ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا زخمی مسافرکے تہلکہ خیزانکشافات

گھوٹکی (این این آئی) ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ کے قریب ہوا، ملت ایکسپریس حادثے کے فوری بعد سرسید ایکسپریس ٹریک پر گری بوگیوں سے جاٹکرائی، ملت ایکسپریس کے ڈرائیور کو کمیونیکیشن سسٹم دستیاب ہے، سرسید ایکسپریس نے ولہار سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا، ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر

30 منٹ پر چھوڑا، ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت کرنے والا ہے۔ٹرین حادثے کے ایک زخمی مسافر نے بڑا انکشاف کیا کہ ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا، جس کا ریلوے حکام کو علم تھا، اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر کھڑی رہی۔ مرمت کے بعد ٹرین روانہ کی گئی، تاہم ڈہرکی کے قریب اتنا بڑا حادثہ پیش آگیا۔ادھر سکھر حادثے کے بعد ٹرینوں کو مختلف سٹیشنوں پر روک لیا گیا۔ پشاور جانے والی خیبر میل کو رانی پور سٹیشن پر روک لیا گیا۔ لاہور جانے والی گرین لائن گمبٹ ریلوے سٹیشن، زکریا ایکسپریس گھوٹکی، سر سید ایکسپریس کو پنوعاقل میں روک لیا گیا جبکہ فرید اور شاہ حسین ایکسپریس روہڑی ریلوے سٹیشن پر موجود تھیں۔رحمان ایکسپریس کو رحیم یار خان ریلوے سٹیشن پر روک لیا گیا۔ لاہور جانے والی شاہ حسین ایکسپریس کو ڈیرہ نواب صاحب پر روک لیا گیا۔ کراچی جانے والی عوامی ایکسپریس لیاقت پور ریلوے سٹیشن پر موجود تھی۔

حادثے کے حوالے سے سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد نے بتایا کہ حادثہ صبح 3 بجکر 45 منٹ پر ہوا، میں اور میرا اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار چاک وچوبند تھے۔ڈرائیور اعجاز احمد کے مطابق ڈائون ٹریک پر اپنے سامنے بوگیاں گری دیکھ کر ہم نے ہنگامی بریک لگائی، تاہم اس کے باوجود حادثہ ہو گیا۔ٹرین ڈرائیور نے بتایاکہ سرسید ایکسپریس کی

دو ائیرکنڈیشنڈ بزنس کلاس بوگیاں اور ایک ڈائیننگ کار حادثے میں متاثر ہوئی ہے جبکہ حادثے کا شکار ہوئی دوسری ٹرین ملت ایکسپریس کی 3 اے سی بزنس،8 اکانومی کلاس بوگیاں ڈائون ٹریک پر گری ہیں۔وزیراعظم نے گھوٹکی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دے دیا۔ عمران خان نے کہا کہ وزیر ریلوے کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے، ریلوے سیفٹی کی خرابیوں کی جامع تحقیقات کی جائیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر ریلوے اعظم سواتی حادثے کی جگہ چلے گئے۔ اعظم سواتی نے کہا24 گھنٹے میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ دی جائے گی، حادثے کی انکوائری خود کروں گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *