ ہونے کا متعدد بار شکوہ کر چکے ہیں اور انہوں نے پارٹی و پارلیمانی اجلاسوں میں بھی نظرانداز کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ شکور شاد نے وزیر اعظم عمران خان سے اپنے حلقہ این اے 246 کو جاری فنڈذ کی تحقیقات نیب سے کروانے اور فرانسک بنیادوں پر چیک کرانے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھ پر کوئی کرپشن ثابت ہو تو مجھے سرعام ڈی چوک یا چیل چوک پر ریاستی فائرنگ اسکواڈ سے شوٹ کردیا جائے۔دوسری جانب قائد حزب اختلاف سندھ و پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں کہا ہے کہ عالمی جریدے اکانومسٹ کی شہر کراچی کے حوالے سے رپورٹ جاری ہوئی ہے جس میں سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کے پول کھول دیئے گئے ہیں عالمی جریدے نے کراچی کو دنیا کے دس بدترین شہروں میں شمار کیا ہے، وزیراعلی نے بیرون ملک جانے سے قبل یہ رپورٹ ضرور پڑھی ہوگی، یہ سندھ حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے، ڈی ایم سی، کے ایم سی واٹر بورڈ کو

تباہ کرنے والے بھی ذمیدار ہیں، لیکن اصل ذمیدار اس شہر کو جوں کی طرح 14 سال سے لگی پی پی ہے، وزیر پے وزیر تبدیل کیے گئے کہ کون زیادہ بہتر کراچی کو تباہ کرسکتا ہے، کراچی کو تباہ کرکے گٹرستان اور کچرہ کنڈی بنادیا گیا، ایک بس 14 سال میں کراچی کو نہیں دی گئی، کراچی کے اسکول اسپتال تباہ کردیے گئے،

وزیراعلی صاحب اب کچھ اس شہر پر رحم کھالیں، بیرون ملک بیٹھ کر استعفی دے دیں، بہت کھالیا بہت کمالیا اس شہر کو برباد کرکے، کراچی دشمنی پاکستان دشمنی ہے سندھ دشمنی ہے، جو شہر 70 فیصد ریونیو وفاق اور 90 فیصد صوبہ چلاتا ہو اسے تباہ کر دیا گیا، وزیراعلی سندھ کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں انہیں استعفی دینا چاہیے، کراچی دشمنی پر سندھ حکومت کو کراچی والے معاف نہیں کریں گے، حلیم عادل شیخ ں ے مزید کہا کہ سندھ میں

پولیس سرپرستی میں منشیات فروشی کا کاروبار چل رہا ہے پولیس کروڑوں روپے بھتہ وصولی کرتی ہے جس علاقے میں زیادہ منشیات فروشی ہوتی وہاں کے تھانوں کی زیادہ بولیاں لگائی جاتی ہیں سندھ میں منشیات فروشی کے کاروبار کے خلاف ہم احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں 13 جون بروز اتوار کو حیدر چوک سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے جائے گی ریلی میں شرکت کروں گا عوام کو کہتا منشیات فروشی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *