معصوم بچیوں کی لاشیں دیکھ کراپنے پوتے اورپوتیاں یادآگئیں وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بات کرتے ہوئے آبدیدہ

گھوٹکی(این این آئی/آن لائن) وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی نے ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہاد کااعلان کرتے ہوئے کہا انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کونشان عبرت بنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی نے شیخ زید اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہانسانی جانوں سے کھیلنے والوں کونشان عبرت بنائیں گے،

ریلوے حکام کی غفلت سے حادثے پرحادثہ ہوا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہادکااعلان کردیاہے ، کرپشن کے خلاف جاری جہادکو انجام تک پہنچاؤں گا، عملے کی بجائے ذمہ دارافسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر ریلوے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور کہا معصوم بچیوں کی لاشیں دیکھ کراپنے پوتے اورپوتیاں یادآگئیں ، کل تک رپورٹ مرتب اورذمہ داروں کا تعین ہوگا۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران کوحقائق سے آگاہ کردیاہے، سکھرڈویژن کاریلویٹریک بوسیدہ ہوچکاہے ، ریسکیوعملے اورریلوے کے مزدوروں کوسلام پیش کرتاہوں ، المناک حادثے میں اب تک58 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ، 00سے زائدزخمی ، 23افرادشیخ زیداسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سگنل سسٹم کی ناکامی اوربروقت اقدام نہ اٹھانے کے باعث حادثہ ہوا، سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک کا استعمال کیا، سگنل سسٹم پر20ارب خرچ ہو چکا ہے ، جومکمل فعال نہیں ہو سکا ، اسی لئے اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے ذریعے چلا رہے ہیں ، 1971 کا بنا ہوا ٹریک30 سال بعد تبدیل ہونا تھا۔ دوسری جانب ڈہرکی ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں کراچی سے لودھراں جانے والی بارات کے 11 لوگ بھی شامل تھے۔اے سی ڈہرکی رضوان نذیر کے مطابق ملت ایکسپریس کی بوگی نمبر6 میں بارات کے 12 افراد میں 11 جاں بحق ہوئے، بارات کراچی سے لودھراں جارہی تھی۔رضوان نذیرکے مطابق باراتیوںمیں صرف ایک بچی زندہ ہے، ورثا نے بچی کو پہچان لیا ہے۔دوسری جانب گھوٹکی ٹرین حادثہ میں شہید ہونے والے ریلوے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ۔دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ ان کے آبائی گائوں میں ادا کی گئی ۔شہید کانسٹیبل دلبر حسین کی تدفین جہانیاں کے مقامی قبرستان میں کی گئی جبکہ شہید کانسٹیبل علی ناصر کی تدفین چاہ بہار شاہ قبرستان ضلع کبیر والا میں ادا کی گئی ۔شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں ریلوے پولیس کے سینئرافسران و جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ آئی جی ریلوے پولیس عارف نواز خان کی جانب سے شہدا کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی ۔آئی جی ریلوے پولیس کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ شہدا کی فیملیز کا ہر سطح پر خصوصی خیال رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت سے ٹرینیں بند کر کے ریلوے کی خراب پٹڑی ٹھیک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں جہاں ٹریک کی حالتخراب ہے وہاں گاڑیوں کی آمد و رفت بند کر کے ہنگامی بنیادوں پہ پٹڑی کی مرمت کی جائے،منفی اور گھٹیا سیاست کی بجائے مستقبل میں ایسے حادثے نہ ہوں پہ غور کرنا چاہیے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ المناک حادثے پہ منفی سیاست افسوسناک اور شرمناک ہے،لوگوں کے خاندان اْجڑ گئے اور حکومتی وزراء اپنی نالائقی کا بوجھ ہمیشہ کی طرح پچھلی حکومتوں پہ ڈالنے کی کوشش میں لگے رہے ،لواحقین کے گھروں میں بچھی صف ماتم کا پارلیمان میں حکومت کی طرف سے مزاق اْڑایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ سعد رفیق نے مثبت نشاندہی کی جو حادثے کی وجہ ہو سکتی ہے، اس پر حکومتی الزام تراشی گھٹیا اور شرمناک رویہ ہے،اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر اور حادثے میں شہید ہونے والوں کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *