کاش! لوگ عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے جتواتے تو ہم……. ، شاہ محمود قریشی

ملتان(این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیاست سے میں نے جو لینا تھا لے لیا، سیاست اپنے لیے نہیں کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے کرتا ہوں،عمران خان کہتے ہیں سب کچھ دینے کیلئے تیار ہیں، این آر او نہیں،2023 کے الیکشن میں بھی اونٹ اسی کروٹ بیٹھے گا، یہ میری پیشن گوئی ہے سب لکھ لیں،ہم رہیں

نہ رہیں جنوبی پنجاب کاخواب اب کوئی چرانہیں سکتا۔ اتوار کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انسان ایک دوسرے سے چیزیں پوشیدہ رکھتے ہیں تاہم اللّٰہ سے نہیں، اللّٰہ کی رحمت کے بعد عمران خان کے اعتماد اور عوام نے مجھے اس مقام پر پہنچایا شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاست سے میں نے جو لینا تھا وہ لے لیا، یاست اپنے لیے نہیں کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کے ساتھ تین مرتبہ خانہ کعبہ اورتین مرتبہ آقائے دوجہاں کے حجرے میں گیا ہوں، مجھ میں کوئی خوبی نہیں ہے یہ سب میرے مالک کا کرم ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان نے محسوس کیا لوگ مافیا کی لوٹ کھسوٹ سے تنگ ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے حوصلہ نہیں ہارا۔ عمران خان جب شوکت خانم اور نمل کے لیے نکلے تو انہیں پتہ چلا کہ لوگ گلے سڑے نظام سے تنگ آ چکے ہیں، ایک دور تھا جب عمران خان کی پارٹی کا ٹکٹ کوئی نہیں لیتا تھا، 2023 کے الیکشن میں بھی اونٹ اسی کروٹ بیٹھے گا، یہ میری پیشن گوئی ہے سب لکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بھی سیاست کا آغاز شکست سے کیا، ضلع کونسل کا الیکشن لڑا اور ہار گیا، عمران خان کہتے ہیں سب کچھ دینے کیلئے تیار ہیں لیکن این آر او نہیں۔شاہ محمود نے کہا کہ پیپلز پارٹی چھوڑی تو آصف علی زرداری نے پیغام

بھجوایا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں ٹو پارٹی سسٹم اگر کسی نے توڑا تو وہ عمران خان ہیں، ہم بھی انتخابی اصطلاحات چاہتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم رہیں نہ رہیں جنوبی پنجاب کاخواب اب کوئی چرانہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کاش! مرکز اور پنجاب کے لوگ عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے جتواتے تاہم پھر بھی ہم مایوس

نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کے منشورکے دفاع کے لیے سپاہی بن کرپہرہ دوں گا۔وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کو منشور میں شامل کیا۔ انہوں ے کہا کہ ملتان میں میٹرو اور فلائی اووربن گئے مگر بنیادی مسائل برقرارتھے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان

کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کا سالانہ ترقیاتی پروگرام علیحدہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے فنڈزدوسرے علاقوں میں نہیں جائیں گے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو ہم صوبہ بنا دیتے۔انہوں نے حکومت پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے اس خطے سے

وعدے کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ 20 دسمبر کے رولزاینڈ بزنس سے متعلق فیصلے پرعملدرآمد میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لیے بجٹ میں پیسہ رکھا گیا مگر خرچ کیوں نہیں ہوا؟مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پنجاب حکومت اس معاملے کوجلد حل کریگی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *