ٹرین حادثے کے بعد ایک اور المناک سانحہ،مسافروں سے بھری گاڑی دریائے سندھ میں گر گئی

کوہستان(این این آئی)اپر کوہستان کے علاقہ پانی باہ کے مقام پر مسافر گاڑی دریائے سندھ میں گر گئی، جس میں 14 افراد لاپتہ ہوگئے، ایک خاتون کی لاش مل گئی۔تفصیلات کے مطابق کوہستان میں اپر کوہستان کے علاقے پانی باہ کے مقام پر مسافر گاڑی (ہائی ایس) دریائے سندھ میں گرگئی، گاڑی میں 15 افراد سوار تھے جن میں سے ایک

خاتون کی لاش نکال لی گئی ہے اور باقی 14 افراد لاپتہ ہیں۔ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ گاڑی چلاس کے علاقے تھل پین سے آرہی تھی کہ پانی باہ کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی، گاڑی میں ایک ہی خاندان کے افراد سوار تھے، ریسکیو آپریشن کے دور ان انی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، اور حادثے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمودخان نے اپر کوہستان کے علاقہ داسو باغ میں مسافر گاڑی کو پیش آنے والے حادثے پردلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو فوری موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کرنے اور دریا میں گرنے والے مسافروں کی تلاش کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھا نے کی ہدایت کی۔دوسری جانب گھوٹکی کے ریتی ریلوے اسٹیشن کے قریب دومسافرٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 48 افرادجاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔حادثہ رات ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی 10 سے زائد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور مخالف سمت سے لاہور سے کراچی آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ترجمان پاکستان ریلوے نے تصدیق کی کہ کراچی سے سرگودھا آنے والی ملت ایکسپریس کی

بوگیاں پٹڑی سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں اور راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے مطابق ملت ایکسپریس ٹرین رات 3 بجکر 28 منٹ پر ڈہرکی اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی اور 3 بجکر 43 منٹ پر اطلاع ملی کہ ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر پٹری سے اتر

گئی۔محکمہ ریلوے کے مطابق اسی اثناء میں سر سید ایکسپریس ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر رائٹی سے گزری۔انہوں نے کہا کہ ڈاؤن ٹریک پر موجود بوگیوں کو دیکھ کر ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگانے کی کوشش کی لیکن 3 بجکر 38 منٹ پر سرسید ایکسپریس ٹرین بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *