’’عمران خان سے کہامیٹنگ کرو،لگتاہے بہروں سے بات کررہاہوں‘‘

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئین پر صرف 50فیصد ہی عمل کیا۔وزیراعظم کوکہہ چکاکہ میٹنگ ہونی چاہیے لگتاہے میں بہروں سے بات کررہاہوں۔نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخواہ کو زیادہ فنڈ ملنے پر ہمیں اعتراض نہیں،ہمارے اعتراضات سندھ کو نظر انداز کرنے پر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کم ووٹ ملنے پر سندھ کےعوام سے بدلہ لے رہی ہے،جب اپنے عوام کا حق مانگتے ہیں تو الزامات لگائے جاتے ہیں یا مقدمات بنائے جاتے ہیں، سندھ میں 5 سال پرانی اسکیمیں چلی آرہی ہیں، فنانس ڈپارٹمنٹ سندھ کو پورے پیسے نہیں دیتا، این ایچ اے اور فنانس میں سندھ کے لیے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی، پنجاب کو اسکیمیں دی ہیں تو سندھ کو بھی دیں لیکن سندھ میں نئی نئی کمپنیاں بنا کر ادھر ایسٹ انڈیا کمپنی نہ بنائیں،وفاق کو اب خط لکھنا چھوڑ دیاہے، آخری خط میں لکھا تھا شاید میں بہرے لوگوں سے بات کر رہا ہوں، زخموں پر نمک چھڑکنا کوئی وفاقی حکومت سے سیکھے۔منگل کو وزیراعلیٰ ہائوس میں صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے وفاق سے شکوے شکایات کی بھرمار کردی۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں سندھ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے کراچی پروجیکٹ کے نام پر ایک پیسہ نہیں رکھاگیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں ایک وزیر نے اعتراف کیا کہ یوسی کے پروجیکٹس پر پیسہ نہ رکھنے پر اراکین اسمبلی ناراض ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانچ سال پرانی اسکیمیں چل رہی ہیں، فنانس ڈپارٹمنٹ سندھ کو پورے پیسے نہیں دیتا، این ایچ اے اور فنانس میں سندھ کے لیے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ وفاق کے پیسے پر چوہدراہٹ نہیں کرنے دیں گے،

90 ارب روپے سندھ کو دیے، ثابت کرکے بتائیں، پنجاب پر کوئی اعتراض نہیں، اگر وہاں حصہ دیتے ہیں تو سندھ کو بھی دیں۔مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے خدشات کے حوالے سے کل کے اجلاس میں کیا ہوا وہ آپ کو بتانا ہے، آئین کے مطابق نیشنل اکنامک کونسل بنتی ہے، آئین کے مطابق نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس سال میں دو بار ہوتا ہے، میں نے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا مگر یہ اجلاس نہیں ہوئے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران 6 اجلاس کی جگہ

تین اجلاس ہوئے، اس اجلاس کا ورکنگ پیپر ایک دن پہلے ملا تھا جو تیاری ہوسکی اس پر گئے جب دیکھا کچھ نہیں ہورہا تو 5 جون کو میں نے وزیراعظم کو 6 صفحات کا خط لکھا، اس خط کا کوئی تدارک نہیں ہوا، اسی دن ہمیں اور نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان چاہتا ہے کہ روڈ نیٹ ورک بہتر ہو اس سے معاشی بہتری آتی ہے، این ایچ اے میں حصہ 7 ارب سے 15 ارب کردیئے،

پنجاب میں 32 ارب روپے رکھے گئے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ لاہور سے سکھر تک حکومت نے موٹر وے اپنے پیسوں سے بنائی ہے، لاہور موٹروے بننی تھی کراچی سے سکھر موٹر وے بن گئی ہے، این ایچ اے میں ہماریلئے کوئی نیاپروجیکٹ نہیں رکھاگیا، وفاقی فنانس ڈویژن صوبوں کو دینے کیلئے پیسے رکھتی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پنجاب کی 15 اور سندھ کی 2 اسکیمیں پہلے کی ہیں، یہ پہلے کی اسکیمیں ہیں، فنانس ڈیپارٹمنٹ ہمیں پورے پیسے نہیں دیتا، پنجاب کی اسکیمیں بڑھا دی گئیں مگر سندھ کی

ابھی تک وہی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹی وی پر کہہ دینے سے نہیں ہوتا ،دستاویزات میں اصل بات ہوتی ہے، کہتے ہیں 90 ارب روپے سندھ کو دیئے، یہ پیسیثابت کرکے بتادیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے، 9.7 ارب روپے کی اسکیمیں بنائیں، ہمارا اعتراض تھا کہ ہم سے منظور کرائیں، اپنی طرف سے اسکیمیں بنائیں، چلیں وہی دے دیتے

،9.7 ارب روپے کی جگہ 500ملین روپے جاری کئے گئے۔وزیراعلی مرادعلی شاہ نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے کہا کہ یوسی کی سڑک کیلئے آ پ کا نام چل رہا ہے،آپ کو اچھا لگتا ہے، افسوس ہوا جب کہا گیا کہ سندھ حکومت نہیں سندھ کے عوام کو اسکیمیں دیں گے، سندھ حکومت سندھ کی عوام کی نمائندہ ہے، 70 فیصد رقم آپ کے پاس سندھ سے جاتی ہے، آپ کا مرتبہ کیا ہے اور کیسی زبان استعمال کررہے ہیں، میں ایسی زبان استعمال نہیں کررہا، صرف اعداوشمار دے رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ

یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی نہ بنائیں،ہم برداشت نہیں کریں گیبلکہ مزاحمت کریں گے، سندھ کو اس طرح ٹریٹ نہ کریں، دو پاکستان نہ بنائیں۔ آپ خرچ کریں لیکن ہم سے مشورہ تو کریں، ہماری ترجیحات دیکھیں، ہم نمائندے ہیں، آپ نینالوں اور دریاں کی اسکیموں کیلئے کوئی پیسا نہیں رکھا۔وزیراعلی نے کہا کہ کے فور کیلئے وفاق نے 15ارب رکھے ،میں نے کہا کہ یہ پیسے کم ہیں، یہ سب تو پرانی اسکیمیں ہیں مگر نئی اسکیمیں کہاں ہیں، ٹرانسفورمیشن پلان کہاں ہیں اس کی اسکیمیں کہاں ہیں؟ نئی اسکیمیں

صرف یوسی کی گلیاں، نالیاں ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی 17اسکیموں میں سے کوئی نئی اسکیمیں نہیں رکھی گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر سے حیدرآباد موٹروے کی تعمیرات میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے خود وزیر اعظم عمران خان کو کہا تھا کہ ڈرائیو کرکے اس شاہراہ پر لے جاں گا آپ خود اس کی حالت دیکھ لیجئے گا۔انہوں نے کہا کہ سکھر سے حیدرآباد موٹروے کئی برس سے

تاخیر کا شکار ہے کیونکہ ہر سال منصوبے کو ری اسٹرکچر کردیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب مجھے بتایا گیا کہ منصوبے کو حتمی طور پر ری اسٹرکچر کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاق کو اب خط لکھنا چھوڑ دیاہے، آخری خط میں لکھا تھا شاید میں بہرے لوگوں سے بات کر رہا ہوں، زخموں پر نمک چھڑکنا کوئی وفاقی حکومت سے سیکھے۔ ہمارے یہ اعتراضات ہیں ہم ان اعتراضات کو سامنے بھی رکھیں گے، یہ لوگ سندھ میں ووٹ کم پڑنے پر سندھ کے لوگوں کو سزا دے رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ انشااللہ ان کو سندھ کیا پورے پاکستان کے عوام سزا دیں گے، جو ظلم کریگا اسے سزا تو ملنی ہے، یہ تو حقیقت ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ کسی نے کہا تھا کہ سندھ تو ہمارا نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *