کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو پاکستانی ڈاکٹر کی آواز نے سرحد پار دھوم مچا دی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی ڈاکٹر کی گٹار کے ساتھ ”کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو“ گانے کی ویڈیو نے سرحد پار دھوم مچا دی، ملتان کی لیڈی ڈاکٹر نے نصرت فتح علی خان کے گیت کو اپنی آواز دے کرسوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے،پاکستانیوں کے ساتھ بھارتی صارفین بھی داد دیتے نظر آتے ہیں۔انڈین ایکسپریس،نیوز 18اور دیگر میڈیا میں

اس سحر انگیز آواز کے چرچے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر ردا عرفان خان کا تعلق ملتان کے ملٹری اسپتال سے ہے، اس نے اپنے انسٹا گرام، یوٹیوب چینل اور ٹویٹر پر اپنے گیتوں کی کئی ویڈیوز شئیر کی ہیں۔روزنامہ جنگ میں رفیق مانگٹ کی شائع خبر کے مطابق پاکستانی اور بھارتی دونوں طرف سے سوشل میڈیا پر اس آواز کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ کووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک غم کی کیفیت جاری ہے، طبی شعبے سے وابستہ لوگ اس سے زیادہ متاثر ہیں،ایسے میں بہت سے ڈاکٹرشفا یابی کے لئے موسیقی کا رخ کررہے ہیں،ایسے میں پاکستانی ڈاکٹر نے نصرت فتح علی خان کی مشہور غزل”کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ“ گا کر آن لائن لوگوں کے اعصاب کو راحت دی ہے۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر ایک صارف نے اسے مائیکرو بلاگنگ سائیٹ پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ جوبھی ہے اسے ٹی وی پر رہنے کی ضرورت ہے۔انڈین میڈیا نے مقامی نیوز سائیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے سی ایم ایچ ملتان کی ہاؤس آفیسر

بتایا ہے۔یہ نوجوان ڈاکٹر اپنے یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کور اور اصل گیتوں کا اشتراک کررہی ہے۔ کلپ وائرل ہونے پر اس کے فالورز میں زبردست اضافہ ہوا۔ جس پر اس نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کی محبتوں اور حمایت کا شکریہ ادا کیا۔نصرت فتح علی خان کی آواز میں گائے گئے اس گیت کے چند بول جو اس ڈاکٹر نے گائے یہ ہیں:۔

کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو۔۔ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو۔۔آپ اس طرح تو ہوش اڑایا نہ کیجیے۔۔یوں بن سنور کے سامنے آیا نہ کیجیے۔۔نہ چھیڑو ہمیں ہم ستائے ہوئے ہیں۔۔بہت زخم سینے پہ کھائے ہوئے ہیں۔۔ستم گر ہو تم خوب پہچانتے ہیں۔۔تمہاری اداوں کو ہم جانتے ہیں۔۔دغا باز ہو تم ستم ڈھانے والے۔۔فریب محبت میں الجھانے والے۔۔یہ رنگین کہانی تمہی کو مبارک۔۔تمہاری جوانی تمہی کو مبارک۔۔ہماری طرف سے نگاہیں ہٹا لو۔۔ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو۔۔یہ جھوٹی نمائش یہ جھوٹی بناوٹ۔۔فریبِ نظر ہے نظر کی لگاوٹ۔۔یہ سُنبل سے گیسو یہ عارض گُلابی۔۔زمانے ملائیں گے اک دن خرابی۔۔فنا ہم کو کردے نا یہ مسکرانا۔۔ادا کافرانہ چلن ظالمانہ۔۔دکھاو نا یہ اشوہ و ناز ہم کو۔۔سکھاو نا الفت کے انداز ہم کو۔۔کسی اور پر زلف کا جال ڈالو۔۔کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو۔۔ہمیں زندہ رہنے دو اے حُسن والو

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *