صوبائی حکومت کا کرونا پابندیوں میں نرمی کا اعلان پیر سےمارکیٹس،دکانوں سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا گیا

کراچی(این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ اگر اسکول کھولنا ہے تو تمام اساتذہ کو ویکسین لگانا ضروری ہے، اگر کوئی دکاندار دکان کھولنا چاہتا ہے تو اسے بھی ویکسین لگوانی ہوگی،ہم بندشیں کھولنے کی طرف جارہے ہیں، ابھی یہ وبا گئی نہیں ہے یہ موجود ہے،احتیاط جاری رکھنی ہے، یہ وبا ہاتھ سے نکلی تو بڑے بڑے ممالک کی حالت آپ نے دیکھی ہے،لہٰذا ایس او پیز کو

فالو کریں اور حکومت کی مدد کریں،گزشتہ 7 سال سے صوبے کو وفاق کی جانب سے کوئی نئی اسکیم نہیں دی گئی اور جب وفاق سے بات کرو تو لگتا ہے بہرے لوگوں سے بات کررہا ہوں۔وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ماس ویکسی نیشن ایکسپو سینٹر ہال نمبر 3 کا افتتاح کر دیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ویکسی نیشن کرانی چاہیئے، یہ ہم سب کے فائدے کی چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کرائیں تاکہ ہم دوبارہ نارمل زندگی کی طرف آ سکیں، ہم ریڈ لسٹ میں اس لیئے ہیں کہ ہمارے یہاں ویکسی نیشن نہیں ہوئی، فرنٹ لائن ورکرز نے جس طرح کام کیا ہے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ تمام سرکاری ملازمین کو جون میں پہلا ڈوز لگادیں گے، 75فیصد پولیس فورس کے لوگوں کو ویکسینیٹ کرچکے ہیں، حکومت کی طرف سے 90 فیصد فرنٹ لائن ورکرزکو ویکسینیٹ کردیاگیا ہے، اس وقت سندھ میں1 لاکھ سے زائد ایک دن میں ویکسی نیشن کی جارہی ہے، نئے ہال کی وجہ سے ہم یومیہ ویکسی نیشن کو2 لاکھ تک لیکرجائیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں یومیہ 2 لاکھ ویکسینیشن کرانے کا ہدف ہے، ہم نے تقریبا3 کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن کرنی ہے، پوری دنیا میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، اگر ہم نے معمولات زندگی بحال کرنے ہیں تو شہریوں سے درخواست ہے کہ ویکسین لگوائیں، تمام دکانداروں کو ویکسینیشن کرانا ہوگی، اگرا سکول کھولنا ہے تو تمام اساتذہ کی ویکسی نیشن ضروری ہے، ویکسین نہ لگانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکیں گے، ہم تمام فیصلے عوام کی بہتری کو دیکھتے ہوئے کریں گے۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کو ویکسین لگانے کا کہا ہے، جو سرکاری ملازمین ویکسین نہیں لگوائیں گے ان کی تنخواہیں روک لیں گے، ہم اپنی طرف سے پابندیاں ہٹانے کی طرف جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم جلد بحالی کی طرف جائیں گے اور پابندیاں ختم ہوں گی، زیادہ سے زیادہ لوگوں سے درخواست کروں گا کہ وہ ویکسین لگوائیں، لوگوں کو اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں، حکومت کے سفیر بن کر لوگوں کے پاس جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ویکسین لگوائیں۔وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وبا موجود ہے، ہمیں احتیاط جاری رکھنی ہیں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ سندھ میں اموات کی شرح کم ہے، ہمارے پاس کورونا سے بحالی کی شرح اس وقت سب سے زیادہ ہے، ویکسین لگانے کے بعد بھی ایس او پیز پر عمل در آمد ضرور کریں، ٹاسک فورس میں پولیس، رینجرز، ڈاکٹرز، سب موجود ہوتے ہیں،

ٹاسک فورس میں ہم مل کر متفقہ فیصلے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی مدد کریں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ بحالی کی طرف جائیں، میں نے ویکسین کی دونوں ڈوز لگوا لی ہیں مگر ماسک پھر بھی پہنتا ہوں، اس وبا کا مذاق اڑانا زیادتی ہے، پنجاب میں کورونا کیسز بڑھے تو پابندیوں پر تمام جماعتوں نے ساتھ دیا، یہاں ان ہی جماعتوں نے سیاست کرنا شروع کر دی۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں کورونا کی

ویکسینیشن کا عمل 3 فروری 2021 میں شروع کیا گیااور اب تک مجموعی طور پر13لاکھ افراد کو ویکسین لگا چکے ہیں، کراچی میں اب تک 8 لاکھ لوگوں کی ویکسینیشن ہوچکی ہے، اور تقریبا 90 فیصد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگ چکی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ گزشتہ 7 سال میں سندھ کو کوئی اسکیم نہیں دی گئی، اور اس بار بھی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ میں پچھلی حکومت کے آخری دنوں میں 27 اسکیمیں تھیں، اس وقت وفاقی حکومت نے

صرف 6 اسکیمیں سندھ کے لیے رکھی ہیں، سندھ کے لیے وفاق نے ابھی کوئی نئی اسکیم نہیں رکھی ہے، کینجھر جھیل سے کراچی کے لیے پانی لانے کی اسکیم بھی وفاق نے ختم کی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو وفاق کی جانب سے سڑکیں بنانے کے لیے فنڈز دیئے جا رہے ہیں، لاہور سے سکھر تک وفاق اپنے پیسوں سے روڈز بنا رہا ہے، سکھر سے روڈ کے لیئے کہا گیا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ پر بنے گا،

سندھ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟۔مراد علی شاہ نے کہاکہ ہم نے جب وفاق کو خط لکھا تو لگتا ہے بہرے لوگوں سے بات کررہا ہوں، خط میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ تعصب برت رہی ہے، یہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کردیا گیا ہے، پنجاب کے سڑکوں کے منصوبوں کے لیے وفاق نے پیسے دیئے، ہمیں پنجاب اور

خیبرپختون خوا بلوچستان میں ترقی پر خوشی ہے، لیکن سندھ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اب اس کے بعد لوگ میرے پیچھے پڑ جائیں گے، مگر میں بہرے لوگوں سے مخاطب ہوں، یہ کہیں گے کہ ہم نے گلیاں اور نالے بنائے ہیں، انہوں نے گلیاں اور نالے صوبائی حکومت سے مشورے کے بغیر بنائے ہیں، احتجاج کرنے کا حق ہر کسی کو حاصل ہے، آئین کے دائرے میں

احتجاج کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں سندھ کے پانی کا مسئلہ اسمبلی میں لے کر گیا تھا، اس وقت پانی کے مسئلے پر تمام جماعتوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا تھا، میں کہتا ہوں کہ سندھ کو پانی دیا جائے، وہ کہتے ہیں کہ آپ پانی چوری کرتے ہیں، کرپشن کے نئے دروازے وفاق نے کھول دیئے ہیں۔اس سے قبل وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دی کہ سندھ میں 380ویکسی نیشن سینٹرز ہیں،

ان میں سے 115ویکسی نیشن سینٹرزکراچی میں کام کر رہے ہیں، ایکسپو سینٹر کے ویکسی نیشن سینٹر میں ایک نئے ہال کا اضافہ کیا گیا ہے،ویکسی نیشن سینٹر میں اب دو ہالز میں ویکسین لگیں گی۔عذرا پیچوہو نے بتایا کہ نئے ہال کو تین بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے، 24گھنٹے کے دوران 3شفٹ میں 170 ہیلتھ ورکرز کام کرینگے، گنجائش بڑھنے سے ہفتہ وار40ہزارسیزائد شہریوں کوویکسین لگ سکے گی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہر صوبے کیلئے موبائل ویکسی نیشن ٹیم بھی تشکیل دیرہے ہیں، 9123 پر عوام موبائل ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *